17 ستمبر 2019
تازہ ترین

گھوڑوں پر زینیں گھوڑوں پر زینیں

1440ہجری کا رمضان اپنی رحمتیں، برکتیں بکھیرتا، ہم سے رخصت ہوا۔ الحمد للہ، کہ اللہ رب العزت نے ایک اور رمضان عطا کیا۔ ایک اور موقع ہم جیسے گنہگاروں، دنیا داروں کو عطا کیا کہ ہم اللہ کے احکامات کی بجا آوری کر سکیں۔ اپنے طرز زندگی کو اس کے احکامات کے مطابق ڈھال سکیں، اس کی بندگی کا اقرار کر سکیں (گو حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا مگر اپنی سی کوشش تو کی)۔ اب یہ اس ذات باری تعالیٰ پر منحصر ہے کہ ہماری ٹوٹی پھوٹی عبادتوں کو قبولیت بخش دے یا دنیا داروں، مادہ پرستوں کی ان عبادات کو ہمارے منہ پر دے مارے کہ یہ حق اسی کو حاصل ہے۔ فقط ایک چیز ہے جو حوصلہ بخشتی ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مجھ سے جو گمان رکھو گے مجھے ویسا ہی پاؤ گے، صرف یہی ایک سہارا، ہم آسیوں کی بخشش کا ہے کہ اس کی ذات اگر قہار و جبار ہے تو غفور و رحیم بھی ہے اور مجھ جیسے گنہگاروں کو اپنے رب سے اس کی رحمت کا آسرا ہے کہ وہ اپنی رحمت سے ہمیں بخش دے، ہماری عبادتوں کی نہ تو اسے ضرورت ہے اور نہ ہم حق بندگی ادا کر سکتے ہیں۔ رمضان کی آمد اور بالخصوص آخری عشرہ میں عاشقان رسول (جنہیں استطاعت بخشی اور جن کی حاضری اپنے اور اپنے حبیب ؐکے در پر لکھ دی) جوق در جوق حرمین کا قصد کرتے ہیں کہ اس ماہ مبارک کی ایک رات ایسی فضیلت والی ہے کہ اس شب کی گئی عبادت ہزار مہینوں کی عبادات سے بہتر ہے۔ اللہ رب العزت کا اس گنہگار پر خصوصی کرم ہے (جس کا شکر ادا کرنے سے قاصر ہوں کہ اللہ کی کس کس عنایت کا شکر کروں؟؟)۔ گزشتہ پانچ سال سے ماہ رمضان میں نا صرف اپنے در پر حاضری کا شرف بخشتا ہے بلکہ رمضان کا آخری عشرہ اپنے حبیبؐ کے روضے پر گزارنے کی توفیق عطا کرتا ہے۔ اس سال مگر یہ سلسلہ منقطع ہو گیا اور ناچیز آخری عشرہ میں جزوی طور پر شریک ہو پایا کہ اس سال گلوبل میڈیا فورم جرمنی میں شرکت کی غرض سے جرمنی عازم سفر ہوا تا ہم 25 ویں رمضان در رسولؐ پر حاضر ہو گیا۔ گو اس دوران سفر کی کلفتیں، سرکار دو عالم ؐ کے در کی الفتوں پر حاوی نہ ہو 
سکیں اور شکر الحمد للہ، ان سب کو برداشت کرنے کی توفیق بھی اللہ رب العزت نے عطا کی۔ ان پانچ سال میں در حبیبؐ پر کیسے کیسے گوہر نایاب ہیں، جو آج کی مادہ پرست دنیا میں دیگر پُرکشش مواقع ہونے کے باجود، مدینۃ الرسول میں زندگی گزارنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس ماہ رمضان میں در رسولﷺ پر مایہ ناز کرکٹر سعید انور سے بھی ملاقات ہوئی، جو انتہائی عجز و انکساری کا پیکر بنے ایک طرف عبادت میں مشغول رہے تو دوسری طرف اپنے مداحین سے ملتے رہے اور اس کے ساتھ ساتھ جہاں بھی مجلس ہوتی، قرآن کا درس اور نظام مصطفیٰ  ؐ کے نفاذ کو امت مسلمہ کی نجات کی تلقین کرتے رہے۔ محترم سجاد، برادرم سعید وسیم، برادرم ایاز جو گزشتہ کئی سال سے مانچسٹر سے بارگاہ رسالت ؐمیں باقاعدگی سے حاضری دینے آتے ہیں، برادرم نعمان جو مکہ سے ہمارے ساتھ شامل ہوتے ہیں، یوں ہم آٹھ دس دوست حرم مدنی کے جنوبی طرف (باب بدر) میں برادرم محمد حمد العقیل کے دستر خوان پر اکٹھے ہوتے ہیں۔ اللہ اپنے اور اپنے حبیبؐ کے در پر حاضر ہونے والوں کی تمام جائز خواہشات کو پورا کرے اور سب کی حاضری کو قبول فرمائے۔
ذاتی حاجات کے لیے دعاؤں کے علاوہ ایک قدر مشترک قریباً سب پاکستانیوں میں محسوس کی کہ تقریباً سب پاکستانیوں کو پاکستان کے حوالے سے متفکر پایا اور بات صرف یہیں تک محدود نہیں تھی، اکثریت درد دل سے پاکستان کی سالمیت و حفاظت کے لیے اللہ کے حضور گڑگڑا کر دعائیں مانگتی رہی، اس کی ترقی و خوشحالی اور بہتر قیادت کے لیے التجائیں کرتی رہی۔ لیلۃ القدر کے حوالے سے بالعموم یہی  گمان رہتا ہے کہ یہ عظیم رات 27ویں شب ہو گی، اس لیے اس سے پہلے حرم میں پہنچنا بھی لازم تھا اور اس شب امام مسجد نبوی نے بالخصوص انتہائی گڑگڑا کر، امت محمدی کے گناہوں کی، اللہ کے حضور معافی طلب کی، اسلام اور اہل اسلام کی سربلندی، اسلام کی عظمت کی دعائیں مانگیں۔ ایسی روح پرور ساعتیں، ایسا عظیم اجتماع اور ایسی عاجزی و انکساری، یہ حاصل تھا مسجد نبوی میں حاضری کا مگر دل انتہائی گرفتگی و کرب میں تھا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ اسلام اور اہل اسلام دونوں پستیوں کا شکار ہیں؟ اتنے آنسو، سسکیاں، گڑگڑاہٹیں، عاجزی و انکساری، لیلۃ القدر جیسی رات میں عبادت اور دعائیں لیکن دنیا کی ایک چوتھائی آبادی مسلسل ہزیمت کا شکار، کیوں؟؟ قوانین فطرت اٹل اور حقیقی ہیں، جب تک ان پر پورا نہ اترا جائے، ان کی شرائط پوری نہ کی جائیں، ان کے ثمرات حاصل نہیں ہو سکتے۔ مسلمان ہونے کے باوجود دنیا میں پنپنے اور زور آور بننے کی شرائط پوری نہیں کی جاتیں، تو یہ ممکن نہیں ہے کہ فقط دعاؤں کے بل بوتے پر اسلام یا اہل اسلام کو سر بلندی حاصل ہو سکے۔ قرآن میں فرمان ہے کہ یہود و نصاریٰ کبھی تمہارے دوست نہیں ہو سکتے، تفکر و تدبر کا حکم قرآن میں ہے، نبی اکرمؐ کا فرمان مبارک ہے کہ علم حاصل کرو خواہ چین جانا پڑے، لیکن آج عاشقان رسولؐ ان تمام احکامات سے دور ہیں۔ آج یہود و نصاریٰ مسلم ریاستوں کے حکمرانوں کے دوست ہیں جبکہ ان دوستوں نے ’’بھائیوں کے درمیان‘‘ تفرقہ پھیلا رکھا ہے، جس کو وہ کسی صورت پاٹنے نہیں دیتے، 
مسلمانوں کی تلواریں (جدید) اپنے ہی بھائیوں کے خلاف میانوں سے باہر ہیں اور وہ ایک دوسرے کا بے دریغ خون بہا رہے ہیں۔ یہود و نصاریٰ طرفین کے مسلمانوں کو اپنا اسلحہ بیچ کر نا صرف اس کا ٹیسٹ کر رہے ہیں بلکہ مسلمانوں کو انتہائی بے رحمی و بے دردی سے کم کررہے ہیں، یہود و نصاریٰ اپنے تئیں مسلمانوں کو یا تو سلائے رکھنا چاہتے ہیں یا آپس میں جوتم پیزار اور خود ہر نئے دن ایک نئی تحقیق اور نئی ایجاد کے ساتھ قلانچیں بھرتے کوسوں آگے جانے کے خواہشمندہیں۔ مسلمانوں پر جدید علوم کے دروازے، مشتبہ 9/11، کے بعد سے بند ہیں، مسلم ریاستوں میں ایسی درسگاہیں ناپید ہیں جو عالمی سطح کے تحقیق کار یا سائنسدان پیدا کر سکیں، باقاعدہ ایک منصوبے کے تحت مسلمانوں کو جدید علوم سے دور رکھا جا رہا ہے۔ ماسوائے چند ایک مسلمان ممالک کے، تمام مسلم ممالک اپنی ضروریات زندگی کی اشیاء ترقی یافتہ ممالک سے درآمد کرتے ہیں، کارپوریٹ کلچر اس پسماندگی کا بھرپور فائدہ اٹھا رہا ہے اور مسلم ممالک کی معدنیات یا خام مال اونے پونے خرید کر فنشڈ پروڈکٹ مہنگے داموں فروخت کر رہا ہے، سونے پہ سہاگہ نا اہل اور کرپٹ حکمران ہیں جو ان ملٹی نیشنل کمپنیوں کو ذاتی مفادات کے عوض یہ سہولتیں فراہم کر کے اونٹ کی کمر پر تنکا تنکا اکٹھا کرتے جا رہے ہیں۔ مسلم ممالک میں اس وقت فقط پاکستان، ترکی یا ملائیشیا ایسے ہیں، جہاں صنعت کے ساتھ دفاعی سازو سامان بھی تیار کیا جا رہا ہے لیکن اس کے باوجود یہ ممالک اپنے دفاعی منصوبوں میں کسی نہ کسی حوالے سے غیر مسلم ممالک کے ساتھ شراکت دار ہیں۔ ایسی صورتحال میں یہ کیسے ممکن ہے کہ مسلم ممالک، جو فقط دعاؤں کے طفیل اقوام عالم میں سربلندی کے خواہشمند ہیں، قوانین قدرت کی شرائط پوری کیے بغیر عروج کی منزلیں حاصل کر سکیں کہ اقوام عالم میں عروج ایک طرف تفکر و تدبر و تحقیق کا متقاضی ہے تو دوسری طرف ہمہ وقت گھوڑوں پر زینیں کسے رکھنے سے ممکن ہے، بدقسمتی سے ہم دونوں حوالوں میں ناکام ہیں۔