15 ستمبر 2019
تازہ ترین

حکومت اور اکالی حکومت اور اکالی

(13 جنوری 1924ء کی تحریر)
’’یہ پرچم اب کسی سے گرایا نہ جائے گا‘‘
کسی تحریک کو رفتہ رفتہ مٹا دینے کا اس سے زیادہ موثر کوئی طریقہ نہیں ہو سکتا کہ اس کے کارپردازوں پر تشدد نہ کیا جائے اور انہیں اپنے حال پر چھوڑ دیا جائے۔ چنانچہ پچھلے دنوں اکالیوں نے ایک مجلس کے انعقاد کا اعلان کیا تھا اور لکھا تھا کہ اکالی جتھوں کی نقل و حرکت کے متعلق حکومت نے جو عدم مداخلت کی حکمت عملی اختیار کر رکھی ہے اس کی وجہ سے اکالیوں میں سکون و جمود پیدا ہو رہا ہے۔ مجلس میں غور و خوض کیا جائے گا کہ تحریک کی اس سرد بازاری کو کیونکر رفع کیا جائے۔
غالباً اس سے اکالی بہادر اکالیوں کا ارادہ یہ تھا کہ خلاف ورزی قانون کا کوئی دوسرا موثر طریق اختیار کریں اور تحریک میں شدت و حرارت پیدا کریں کہ حکومت پھر پکڑ دھکڑ پر مجبور ہو جائے۔ لیکن حکومت نے یہ موقع نہیں آنے دیا اور دو ہی تین دن ہوئے کہ شرومنی کمیٹی کے 162 ارکان دربار صاحب امرتسر میں وحشیانہ طاقت کی نمایش کے بعد گرفتار کر لئے گئے۔ اگر آج حکومت پنجاب کے ارباب بست و کشاد کے سروں میں دماغ اور دماغوں میں عقل ہوتی تو وہ اکالیوں سے بالکل تعرض نہ کرتے یہاںتک کہ ایک دو ماہ کے بعد تحریک کی رفتار خود بخود سست پڑ جاتی لیکن جب کسی قوم کے برے دن آتے ہیں تو اس سے اضطراراً ایسی حرکتیں سرزد ہو جاتی ہیں جن سے ان کے حقیقی اغراض و مقاصد کو نقصان پہنچ جاتا ہے۔ اگر حکومت کو اکالیوں پر جبر و تشدد بدستور قایم ہی رکھنا تھا تو پہلی گردوارہ کمیٹی کی گرفتاری کے بعد اب تک خاموشی کے کیا معنی؟ چاہئے تو یہ تھاکہ جونہی پہلی کمیٹی کی گرفتاری کے بعد جدید مجلس کے قیام کا اعلان ہوا تھا فی الفور گرفتار شدہ رہنمائوں کے جانشین بھی گرفتار کر لئے جاتے اور یہ لامتناعی سلسلہ اس وقت تک جاری رہتا جب تک اکالیوں کے جی نہ چھوٹ جاتے۔ لیکن حکومت نے اس طرزعمل کو بھی مناسب نہ سمجھا اور خاموشی اور حوصلہ سے بھی کام نہ لیا۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ تدبر کا دیوالیہ نکل چکا ہے اور اکالی بہادروں کی فتح میں خود ان کے مخالفین نادانستہ ان کی امداد و اعانت کر رہے ہیں۔
جدید کمیٹی کی گرفتاری جس طریقہ سے عمل میں آئی وہ بھی بدرجہ غایت افسوسناک ہے۔ دربار صاحب میں اکالیوں نے خلاف قانون جلسہ کیا اور آج کل ایسے جلسے شاذ نہیں ہیں بلکہ معمولی بات ہے۔ وہ خوب جانتے تھے کہ ہم مجمع خلاف قانون منعقد کر رہے ہیں اور اس امر کو بھی بخوبی سمجھتے تھے کہ اس کے نتایج و عواقب کیا ہیں۔ چنانچہ وہ ہر طرح کی تکلیف و مصیبت کیلئے آمادہ و طیار تھے۔ ان کے اجتماع کا مقصد یہ تھا کہ دفتری حکومت انہیں گرفتار کر لے تاکہ تحریک میں کچھ گرمی پیدا ہو لیکن ان تمام امور کے باوجود ایک گورکھا فوج کا دستہ گھنٹہ گھر کے پاس مقیم رہا اور تقریباً دو سو پولیس کے آدمی لاٹھیاں اور بندوقیں اٹھائے دربار صاحب میں گھس گئے اور انہوں نے اکالی تخت کے مقدس چبوترے پر چڑھنے کی کوشش کی چنانچہ اکالیوں نے نہایت پرامن طریقے سے انہیں اس حرکت سے باز رکھا۔ سردار جودھ سنگھ صاحب رکن پنجاب کونسل کے سمجھانے بجھانے پر حکام نے وہاں سے پولیس کو ہٹایا اور اجلاس ختم ہونے تک انتظار کیا۔ اگر سردار صاحب کے مشورے سے پہلے اس طرز عمل کو اختیار کیا جاتا تو یہ شکایت کیوں پیدا ہوتی کہ پولیس نے سکھوں کے مذہبی مقام کی بے حرمتی کرنے کی کوشش کی۔
اکالی تحریک کی کامیابی کچھ ایسی چیزنہیں جس پر صرف اکلای یا ہندوستان کے قومیت پرست ہندو اور مسلمان ہی اپنے گھروں میں بیٹھ کر ان سرفروش مجاہدوں کو تحسین و آفرین کہتے ہوں بلکہ آج حکومت پرست وفادار، عاقبت پسند لوگ اور سرکار کے ذمہ دار افسر اور عہدہ دار تک بھی اکالیوں کے حوصلہ جاںسپاری پر انگشت بدنداں نظر آتے ہیں۔ حکومت پنجاب یا حکومت ہند کے بڑے بڑے ارباب حل و عقد اپنے دفتروں میں احکام پر دستخط کرتے ہوئے کچھ بھی خیال کرتے ہوں لیکن جب اپنے گھروں اور دوستوں کی مجلسوں میں بیٹھتے ہیں تو صاف صاف کہتے ہیں کہ اس قوم کی تنظیم اور اس کے افراد کا ثبات و استقلال بڑی سے بڑی حکومت کو پریشان کر کے اپنے مطالبات تسلیم کرا سکتا ہے۔ لیکن ہم نہیں سمجھتے کہ حکومت آخر کب تک اکالیوں کے عدم تشدد اور ان کے استقلال کو آمائے گی؟ کیا ان کی تمام قربانیوں کے بعد بھی یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان کے مطالبات صرف ’’چند شورش پسندوں‘‘ کے مطالبات ہیں اور قوم کو ان سے کچھ تعلق نہیں؟    (جاری ہے)