17 ستمبر 2019
تازہ ترین

جاتی امرا کی راجکماری   (2) جاتی امرا کی راجکماری (2)

رانی اس جنگ میں مردانہ لباس پہن کر شریک ہوئی اور یہی اس کی آخری جنگ تھی کیونکہ اس سے اگلے روز 18 جون 1858 کو 29 سالہ رانی لکشمی بائی زندگی کی بازی ہار گئی تھی۔
رانی کی بہادری اور شجاعت حقیقت ہونے کے باوجود کسی فسانے سے کم نہیں۔ انگریزوں کی طرف سے رانی کے قاتل دستے کا سربراہ کیپٹن روڈرک برگز وہ پہلا شخص تھا جس نے جھانسی کی رانی کو اپنی آنکھوں سے جنگ کے میدان میں لڑتے دیکھا۔ بقول اس کے، رانی نے گھوڑے کی لگام دانتوں میں دبا رکھی تھی، دونوں ہاتھوں سے تلوار چلا رہی تھی اور ایک ساتھ دونوں طرف وار کر رہی تھی۔
اینٹونیا فریزر اپنی کتاب ’دی واريئر کوئین‘ میں لکھتی ہیں: کوٹا کی سرائے کے آخری معرکے میں رانی شدید زخمی ہو کر جب گھوڑے سے گری تو اس کے فوجی اسے قریبی مندر میں لے گئے۔ مہا پجاری نے رانی کے خشک ہونٹوں کو ایک بوتل میں رکھے گنگا جل (دریائے گنگا کے پانی) سے تر کیا۔ رانی کی حالت بے حد خراب تھی اس لیے پجاریوں نے رانی کے لیے آخری پرارتھنائیں شروع کر دیں۔ اس کے زخم سے نکلنے والا خون پھیپھڑوں میں جمع ہونے لگا اور پھر آہستہ آہستہ اس کی سانسیں ڈوبنے لگیں۔
رانی نے نہایت مدھم آواز میں اپنا آخری جملہ ادا کیا ’انگریزوں کو میرا جسم نہیں ملنا چاہیے‘۔ یہ کہتے ہی اس کا سر ایک طرف جھک گیا، سانس ایک بار تیز ہوئی اور پھر سب پُرسکون۔ جھانسی کی رانی لکشمی بائی کی روح پرواز کر چکی تھی۔ رانی کے چند محافظوں نے فوراً لکڑیاں جمع کیں اور اس کے جسم کو ان پر رکھ کر آگ لگا دی۔
کیپٹن روڈرک برگز کی قیادت میں جب انگریز مندر میں داخل ہوئے تو وہاں خاموشی تھی تاہم رانی کے کئی درجن سپاہیوں اور مندر کے پجاریوں کی خون میں سنی لاشوں کے علاوہ ایک چتا بھی روشن تھی جس کی لپٹ اب مدھم پڑ چکی تھی۔ انگریز فوجیوں نے اپنے بوٹوں سے آگ بجھانے کی کوشش کی تو انہیں جلتے ہوئے انسانی جسم کی باقیات نظر آ گئیں ۔۔۔ اور وہ جسم کسی اور کا نہیں بلکہ جھانسی کی رانی لکشمی بائی کا تھا۔
رانی انگریزوں کو یہ پیغام دینے میں کامیاب رہی تھی کہ وہ اسے زندگی میں پکڑ سکے نہ موت کے بعد۔
اس وقت جھانسی بھارتی ریاست اتر پردیش کا ایک ضلع ہے جبکہ رانی کی سمادھی ایک اور ریاست مدھیا پردیش کے شہر گوالیار کے پھول باغ میدان میں واقع ہے لیکن گزشتہ کچھ عرصے سے پاکستان میں بھی ایک رانی جھانسی پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جس کا سہرا وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کے سر جاتا ہے۔ انہوں نے کچھ عرصہ قبل پاکستان مسلم لیگ نون کی نائب صدر مریم نواز کو ’راجکماری‘ قرار دیا تو شاید وہ انہیں شہ دینا چاہتی تھیں کہ وہ بھی میواڑ کی رانی پدماوتی یا جھانسی کی رانی لکشمی بائی کی طرح کا کوئی کارنامہ کر گزریں۔
مریم نواز نے بھی ڈاکٹر صاحبہ کو قطعی مایوس نہیں کیا لیکن وہ رانی پدماوتی کی طرح ’جوہر‘ (اجتماعی ستی) تو برپا نہیں کر سکیں البتہ انہوں نے رانی لکشمی بائی کی طرح جھانسی کے بلند ترین برج سے گھوڑے سمیت چھلانگ ضرور لگا دی۔
چند روز قبل انہوں نے پریس کانفرنس میں ایک وڈیو اور آڈیو ٹیپ کے ذریعے ثابت کرنے کی کوشش کی کہ اسلام آباد احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے نیب ریفرنسز میں ان کے والد سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کو دباؤ کے تحت سزا سنائی تھی، اس لیے یہ غیر قانونی ہے۔
پریس کانفرنس سے ڈاکٹر فروس عاشق اعوان بُری طرح تلملائی ہوئی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ آڈیو ویڈیو کے ساتھ بے نامی راجکماری کا کردار سامنے لانا بھی ضروری ہے۔ راجکماری انڈر ٹرائل ہیں، ان کا اپنا کیس چل رہا ہے، وہ قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکتیں جبکہ جج کو سکینڈلائز کرنے پر قانونی کارروائی بھی ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب خود جج صاحب نے ایک پریس ریلیز کے ذریعے حسب توقع آڈیو ویڈیو کی صحت سے انکار کر دیا ہے جبکہ وزیراعظم عمران خان نے بھی کہا ہے کہ مبینہ ویڈیو کا فرانزک آڈٹ ضروری ہے، عدلیہ وڈیو لیک پر جو فیصلہ کرے، حکومت مکمل سہولت دے گی۔
رانی جھانسی اور انگریزوں کی لڑائی کا انجام رانی کی چتا جلنے پر ہوا تھا۔ پاکستان میں سیاسی چتائیں جلانے کا رواج بھی روز اول سے چلا آ رہا ہے، لہٰذا اب دیکھنا یہ ہے کہ اس نئی لڑائی میں چتا کس کی جلتی ہے۔