09 اپریل 2020
تازہ ترین

حکومت کی معاشی پالیسیاں حکومت کی معاشی پالیسیاں

یوں تو انتخابات سے قبل ہی پاکستان کی معاشی صورت حال کے بارے میں سب آگاہ تھے، اس کے علاوہ اندرونی و بیرونی اداروں کی طرف سے اس بارے میں جو رپورٹس آرہی تھیں، وہ اتنی حوصلہ افزا نہ تھیں اور عام تاثر پایا جارہا تھا کہ اگر پی ٹی آئی برسراقتدار آگئی تو ناصرف معیشت کو بہتر کردے گی، بلکہ اس کی سمت بھی متعین کردے گی۔ پی ٹی آئی کی حکومت آنے کی بات سچ ثابت ہوئی مگر ملک کو معاشی گرداب سے نکالنا تو دُور ملک آہستہ آہستہ مزید دلدل میں دھنستا جارہا ہے۔ کپتان نے اپنی ساری ٹیم کو بدل دیا۔ ان کی جگہ ایسے معاشی ماہرین کو لایا گیا جو بین الاقوامی شہرت بھی رکھتے ہیں۔ ان کے ذمے بجٹ بنانا تھا جو انہوں نے اسمبلی میں پیش کردیا۔ اپوزیشن جماعتوں نے اس بجٹ کو مکمل طور پر مسترد کیا۔ 
اگر بجٹ کا جائزہ لیا جائے تو واقعی یہ سخت بجٹ ہے۔ بہت ساری اشیاء پہ ٹیکس کی شرح کو بڑھادیا گیا اور بہت سی چیزوں پر ٹیکس عائد کردیا گیا۔ حکومت نے ٹیکس وصولی کا ہدف ساڑھے پانچ ہزار ارب رکھا ہے، اتنی رقم کو اکٹھا کرنے کے لیے ٹیکس لگائے گئے ہیں۔ اب عوام اور معاشی ماہرین کی اکثریت کا خیال ہے کہ ٹیکس کی اس نئی شرح سے مہنگائی میں بے پناہ اضافہ ہوجائے گا، جس سے مڈل کلاس اور لوئر کلاس طبقہ بہت متاثر ہوگا اور بہت بڑی تعداد سطح غربت سے بھی نیچے چلی جائے گی۔ دوسری طرف حکومت کی بعض پالیسیوں پر وزیرِاعظم اور وزراء کے بیانات سے کاروباری طبقے کی اکثریت نے خوف زدہ ہوکر سرمایہ کاری کو روک لیا ہے۔ معاشی سرگرمیاں ماند پڑچکی ہیں اور اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا کہ نوجوانوں کی بہت بڑی تعداد بے روزگار ہوگئی ہے۔ 
جب تک سرمایہ کار اپنا سرمایہ مارکیٹ میں نہیں لائیں گے اور بیرونی سرمایہ کاری نہیں آئے گی، اُس وقت تک نئی صنعتیں لگ سکتی ہیں اور نہ روزگار کے مواقع پیدا ہوسکتے ہیں۔ معاشی بدحالی کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ پاکستان کی برآمدات، درآمدات کے مقابلے میں بہت کم ہے، جس کی وجہ سے ڈالر بُری طرح عدم استحکام کا شکار ہے، جب تک ہم اپنی برآمدات اور درآمدات میں توازن قائم نہیں کرتے، ہم ان معاشی مسائل کا شکار رہیں گے۔ برآمدات کو بڑھانے میں جہاں کئی مسائل حائل ہیں، ان میں سے اہم بجلی اور گیس کی عدم دستیابی بھی ہے۔ اس کے علاوہ بیرونی فضا بھی ہمارے حق میں نہیں۔ بہت سارے ممالک جن میں بنگلادیش، ایران، بھارت، ہم سے بہت آگے نکل گئے ہیں اور انہوں نے ہماری بیرونی مارکیٹ پر قبضہ کرلیا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے بیرونی سفارت خانوں کو استعمال کریں اور اپنی اشیاء کو باہر بھجوانے کے لیے اقدام کریں۔ اس سے 
ہماری برآمدات کو یقیناًً فائدہ ہوگا۔ بجٹ کے علاوہ ایف بی آر نے ایک ایمنسٹی سکیم متعارف کرائی ہے، جس کے تحت اگر آپ اپنے اثاثے اور جائیداد (جو اَب تک چھپا رکھے ہیں) ظاہر کردیں تو ان اثاثوں کے بارے میں بازپرس نہیں ہوگی۔ 30 جون اس کی آخری تاریخ تھی جس میں 3 جولائی تک توسیع کردی گئی ہے۔ کہا جارہا ہے کہ اگر اس کے بعد کوئی اثاثہ یا جائیداد پکڑی گئی تو ناصرف وہ ضبط ہوگی بلکہ متعلقہ شخص کو قید کی سزا بھی دی جائے گی۔ 
اگر ملکی معاشی صورت حال کو دیکھا جائے تو ایسے اقدامات اب ناگزیر ہوچکے ہیں، چونکہ پاکستان میں اکثر متمول افراد اپنے اثاثے چھپاتے اور ٹیکس بھی ادا نہیں کرتے، جس سے ملک کو ناقابل تلافی نقصان ہورہا ہے۔ ان اقدامات سے بظاہر بھونچال آگیا ہے، مگر اس کے بغیر کوئی چارہ بھی نہیں۔ اس کے علاوہ رشوت اور بدعنوانی سے کمایا گیا پیسہ بھی لوگوں نے کئی صورتوں میں چھپا رکھا ہے۔ جس کی ایک قسم انعامی بانڈز ہیں۔ حکومت کا خیال ہے کہ 40 ہزار والے بانڈز میں 1200ارب چھپایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ بہت ساری دوسری سکیموں میں بھی کالے دھن کو بہت زیادہ استعمال کیا گیا ہے۔ اس لیے اب فیصلہ کیا گیا ہے کہ ان سکیموں کو ختم کرکے پیسے کو مارکیٹ میں لایا جائے۔ اگر حکومت ان تمام اقدامات پر صحیح طور عمل پیرا ہوتی ہے اور بلاتفریق کارروائی کرتی ہے تو ہم معیشت کو صحیح راہ پر گامزن کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ حکومت کا فرض ہے کہ وہ عوام اور کاروباری افراد کو اعتماد میں لے اور باور کرائے کہ وہ بہتر نیت کے ساتھ ملکی ترقی کے لیے کوشاں ہے، یوں تمام طبقے اُس کا ساتھ دیں گے۔