گرمیوں کی چھٹیاں، بچّے کیا کریں؟ گرمیوں کی چھٹیاں، بچّے کیا کریں؟

تعلیمی اداروں میں گرمیوں کی چھٹیاں ہیں، ملک بھر کے بچّوں کو گرمی کی شدّت سے بچانے کا اہتمام تو چھٹیاں دے کر کردیا جاتا ہے، لیکن انہیں گلی محلوں کی آوارہ گردی سے بچانے کے لیے کوئی اقدام نہیں کیا جاتا۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ گرمیوں میں بچوں کے لیے شام کے وقت دو سے تین گھنٹے سکولوں میں ہی مختص کردیے جائیں، جہاں بچے مختلف النوع سماجی، ثقافتی سرگرمیوں میں حصہ لینے کے ساتھ، لائبریریوں میں اپنا وقت گزار کر کتاب کے ساتھ جڑیں، تاکہ اُن میں پڑھنے اورلکھنے کا شوق بڑھنے کے ساتھ کتاب کو فروغ  مل سکے۔ کسی دانشور نے کہا تھا کہ ’’جب جوتے شیشوں کی الماری میں رکھ کر بیچے جائیں اور کتابیں فٹ پاتھ پر بکتی ہوں تو سمجھ لوکہ اس قوم کو کتابوںکی نہیں جوتوں کی ضرورت ہے۔‘‘ لیکن وہ دانشور یہ بتانا بھول گئے تھے کہ جب ادب تخلیق ہی نہیں ہوگا تو کتاب  سے دوستی کیسے استوار ہوگی۔ ہوسکتا ہے ان کے عہد میں  واقعتاً ’’ادب‘‘ تخلیق ہورہا ہو، لیکن یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ ’’کتاب‘‘ بکتی ہے، اگر وہ دور جدید کے تقاضوں اور اذہان کو سامنے رکھ کر لکھی جائے۔ پورا یورپ، امریکا اور تمام ترقی یافتہ ممالک میں کتابوں کی اشاعت دن بہ دن بڑھتی  جارہی ہے۔ آخر اس کی کوئی وجہ تو ہوگی؟ حالانکہ وہاں پر بھی انٹرنیٹ، ٹی وی چینلز موجود ہیں، یہاں تک کہ سنیما اور تھیٹر کے ساتھ ’’مصروف اور مشغول‘‘ رہنے کے  ہم سے کئی گنازیادہ ذرائع موجود ہیں۔ ہاں وہاں رات کو سجنے والی ’’میڈیا منڈی‘‘ نہیں، جس میں دنگل ہوتا ہے، جس میں انسانوں کے سوچنے سمجھنے کی صلاحت سلب ہوجاتی ہے۔
ہمارے ہاں شکوہ جواب شکوہ کے عنوان سے مختلف محفلوں اور منڈلیوں میں پاکستان میں کتاب کے فروخت نہ ہونے پر مباحثہ جاری رہتا ہے مگر اس پر کوئی بات نہیں کرتا کہ کتاب میں کچھ ہوگا تو بکے گی ورنہ فٹ پاتھ پر ہی نظر آئے گی۔ ادب کے فروغ میں جہاں حکومت ناکام ہے وہیں ادبی تنظیموں کی کارکردگی بھی مثالی نہیں، ادب میں گروہ بندی زہر قاتل ہے۔ 
جس معاشرے سے ایسا تخلیقی ادب اٹھ جائے جو انسان کی کایا پلٹ کر رکھ کر نیا انسان تخلیق کرے، اس کا حال ہمارے معاشرے جیسا ہوتا ہے، جہاں کتابیں شائع تو ہوتی ہیں مگر فروخت نہیں ہوتیں، اس کی وجوہ کیا ہیں؟ کسی نے بھی جاننے کی کوشش نہیں کی ادیبوں نے اور نہ پبلشرز نے، حکومت کی تو بات چھوڑیے۔ کچھ روز قبل اسی موضوع پر ادبی بیٹھک میں چند سینئر ادیبوں سے بات چل نکلی کہ کتاب کیوں فروخت نہیں ہورہی؟ ان میں کئی صدارتی ایوارڈ یافتہ اور تمغہ حسن کارکردگی کے حامل بھی تھے، سب اپنی رائے دے رہے تھے، کوئی ٹی وی چینل کو کوسنے دے رہا تھا تو کوئی انٹرنیٹ کے خلاف شکوہ کناں تھا، کسی کے نزدیک کتابوں کی بڑھتی قیمت وجہ تھی اور کوئی سازش تھیوری کا رونا رو رہا تھا۔ میں اس موقع پر سوچوں میں گم تھا کہ آواز آئی کہ آفاقی صاحب آپ بھی تو کچھ بولیے۔ میں نے کہا، حضور جہاں اس قدر دانش کے موتی رولے جارہے ہوں، وہاں مجھ ایسے ادنیٰ قلم کار کی کیا رائے ہوسکتی ہے۔ لیکن اصرار بڑھتا گیا تو میں نے صرف اتنا کہا کہ جناب عالی کیا پاکستان میں ادب تخلیق ہورہا ہے جو آج کے عہد اور قاری کی ضرورتوں کو پورا کرتا ہو؟ آج کا ادیب خوف اور وسوسوں کا شکار ہے، وہ ادب تخلیق نہیں کررہا بلکہ صرف اپنی مردہ سوچیں، خیال اور لفظوں کو جدید نسل میں منتقل کررہا ہے، ادب تو بہتی ندی ہے، اگر شفاف ہوگی تو ہر کوئی مستفید ہوگا اور اپنی جگہ بھی بنالے گا، کیا ہیری پوٹر کروڑوں میں فروخت نہیں ہوتی، کیا مغرب میں کوئی بھی کتاب لاکھوں سے کم تعداد میں شائع ہوتی ہے، کیامغربی اخبارات اور رسائل کروڑوں کی تعداد میں شائع نہیں ہوتے، صرف ریڈر ڈائجسٹ کو ہی لے لیجیے، اس کا ہر ایڈیشن کروڑوں میں شائع ہوتا ہے۔ 
چلیں مغرب کو تو چھوڑیں بھارت کو ہی دیکھ لیجیے، جہاں کسی ایک شہر سے شائع ہونے والے چھوٹے سے چھوٹے اخبار کی اشاعت بھی پچاس ہزار سے کم نہیں، اسی طرح کتابوں کی صورت حال ہے جب کہ ہمارے ہاں جس اخبار کی پیشانی پر ’’پاکستان کے ہر روزنامے سے زیادہ اشاعت‘‘ لکھا ہو، اس کی اصل اشاعت کا پتا لگانا ہو تو کسی بھی اخبار مارکیٹ میں جاکر اس کے ایجنٹ سے پوچھیے، اندازہ ہوجائے گا کہ ’’کتنی زیادہ ہے‘‘؟ تو باقی کے اخبارات اور رسائل کی اشاعت کا کیا عالم ہوگا؟ اب آئیے اس سوال پر کہ پاکستان میں کتاب کیوں نہیں بکتی؟ تو جناب اس کی بنیادی وجہ وہی ہے جو اوپر بیان ہوچکی کہ پاکستانی ادیب کا ذہن ادب تخلیق کرنے کے حوالے سے بانجھ ہوچکا، چربہ سازی میں بھی عقل کا استعمال نہیں کیا جاتا بلکہ مکھی پر مکھی ماری جاتی ہے، ہمارے ہاں تو پی ایچ ڈی کرنے والوں کا علم بھی مشکوک ہوچکا۔ اس کے ساتھ ہی آج کا قاری کیا پڑھنا چاہتا ہے، اس کے ذہن کے مطابق جب تک ادب تخلیق نہیں ہوگا، کتاب مارکیٹ میں جاتے ہی فٹ پاتھوں پر نظر آئے گی۔ ہمارا ادیب، شاعر، کالم نگار خود کتاب نہیں پڑھتا، دنیا بھر کے ادیبوں کی تحریروں سے مستفید نہیں ہوتا، اسے پتا ہی نہیں کائنات میں ہر روز تخلیق کے سوتے پھوٹ رہے ہیں، ہم بند ذہنوں کے حامل معاشرے کے ادیب و شاعر، سوائے منافقت تخلیق کرنے کے کچھ اور نہیں کررہے۔
1995 میں اقوامِ متحدہ کے ادارے یونیسکو کی جنرل کونسل کا فرانس میں اجلاس ہوا تو اس نے 23 اپریل کو ’’ورلڈ بک اینڈ کاپی رائٹس ڈے‘‘ قرار دیا اور اب یہ دن کتابوں اور جملہ حقوق کی حفاظت کے عالمی دن کے طور پر دنیا کے ایک سو سے زائد ملکوں میں منایا جاتا ہے۔ اس میں ایک اور اضافہ یہ کیا گیا کہ رواں صدی کے آغاز سے کسی ایک شہر کو کتابوں کا عالمی دارالحکومت بھی قرار دیا جاتا ہے۔ سب سے پہلے سال کا دارالحکومت بیروت تھا۔پھر میڈرڈ پھر بالترتیب اسکندریہ، نئی دہلی، اینٹ روپ، مونٹریال، ٹورِن، بگوٹہ، ایمسٹرڈیم۔ برطانیہ نے اس دن کے لیے مارچ کی پہلی جمعرات کا انتخاب کیا اور اسے سکولوں کے بچوں میں کتابیں خریدنے کی عادت کو فروغ دینے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں بھی اب یہ دن منایا تو جانے لگا ہے مگر ویسے ہی جیسے دوسرے ایام منائے جاتے ہیں۔؟ لیکن کیا ہم نے کتاب  دوستی کے فروغ میں کوئی کردار ادا کیا یا شہروں اور سکولوں میں لائبریریوں کوقائم کرنے کی کوشش کی؟ سکولوں، کالجوں اور پبلک لائبریریوں کا وجود صرف سرکاری فائلوں اور اعداد و شمار میں ملتا ہے اور جہاں یہ ہیں وہاں بھی صرف پروفیشنل علوم سے متعلق درسی یا نیم درسی کتابوں کو ہی کتاب سمجھا جاتا ہے، عموماً اس کی ایک وجہ کمپیوٹر اور دیگر متعلقہ معلوماتی سہولتوں کی فراوانی بتائی جاتی ہے جو آدھے سے بھی کم سچ ہے۔ چلتے چلتے اس سوال کو غور و فکر کرنے والوں پر چھوڑتے ہیں کہ کیا یہاں ادیب بانجھ ہیں، یا ان کے تخلیقی سوتے مرچکے؟ ورنہ ادب تو ایسی بہتی ندی ہے، اگر صاف اور شفاف ہوگی تو اس سے ہر کوئی مستفید ہوگا۔