22 اکتوبر 2019
تازہ ترین

’’جمہوری سب جیل‘‘ ’’جمہوری سب جیل‘‘

لنکن کے بقول جمہوریت کی عام فہم تعریف ہے عوام کے لیے، عوام کے ذریعے، عوام کی حکومت۔ جمہور کا مطلب عوام MASSES ہے۔ جمہور کی حکومت کا مطلب تو عوام کی حکومت ہوا نا؟ جب حکومت عوام کی ہو تو اس میں عوام کی طبقوں میں تقسیم تو نہیں ہوا کرتی۔ رنگ نسل، مذہب، علاقہ، امیری غریبی جمہوریت کی کامیابی میں رکاوٹ نہیں بن سکتے، جمہوریت میں آزادی تحریر و تقریر ہوتی ہے۔ جمہوریت میں برابری کی بات کی جاتی ہے۔ انسانی حقوق کی بات لازم ہوا کرتی ہے۔ دولت کی غیر منصفانہ تقسیم کو روکا جاتا اور وسائل کو برابری کی سطح پر تقسیم کیا جاتا ہے۔ ملازمت کے یکساں مواقع سب کے لیے فراہم کرنا لازم ہوتا ہے۔ خواتین کے بنیادی حقوق کی پاسداری کی جاتی ہے۔ جمہوریت میں اقتدار کی تقسیم کچھ اس طرح کی جاتی ہے کہ اس کے ’’ثمرات‘‘ نچلی سطح تک محسوس ہوتے ہیں۔ دنیا کی بڑی جمہوریتیں پارلیمانی طرز حکومت پر مشتمل ہیں جب کہ امریکی جمہوریت طاقت کا منبع صدر کی ذات کو بناتی ہے۔ جمہوریت کے ثمرات ہمیشہ عوام کے مفاد میں وسیع اور نہایت نچلی سطح تک ہوا کرتے ہیں۔ ہماری بدقسمتی کہ یہاں اول تو ہمیں جمہوریت سے محروم رکھا گیا اور جب کبھی ملک کے دو ٹکڑے ہونے یا پھر کسی غاصب کے جہاز گرنے سے جمہوریت آئی بھی تو ہمیں راس نہیں آتی یا پھر طالع آزماؤں، آمروں کو اقتدار کا نشہ ایسا لگ چکا تھا کہ جمہوریت جو عوام کی نمائندہ حکومت ہوا کرتی ہے، انہیں بھلی نہیں لگتی تھی۔ جب تک اس پر سے آمریت کے اثرات ختم ہونا شروع  ہوتے، دوبارہ سے کوئی طالع آزما اسے ختم کرکے اقتدار پر غاصبانہ قبضہ کرلیتا۔ جب عوام کو اپنے فیصلوں میں شریک نہیں کیا جائے گا تو ایسی جمہوریتوں کے جنازے آمروں کے ہاتھوں ہی نکلا کریں گے۔ جمہوریتوں کے جنازے ہوں گے اور عوام کو بے بس اور مجبور کرنے والے سیاستدانوں کے کندھے۔ 
عوام کے حقوق کی بات کرنے اور اس پر عمل درآمد کرنے میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے۔70 کی دہائی کے بعد پاکستان کے عوام مرحلہ وار ’’پاتال‘‘ میں پھینکے گئے۔ عوام کی بات کرنے والا کوئی بھی لیڈر پاکستان میں نظر نہیں آیا۔ بھٹو کا عوام کے حقوق کی بات کرنے کے تناظر میں ’’مہلک انجام‘‘ کے بعد کسی بھی لیڈر کی جرأت نہ ہوئی کہ وہ عوام کے حقوق اور ان کے مسائل کی بات کرتے ہوئے سامراج اور آمروں کی آنکھ میں آنکھ ڈال سکے۔ آمروں کے آشیرواد سے سیاست اور بیرونی دنیا سے ان کی مرضی کے وعدے کرکے اقتدار میں آنے والے سیاستدانوں میں اتنی ہمت اور طاقت ہی نہیں کہ وہ جمہور اور جمہوریت کی حفاظت کرسکیں۔ جب سیاست کو ’’طاقت اور مالی مفاد‘‘ کے حصول کے لیے اختیار کیا جائے گا تو پھر وہ عوام اور جمہوریت کے ساتھ ’’دھوکا‘‘ ہی ہوگا۔ دنیا کے 167 ملکوں میں اس وقت جمہوریت ہے اور پاکستان بھی ان میں سے ایک ہے۔ قائداعظمؒ کے بقول ’’پاکستان کی تشکیل کا مقصد عوام کی فلاح و بہبود ہے اور عوام کو اس  ملک میں حق حاصل ہوگا کہ وہ اپنے رہنما کا انتخاب بذریعہ ووٹ کریں اور پھر اس رہنما کا فرض ہوگا کہ وہ دن رات اپنی قوم کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرے۔‘‘ ونسٹن چرچل کے مطابق ’’عوام کا جمہوریت میں بنیادی کردار ہوا کرتا ہے۔ شہری جمہوریت کے اجزائے ترکیبی کا اصل مرکب ہوا کرتے ہیں۔ اگر عوام جمہوریت کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں تو ان کو خود کو مضبوط کرنا ہوگا۔ عوام کو اپنی نمائندگی کے لیے نیک اور صالح امیدواروں کو چُننا لازم ہوتا ہے جو ان کے مسائل کو حل کرسکیں۔‘‘ نوجوان ملک کی آبادی کا 65 فیصد ہیں اور میرا اپنا پختہ خیال ہے کہ اگر یہ تناسب باشعور ہو تو مستقبل کے تمام فیصلوں میں یہ 65  فیصد  فیصلہ کن کردار ادا کرے۔ قائداعظم محمد علی جناحؒ کے بقول، ’’ہمارے نوجوان سیاسی شعور سے آراستہ اور ملکی ترقی  کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے چاہئیں۔ نوجوان پاکستان کا مستقبل ہیں اور مستقبل کو روشن ہونا چاہیے۔‘‘ رابرٹ پیٹرک کے مطابق جس ملک میں جمہوریت کی شرح بہتر ہوگی، اس میں شرح غربت کم ہوگی۔‘‘ 
پاکستان کی اس وقت جمہوریت کی سطح 4,5 فیصد ہے اور ناروے کی شرح جمہوریت 9,5 ہے۔ جب ہم کم شرح غربت دیکھتے ہیں تو ناروے ٹاپ پر آتا ہے، اس کا شمار دنیا میں سب سے کم شرح غربت والے ملک کے طور پر ہوتا ہے جب کہ پاکستان کا شمار  100 سے بھی اوپر ہوتا ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ ہزاروں خاندان غربت کی لکیر سے نیچے جارہے ہیں۔ ثابت ہوتا ہے کہ شرح غربت اور جمہوریت کا آپس میں گہرا تعلق ہے اور ’’اصل  جمہوریت‘‘ کے مضبوط ہونے سے شرح غربت میں بھی نمایاں کمی آتی ہے۔
پاکستان کی بدقسمتی کہ ماضی میں جمہوریت کا نام لے کر عوام کو بُری طرح لوٹا گیا اور ان سے جھوٹ بول کر ان کے خواب بھی چھین لیے گئے۔ ماضی کے غیر جمہوری حکمرانوں نے عوام کو اپنے مقصد  کے لیے استعمال کیا اور اب عوام  کی اکثریت سمجھتی ہے کہ  نواز شریف، آصف علی زرداری یا پھر عمران خان ہی  جمہوریت ہیں۔ اصل جمہوریت میں فرد واحد کی کوئی اہمیت نہیں ہوا کرتی۔ گو ایک بڑا سیاسی رہنما جمہوریت پسندی کی راہ پر چل کر ناصرف ملک کو مضبوط کرتا ہے، بلکہ جمہوریت کے ثمرات عوام تک پہنچاکے انہیں خوش حال بھی کرتا ہے۔۔۔ آج بھی قومی اسمبلی سمیت چاروں صوبائی اسمبلیوں میں جو کچھ ہورہا ہے، اس پر ہر ذی شعور انسان سوچ رہا اور سوال کرنے میں حق بجانب ہے کہ اگر یہ جمہوریت ہے تو پھر اس ملک و قوم  کا اللہ ہی حافظ۔۔۔ اندازہ کریں کہ جس ملک میں کروڑوں اربوں کی کرپشن میں ملوث سپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کو نیب کیس میں جیل سے بچانے کے لیے سپیکر چیمبر سندھ اسمبلی کو سب جیل قرار دے دیا جائے تو پھر کون سی جمہوریت اور کون سی اسمبلیاں؟ جیل دنیا بھرمیں جرائم پیشہ افراد کے لیے ناصرف ’’مخصوص‘‘ ہوتی ہے بلکہ ’’باعث عبرت‘‘ بھی۔۔۔ اس حقیقت کو مدنظر رکھنے کے بعد کہ سپیکر سندھ  اسمبلی پر کروڑوں کی کرپشن کے الزامات ہیں اور وہ جوڈیشل ریمانڈ پر ’’حوالہ جیل‘‘ ہیں اور بدنام زمانہ ’’پروڈکشن آرڈرز‘‘  کے تحت اسمبلی کے اجلاسوں کی صدارت کرتے ہیں۔ جب پاکستان کے دوسرے بڑے صوبے کے ’’سپیکر چیمبر کو سب جیل‘‘ قرار دے دیا جائے تو پھر یقین کرلینا چاہیے کہ اسمبلی اور جیل میں کوئی ’’فرق‘‘ نہیں رہ گیا...