19 نومبر 2019
تازہ ترین

حکومت کے مشکل فیصلے اور پس منظر حکومت کے مشکل فیصلے اور پس منظر

روپے کی قدر میں کمی اور آئی ایم ایف کے 6 ارب ڈالر کے قرضے کو یقینی بنانے کے لیے شرح سود میں اضافے سے قرضوں میں 23 ارب ڈالر (3640 ارب روپے) کا اضافہ ہوا۔ صرف ایک دن میں امریکی ڈالر کی قدر 5.15 روپے بڑھنے کے باعث پاکستان کے قرضے میں 500ارب سے زائد اضافہ ہوا۔ اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی قدر 162.30روپے تک بڑھنے سے 20 کروڑ عوام کی مشکلات بڑھیں۔ اس سے زیادہ اہم یہ کہ سونے کی قیمت 81000 روپے فی تولہ ہوگئی۔
گزشتہ نو، دس ماہ کے دوران پاکستانی کرنسی کی قدر میں کمی سے گردشی قرضوں میں بھی 75ارب روپے کا اضافہ ہوا۔ شرح سود میں 12.25 فیصد اضافے سے قرضے میں 1117 ارب کا اضافہ ہوا۔ یوں پاکستانی کرنسی کی قدر میں کمی اور شرح سود میں اضافہ دونوں کے باعث قرضوں میں 3640ارب روپے کی بڑھوتری ہوئی جو 23ارب ڈالر کے برابر ہے۔ آئی ایم ایف کے قرض پروگرام کا اہل ہونے کے لیے کئی ترجیحات میں سے ایک مارکیٹ کی سطح پر ایکسچینج ریٹ کو یقینی بنانا ہے اور صرف آئی ایم ایف اور پاکستان کی معاشی ٹیم جانتی ہے کہ ایکسچینج ریٹ کہاں جاکر ٹھہرے گا۔
موجودہ حکومت بیرون ممالک سے 11ماہ میں 9.5 ارب ڈالر قرض لے چکی۔ گزشتہ برس جولائی سے رواں سال مئی تک چین نے 6.7 ارب ڈالر قرض دیا، جو کُل ادائیگیوں کا 70فیصد ہے۔ چینی قرض میں 2 ارب ڈالر سیف ڈیپازٹ کے ہیں، جو اسلام آباد کو جولائی 2018 میں موصول ہوئے لیکن وفاق نے اسے پہلی بار اپریل میں ظاہر کیا تھا اور 2.53ارب ڈالر فارن کمرشل لان کی مد میں دیے، تاکہ کم ہوتے ہوئے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا مل سکے۔ چین نے دو جوہری پاور پلانٹس کی تعمیر کے لیے بھی 62 کروڑ 84 لاکھ ڈالر دیے۔ چین نے گزشتہ 11ماہ میں پروجیکٹ فنانسنگ کے لیے 1.5ارب ڈالر دیے، یہ زیادہ تر سی پیک پروجیکٹس کے لیے تھے۔ صرف مئی میں ہی چین نے پروجیکٹ فنانسنگ کی خاطر 12 کروڑ 90 لاکھ ڈالر دیے۔ گزشتہ ماہ چینی قرضوں اور تین بینکوں سے تازہ قرضوں کے حوالے سے کمرشل فنانسنگ میں مئی کے اختتام تک 3.8ارب ڈالر تک اضافہ ہوگیا۔ غیر ملکی کمرشل Loans، 2ارب ڈالر کے سالانہ اندازے کے مطابق 86 فیصد تک بڑھے ہیں۔ مئی میں پی جے ایس سی نے 12 کروڑ 15 لاکھ ڈالر ادا کیے، جس سے اس کا کُل قرضہ 27 کروڑ 15 لاکھ ڈالر ہوگیا۔ گزشتہ ماہ کریڈٹ سوئس ایجی، یو بی ایل اور اے بی ایل کی ایسوسی ایشن نے 20کروڑ ڈالر کے اضافی قرضے دیے، جس سے11 ماہ میں اِن کی کُل ادائیگی 24کروڑ 25 لاکھ ڈالر ہوگئی۔ کئی دیگر ایجنسیوں کی طرف سے دیا گیا قرضہ سالانہ پروجیکٹڈ ریسٹس کا 1.5ارب ڈالر یا 45فیصد تک بڑھ چکا۔ مئی کے اختتام تک ملک کو اے ڈی بی سے 42 کروڑ 60لاکھ ڈالرموصول ہوئے جو سالانہ اندازے کا صرف 30.4فیصد کے برابر ہے۔ ورلڈ بینک نے صرف 33کروڑ 22لاکھ ڈالر دیے جو سالانہ اندازے کا صرف 39فیصد کے برابر تھا۔ اسلامک ڈیولپمنٹ بینک نے گزشتہ ماہ 7 کروڑ 57لاکھ ڈالر دیے، جس سے مُلک کے لیے اس کے کُل قرضے 65 کروڑ 40 لاکھ ڈالر ہوگئے۔
یہ تو ملکی معیشت پر قرضوں کے بوجھ کی صورتحال ہے، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد میں ملکی معیشت کو درپیش چیلنجز کے حوالے سے سیمینار میں جو خطاب کیا، وہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس خطاب کے کئی نکات پر قومی مباحثے کی ضرورت ہے، تاکہ تنازعات میں الجھنے کے بجائے معاشی بحران سے نکلنے کے لیے وسیع قومی اتفاق رائے پیدا کیا جاسکے۔ خوش آئند کہ پاک فوج کے سربراہ نے اپنے خطاب میں حکومت کے ان اقدامات کی تائید کی، جو وہ معیشت کو بہتر بنانے کے لیے کررہی ہے۔ انہوں نے برملا اظہار کیا کہ موجودہ حکومت کے مشکل فیصلوں سے مشکلات بڑھ گئی ہیں، لیکن ان مشکلات کی ذمے دار ماضی کی حکومتیں ہیں۔ آرمی چیف نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مشکل حکومتی فیصلوں کو کامیاب بنانا ہم سب کی ذمے داری ہے۔ پاک فوج کی طرف سے جمہوری حکومت کی مکمل تائید اور حمایت کا اظہار کرکے اچھی روایت قائم کی گئی۔ موجودہ حکومت کے فیصلوں کے نتائج چاہے کچھ بھی ہوں، لیکن جمہوری حکومت کے فیصلوں کی توثیق کرکے پاک فوج نے مثبت کردار ادا کیا۔ 
انہوں نے ماضی کی جن حکومتوں کو اس صورت حال کا ذمے دار قرار دیا ہے، ان میں سے کسی کا بھی نام نہیں لیا۔ کسی کو اس حوالے سے ناراض نہیں ہونا چاہیے۔ ویسے اس نکتے پر قومی مباحثے کی ضرورت ہے کہ پاکستان کی اس تباہی کے حقیقی ذمے دار کون ہیں؟ جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی اپنے خطاب میں یہی کہا ہے کہ قومی اہمیت کے امور پر اب کھل کر بات چیت ضروری ہے۔
ملک کو معاشی بحران سے نکالنے کے لیے انہوں نے دو انتہائی اہم نکات کی درست نشان دہی کی ہے۔ پہلا نکتہ یہ کہ ہم متحد ہوں اور ایک قوم بن کر سوچیں، دوسرا کہ علاقائی رابطوں کو فروغ دیا جائے، قومی اتحاد کے لیے انہوں نے تجویز دی کہ حکومت اور دیگر اسٹیک ہولڈرز قومی اہمیت کے معاملات پر بات چیت کریں، کیونکہ کوئی فرد واحد قومی اتحاد کے بغیر کامیابی حاصل نہیں کرسکتا۔ علاقائی رابطوں کو فروغ دینے کے حق میں ان کی یہ دلیل کافی ہے کہ ’’ملک نہیں خطے ترقی کرتے ہیں۔‘‘ ان دونوں نکات پربھی قومی مباحثہ ہونا چاہیے کہ پاکستانی ان مشکل حالات میں ایک قوم کیسے بن سکتے ہیں اور ہمسایہ ممالک سے باہمی تعلقات اور تجارت کو کیسے فروغ دے سکتے ہیں؟ اور یہ کام ماضی میں کیوں نہیں ہوا اور اس کے ذمے دار کون ہیں؟ اقوام کی تاریخ میں یہ امر اہمیت رکھتا ہے کہ انہوں نے بدلتے حالات میں درست فیصلے کیے یا غفلت میں پڑی رہیں، ہم بھی ایسے ہی موڑ پر کھڑے ہیں جہاں جوش نہیں ہوش کی ضرورت ہے اور یہاں درست سمت میں قدم اٹھانا ہی درست فیصلہ ہوگا، جس پر ملک وقوم کے مستقبل کا انحصار ہے۔