19 نومبر 2019
تازہ ترین

جاتی امرا کی راجکماری جاتی امرا کی راجکماری

’ہم اپنی جھانسی نہیں دیں گے‘۔
یہ وہ تاریخی جملہ ہے جسے ہندوستان کی جنگ آزادی میں حصہ لینے والی اس بہادر رانی سے منسوب کیا جاتا ہے جس نے انگریزوں کے سامنے گھٹنے ٹیکنے سے ناصرف انکار کیا بلکہ انہیں وہ ناکوں چنے چبوائے کہ اس کے بدترین دشمن اور حملہ آور انگریز جنرل سر ہوگ روز کو کہنا پڑا کہ
Rani Lakshmibai is personable, clever and beautiful and she is the most dangerous of all Indian leaders
رانی نے جنرل سر ہوگ روز کی قیادت میں آنے والی فوج کا ڈٹ کر مقابلہ کیا لیکن حملہ آور رانی کے سپاہیوں سے بیس گنا سے بھی زیادہ تھے چنانچہ جب انگریزوں نے اسے گھیر لیا تو اس کے پاس فرار کے سوا کوئی راستہ باقی نہ بچا۔ رانی بہادر عورت تھی چنانچہ اس نے جھانسی قلعہ کے انتہائی بلند ترین مقام سے اس عالم میں گھوڑے سمیت چھلانگ لگائی کہ اپنے بیٹے دامودر کو کمر کے ساتھ باندھ رکھا تھا، گھوڑے کی لگامیں دانتوں میں دبا رکھی تھیں اور دونوں ہاتھوں میں تیز دھار تلواریں تھامی ہوئی تھیں۔
بعض روایات میں ہے کہ انتہائی بلندی سے چھلانگ لگانے کے باعث رانی کا گھوڑا مر گیا تھا اور اسے دوسرے گھوڑے پر سوار ہونا پڑا لیکن واقعہ کچھ بھی ہو، حقیقت یہ ہے کہ انگریزی فوج اسے روکنے میں ناکام رہی اور وہ دونوں ہاتھوں سے تلوار چلاتی، دشمنوں کو چیرتی کاٹتی، زندہ سلامت جھانسی سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئی تھی۔
دنیا ہندوستان کی جنگ آزادی کی صف اول کی اس مجاہدہ اور انگریزوں کی خطرناک دشمن کو لکشمی بائی (19 نومبر 1828۔ 18 جون 1858) کے نام سے جانتی ہے جو شمالی ہندوستان کی ریاست جھانسی کی رانی تھی۔
راجکماری لکشمی بائی، ورنارسی کے مراٹھی ہندو برہمن موروپنت تامبے اور اس کی بیوی بھاگیرتی سپرے (بھاگیرتی بائی) کے ہاں مانی کارنیکا تامبے (منو یا مانو) کی حیثیت سے پیدا ہوئی۔ اس کا خاندان مہاراشٹر سے آ کر یہاں آباد ہوا تھا۔ چار سال کی عمر میں مانی جب اپنی ماں کی گود سے محروم ہوئی تب موروپنت ریاست بٹھور کے دربار سے وابستہ تھا چنانچہ مانی کی پرورش بٹھور کے راج محل میں ہوئی۔ راجہ پیار سے مانی کو ’چھبیلی‘ کے نام سے پکارتا اور سگی بیٹی سے بڑھ کر پیار کرتا تھا۔
مراٹھہ بادشاہت کے پیشوا نانا صاحب اور جنگ آزادی میں انگریزوں کے ایک اور بڑے دشمن جرنیل تاتیا توپ، مانی کے بچپن کے دوست تھے چنانچہ تینوں نے راج محل میں ایک ساتھ نشانہ بازی، تلوار بازی، گھڑ سواری، کشتی اور جنگی چالوں کی تربیت حاصل کی۔ مئی 1842 میں اس کی شادی جھانسی کے راجہ گنگا دھر راؤ سے کر دی گئی اور تیرہ سالہ راجکماری مانی کارنیکا، رانی لکشمی بائی بن گئی۔
مانی کا چلبلا پن رانی بن کر بھی ختم نہ ہوا اور وہ جھانسی میں بھی چند محافظوں کے ہمراہ اکثر ’رانی محل‘ اور مندر کے درمیان گھڑ سواری کرتی رہتی۔ اس کے محبوب گھوڑوں کے نام سارنگی، پون اور بادل تھے لیکن مؤرخین کے بقول وہ جھانسی سے ’بادل‘ پر فرار ہوئی تھی۔
1851 میں اس نے ایک بیٹے دامودر کو جنم دیا جو محض چار ماہ ہی زندہ رہ سکا۔ راجہ گنگا دھر راؤ نے اپنے بھانجے آنند راؤ کو متبنیٰ بنایا اور اس کا نام دامودر رکھ کر سگا بیٹا قرار دے دیا۔ اس موقع پر مہاراجہ کی طرف سے ایک سرکاری خط جھانسی میں موجود برٹش پولیٹیکل آفیسر کے حوالے کیا گیا جس میں ہدایت کی گئی تھی کہ بچے کو تمام سرکاری اعزازات دیے جائیں اور اس کی بیوہ لکشمی بائی کو جھانسی کی تاحیات رانی تسلیم کیا جائے۔
لیکن نومبر 1853 میں راجہ کے انتقال کے بعد ایسٹ انڈیا کمپنی اور ہندوستان کے گورنر جنرل لارڈ ڈلہوزی نے متبنیٰ بیٹے کو نیا حکمران ماننے سے انکار کرتے ہوئے جھانسی کو ایسٹ انڈیا کمپنی میں ضم کرنے کا اعلان کر دیا۔ جب اس فیصلے کی اطلاع محل پہنچی تو رانی ذبح کیے جانے والے بکرے کی طرح چیخی اور وہ جملہ ادا کیا جو اب تاریخ کا حصہ ہے۔
’ہم اپنی جھانسی نہیں دیں گے‘۔
لیکن ایسٹ انڈیا کمپنی کے کانوں پر جوں بھی نہ رینگی اور مارچ 1854 میں رانی کے لیے ساٹھ ہزار روپے سالانہ پنشن کا اعلان کرتے ہوئے محل اور قلعہ خالی کرنے کے احکامات صادر کر دیے گئے۔
اسی دوران 10 مئی 1857 کو میرٹھ سے جنگ آزادی کا آغاز ہوا تاہم جھانسی پُرسکون تھا لیکن رانی نے 1857 کے موسم گرما میں ’ہلدی کم کم‘ کا تہوار منایا جس میں خواتین، شادی شدہ ہونے کی نشانی اور شوہروں کی دارزی عمر کی دعا کے طور پر ایک دوسرے کو ہلدی اور سیندور کا تحفہ دیتی ہیں۔ کہتے ہیں کہ اس موقع پر رانی نے ریاست کی خواتین کو یہ بھی باور کرایا تھا کہ انگریز بزدل ہیں اور ان سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔
یہاں تک کی صورت حال کے مطابق رانی، انگریزوں کے خلاف بغاوت کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی تھی لیکن جون 1857 میں بارہویں بنگال نیٹیو (Native) انفنٹری نے جھانسی کے مرکزی قلعہ پر حملہ کر کے خزانہ اور اسلحہ لوٹ لیا۔ حملہ آوروں نے قلعہ کی حفاظت پر مامور انگریز فوجیوں کو پیشکش کی کہ وہ اگر ہتھیار ڈال دیں تو انہیں کچھ نہیں کہا جائے گا لیکن بعد ازاں گیریژن کے 40 سے 60 انگریز افسروں کو ان کے بیوی بچوں سمیت موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ اس قتل عام میں رانی کا کردار اب بھی قابل بحث ہے تاہم بغاوت کے بعد ایک فوجی ڈاکٹر تھامس لوو (Thomas Lowe) نے اسے “Jezbel of India”یعنی مقتولین کے خون کی ذمہ دار ایک نوجوان رانی قرار دیا۔
Jezbel (جزبیل) یہودی بائیبل کا ایک کردار ہے جس کا تذکرہ بادشاہوں کی کتاب کے حصہ اول میں موجود ہے۔ یہ سیدون (موجودہ لبنان) کے بادشاہ ایتبہ کی بیٹی اور شمالی اسرائیل کے بادشاہ احاب کی ملکہ تھی۔ بائیبل میں جزبیل کو خدا کے دشمن کے طور پر پیش کیا گیا ہے جس کے کہنے پر اس کے شوہر احاب نے اس دور کے انبیا کو قتل کرا دیا اور ایک بار پھر بت پرستی کو رواج دیا تھا۔
بہرحال چار روز بعد سپاہی لوٹے ہوئے خزانے کے ہمراہ جھانسی سے چلے گئے لیکن رانی کو دھمکی دے گئے کہ اس کا محل تباہ کر دیا جائے گا۔ رانی نے تمام صورت حال کمشنر سوگر (حالیہ ساگر) ڈویژن میجر ارسکن کو لکھ بھیجی۔ دو جولائی کو میجر ارسکن نے اپنے جوابی خط میں رانی سے درخواست کی کہ وہ برٹش سپرنٹنڈنٹ کے آنے تک شہر کو انگریزوں کے لیے محفوظ رکھنے کی کوشش کرے۔ 
اس دوران رانی کی فوجوں نے تخت پر قبضے کی ایک بغاوت کچل کر راجہ گنگا دھر راؤ کے بھتیجے سدا شیو راؤ کو قید کر لیا۔ اس کے بعد کمپنی کے اتحادیوں اورچھا اور داتیا نے برطانوی فوجیوں کے ہمراہ ایک اور حملے کی کوشش کی تاکہ جھانسی کے دو حصے کر کے آپس میں بانٹ سکیں۔ رانی نے پھر انگریزوں سے مدد مانگی لیکن گورنر جنرل نے اسے جھانسی کے قتل عام کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خاموشی اختیار کر لی چنانچہ رانی نے ناصرف بھاری توپیں تیار کرا لیں بلکہ ایک باقاعدہ فوج بھی تشکیل دے لی لیکن وہ اب بھی جھانسی کو انگریزوں کے لیے ہی محفوظ رکھنا چاہتی تھی۔
اگست 1857 سے جنوری 1858 تک رانی امن و سکون سے اپنی جھانسی پر حکومت کرتی رہی۔ انگریزوں نے اعلان کے باوجود فوجی دستے نہ بھیجے تو رانی کے دل میں انگریزوں سے آزادی کی خواہش نے گھر کر لیا چنانچہ جب مارچ میں انگریزی فوج جھانسی پہنچی تو قلعہ کی فصیلوں پر ایسی بھاری توپیں نصب تھیں جو طویل فاصلے تک مار کر سکتی تھیں۔
برطانوی کمانڈر جنرل سر ہوگ روز نے دھمکی دی کہ ہتھیار نہ ڈالے گئے تو شہر نیست و نابود کر دیا جائے گا۔ 23 مارچ 1858 کو جھانسی کا محاصرہ کر لیا گیا تو رانی نے اعلان جنگ کر دیا۔ گولہ باری کا آغاز 24 مارچ کو ہوا جس سے شہر کی فصیلوں کو بھاری نقصان پہنچا۔ رانی کی درخواست پر 31 مارچ کو تاتیا توپ کی سربراہی میں آنے والی بیس ہزار سپاہ بھی انگریزوں کا کچھ نہ بگاڑ سکی اور 2 اپریل کو شہر میں داخلے کا فیصلہ کر لیا گیا۔
رانی کے ایک وزیر راؤ دلہاجو کی غداری کے باعث انگریز جھانسی میں داخل ہوئے تو شہر کے گلی کوچوں میں مردوں، عورتوں اور بچوں نے بھی ان کا مقابلہ کیا لیکن انگریزی فوج تعداد میں بہت زیادہ تھی۔ ایسے میں رانی کے پاس جھانسی چھوڑنے کے سوا کوئی چارہ نہ بچا اور 4 مئی 1858 کو رانی، جھانسی چھوڑ گئی۔
اس کے بعد 22مئی کو کالپی اور 17 جون کو گوالیار کے علاقے پھول باغ میں کوٹا کی سرائے کے مقام پر رانی اور انگریزوں کا آمنا سامنا ہوا۔     (جاری ہے)