25 اگست 2019
تازہ ترین

 گھریلو ملازموں کے مسائل اور ایکٹ 2019 گھریلو ملازموں کے مسائل اور ایکٹ 2019

16 سالہ عظمیٰ کا کیا قصور تھا، اسے اتنی بیدردی سے کیوں قتل کردیا گیا، کیا غریب ہونا کوئی جرم ہے؟ عظمیٰ کی والدہ وفات پاچکی، والد نے چند ہزار روپے ماہوار پر اسے اقبال ٹائون لاہور کی ایک فیملی کے پاس ملازمہ رکھوادیا۔ نو ماہ تک کام کے دوران اس فیملی کی خواتین نے عظمیٰ پر کئی ظلم کے پہاڑ توڑے، اُسے اکثر بھوکا رکھا جاتا، دن میں ایک وقت بچا کھچا کھانا دیا جاتا۔ اس باعث عظمیٰ ہڈیوں کا ڈھانچہ بن گئی۔ وہ جس گھر میں ملازمہ تھی وہاں کی مکین تین خواتین نے بات بات پراسے تھپڑ مارنا معمول بنالیا۔ ایک روز عظمیٰ نے بھوک سے تنگ آکر مالکن کی بچی کے کھانے کی پلیٹ سے ایک نوالہ لے لیا تو مالکن غصے سے آگ بگولہ ہوگئی۔ اس نے ہاتھ میں پکڑا کفگیر عظمیٰ کے سر پر مارنا شروع کردیا، عظمیٰ چیختی اور چلاّتی رہی لیکن اس کو ترس نہ آیا۔ شدید ضربات سے عظمیٰ بے ہوش ہوگئی، اسے ہسپتال لے جانے کے بجائے پچھلے کمرے کے فرش پر پھینک دیا گیا۔ چند روز تک زندگی اور موت کی کشمکش میں رہنے کے بعد عظمیٰ چل بسی۔ مالکن، اس کی نند اور بیٹی کو عظمیٰ کے بہیمانہ قتل پر بھی خوف نہیں آیا، وہ رات کی تاریکی میں اس بچی کی نعش گاڑی میں چھپا کر لے گئیں۔ راستے میں لوگوں کا رش ہونے کے باعث انہوں نے وقت گزارنے کے لیے دہی بھلے کھائے۔ مون مارکیٹ کے قریب گندے نالے میں عظمیٰ کی نعش کو پھینک دیا۔ اگلے روز مالکن نے پولیس کو بھی درخواست دے دی کہ ان کی ملازمہ عظمیٰ گھر سے زیورات چوری کرکے فرار ہوگئی ہے۔ اس طرح اپنی منصوبہ بندی مکمل کرکے وہ مطمئن ہوگئیں کہ اب پکڑی نہیں جائیں گی۔ اللہ کو کچھ اور ہی منظور تھا، مالکن نے پولیس کو بیان دیا کہ تین سال قبل اس کا شوہر فوت ہوگیا تھا جبکہ اس کا ایک سال کا بچہ دیکھ کر پولیس کو شک ہوگیا۔ عظمیٰ کی نعش بھی مل چکی تھی، پولیس نے تفتیش کا دائرہ وسیع کیا تو مالکن، اس کی بیٹی اور نند نے اپنا جرم تسلیم کرلیا۔ آپ سمجھ رہے ہوں گے اس کے بعد تینوں ملزم خواتین کو سزا مل گئی ہوگی تو ایسا نہیں ہوا۔ ان امیر خواتین نے غربت کے شکار عظمیٰ کے والد ریاض کو دیت کی رقم دے کر معافی نامہ لکھوایا اور بری ہوگئیں۔
یہ گھریلو ملازمہ پر ہونے والے ظلم کا کوئی پہلا واقعہ نہیں، ایسے درجنوں واقعات پورے ملک سے سامنے آتے رہتے ہیں۔ گوجرانوالا میں ایک مالکن نے کمسن ملازمہ ’’جینا‘‘ کو تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد اس پر ابلتا پانی پھینک دیا۔ ملزمہ اس بچی کو ہسپتال لے جانے کے بجائے ایک چوک میں پھینک گئی۔ پولیس نے جب بچی کو ہسپتال پہنچایا تو ڈاکٹروں نے بتایا کہ بچی کا ستر فیصد جسم جلا ہوا ہے۔ اسی طرح فیصل آباد کی سات سالہ ’’ماریہ‘‘ کو مالک مکان اور اس کی بیوی نے مار مار کر شدید زخمی کردیا۔ وہ بچی ایک روز گھر سے بھاگ گئی تو پولیس نے شدید زخمی بچی کے بیان پر دونوں میاں بیوی کو گرفتار کرلیا۔ ولایت کالونی راولپنڈی میں ایک حساس ادارے کی آفیسر خاتون کے خلاف تو مقدمہ بھی درج کیا گیا کہ اس نے اپنی گیارہ سالہ ملازمہ ’’کنزہ‘‘ کو کئی ماہ سے قید کر رکھا تھا اور دن رات تشدد کا نشانہ بناتی رہتی تھیں۔ نوشہرہ ورکاں میں تو ایک مالکن نے دس سالہ گھریلو ملازمہ خدیجہ کے جسم کے مختلف حصوں کو استری سے جلادیا۔ 
پاکستان میں گھریلو ملازمائوں کو معمولی باتوں مثلاً روٹی جلانے، کام کے دوران تھکاوٹ سے سو جانے، مالکن کی آواز پر فوری نہ آنے، شدید بھوک میں کچن سے کوئی چیز اٹھاکر کھالینے پر ڈنڈوں، مُکوں، تھپڑوں اور لوہے کے راڈز سے شدید تشدد کرنے اور جان سے مار دینے تک کے واقعات بھی رونما ہوچکے ہیں۔ ان میں سے پچانوے فیصد سے زائد کیسز میں مالکان ان بچوں کے والدین کی غربت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کچھ رقم دے دلاکر راضی نامہ کرلیتے اور سزائوں سے بچ جاتے ہیں۔ 
آئی ایل او کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں گھروں میں کام کرنے والے ملازموں کی تعداد گیارہ لاکھ سے زائد ہے جبکہ ان میں 80 فیصد سے زائد خواتین شامل ہیں۔ ان میں سولہ سال سے کم عمر بچوں کو شامل نہیں کیا گیا۔ دوسری طرف ’’واک فری فائونڈیشن‘‘ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں 22لاکھ بچے مشقت پر مجبور ہیں۔ گلوبل سلیوری انڈیکس یعنی غلامی کے عالمی اشاریے میں پاکستان کا نمبر گزشتہ کئی برسوں میں 167ممالک میں تیسرے سے چھٹے نمبر کے درمیان گردش کررہا ہے۔
ہمارے ہاں ماضی میں گھریلو ملازموں بارے سخت قوانین نہیں تھے۔ اب صوبہ پنجاب میں ’’پنجاب ڈومیسٹک ورکرز ایکٹ 2019‘‘  منظور کیا گیا ہے۔ اس قانون میں گھریلو ملازم کو نوکری پر رکھتے وقت اپوائنٹمنٹ لیٹر دینا ضروری قرار دیا گیا ہے، جس میں ملازمت کے اوقات آٹھ گھنٹے روزانہ، ایک ہفتہ وار چھٹی، یومیہ اور ماہانہ اجرت کا تعین، خواتین کو چھ ہفتے کی میٹرنٹی لیو اور رہائش کی سہولتوں بارے تفصیلات درج کرنا ضروری ہوگا۔ نئے قانون میں کہاگیا ہے کہ گھریلو ملازم کو مالک آٹھ سالانہ بیماری کی چھٹیاںدے گا اور نوکری سے برخاست کرنے پر ایک تنخواہ اضافی دینے کا پابند ہوگا۔ ملازم کا سالانہ میڈیکل چیک اپ کرانا اور ہر تین سال بعد کنٹریکٹ رینیو کرنا ہوگا۔ ہر ضلع میں گھریلو ملازموں کی شکایات سننے کے لیے ایک ’’ڈسپیوٹ کمیٹی‘‘ بنائی جائے گی، جس کے فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کے لیے بھی اپیلٹ کمیٹی بنے گی۔ ملازموں کے حقوق غصب کرنے والے مالکان کو پانچ سے پندرہ ہزار جرمانہ اور ایک ماہ تک سزا بھی دی جاسکے گی۔
اس کی بعض شقیں پڑھ کر میں حیران ہوں کہ قانون تو بہت اچھا بنایا گیا ہے، لیکن اس پر مکمل عمل درآمد کون کرائے گا۔ اس بارے میں پاکستان ورکرز فیڈریشن سینٹرل پنجاب کے صدر چودھری نسیم کا کہنا ہے کہ ہم کوشش کررہے ہیں کہ گھریلو ملازموں کووفاقی سطح کے سوشل سیکیورٹی کارڈز ملیں تاکہ کوئی ملازم ایک سے دوسرے صوبے میں جائے تو اس کے بچوں کو وہاں بھی میڈیکل کی سہولت مل سکے۔ کچھ عرصہ قبل لاہور میں ’’ڈومیسٹک ورکرزیونین لاہور‘‘ بنائی گئی، اس میں ڈھائی ہزار گھریلو ملازمین نے اپنے نام رجسٹرڈ کرائے، اس تنظیم کی جنرل سیکریٹری اروما شہزاد کا کہنا ہے کہ ’’گھریلو ملازموں کے مسائل کی ایک لمبی فہرست ہے، ان کے لیے قانون سازی کے بعد اس پر عمل درآمد کا مرحلہ زیادہ مشکل ہے۔‘‘ پنجاب میں نیا قانون تو بن گیا لیکن اب بھی لاکھوں کمسن بچّے اور بچیاں مالکوں کے رحم وکرم پر ہیں۔ گھریلو ملازموں کو مالکوں کے تشدد اور جبر سے بچانے کے لیے قانون کے ساتھ لوگوں کی سوچ کو بدلنا ہوگا۔ اسلام نے غلامی کا نظام ختم کیا، ہمارے ہاں گھریلو ملازموں کواب بھی غلام سمجھا جاتاہے، ہمیں ان غربت کے ماروں کو بھی اپنے جیسا انسان سمجھنا چاہیے۔ جس دن ہم نے ان مجبوروں کو بھی اپنے بچوں جیسا سمجھنا شروع کردیا تو ہمیں سخت قوانین بنانے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی اور کوئی معصوم عظمیٰ قتل نہیں ہوگی۔