31 مئی 2020
تازہ ترین

گوئل اور اروند سے بھارت کی توقعات گوئل اور اروند سے بھارت کی توقعات

پاکستان اور بھارت نے برطانیہ سے ایک ساتھ آزادی حاصل کی، لیکن ان دونوں کے تعلقات کبھی خوش گوار نہ رہ سکے اور اس کی بڑی وجہ بھارتی لیڈرشپ کا اکھنڈ بھارت کا وہ خواب تھا جس کو اس نے آزادی کے بعد بھی نہیں توڑا اور اسی وجہ سے پاکستان کو کبھی دل سے تسلیم بھی نہیں کیا، حالانکہ کہنے کو تو مسلمان اور ہندو ہزار سال سے برصغیر میں رہ رہے تھے، لیکن دونوں مذاہب میں زمین آسمان کا فرق ہونے سے دونوں کبھی ایک رنگ میں نہ رنگ سکے۔ ظاہری شکل و شباہت کے سوا کوئی چیز دونوں میں مشترک نہ تھی اور ایسا پوری دنیا میں ہوتا ہے کہ بنیادی طور پر مختلف نظریات کے حامل لوگ ایک الگ اکائی ہی بناتے ہیں اور ایسا ہی برصغیر میں ہواکہ دو الگ الگ ریاستیں بنیں، ہندو چونکہ اکثریت میں تھے لہٰذا ان کی ریاست بڑی تھی لیکن دوسری طرف بھی سب سے بڑی مسلمان ریاست تھی، جسے ہندو ذہنیت نے کبھی قبول نہیں کیا اور اس کے خلاف سازشیں شروع کردیں اور جو جتنا بڑا سازشی تھا، اُسے اُتنا ہی بڑا عہدہ اور مقام ملا۔ انہی سازشوں کے لیے اس ملک نے باقاعدہ ادارے بنائے، جن میں سب سے بڑا ادارہ ’’را‘‘ ہے، کہنے کو تو یہ بھارت کی سراغ رساں ایجنسی ہے، لیکن اس کی بنیادی ذمے داری اور منشور ہی پاکستان اور چین کے خلاف کام کرنا ہے۔
 1962 میںچین کے ہاتھوں بدترین شکست اور 1965 میں پاکستان سے ہزیمت کے ردعمل کے طور پر 1968 میں بھارت نے اپنی اس بدنام زمانہ ایجنسی کی بنیاد رکھی اور اسے جو خاص ترین مشن سونپا گیا وہ پاکستان میں مسائل پیدا کرنا تھا۔ ’’را‘‘ نے مشرقی پاکستان میں جو مکروہ کردار ادا کیا، وہ بذات خود تاریخ کا سیاہ باب ہے۔ اسی نے مکتی باہنی اور مجیب کو بنایا اور پاکستان کی سالمیت پر حملہ کیا اور آج بھی یہ پاکستان کے مختلف علاقوں خصوصاً شمالی علاقوں میں براستہ افغانستان اور بلوچستان میں براستہ افغانستان اور ایران دونوں طرف سے ملوث ہے اور مسلسل بدامنی کی کارروائیوں میں مصروف ہے، جن میں اگرچہ اُسے پاکستانی اداروں کی چابک دستی کی وجہ سے وہ کامیابی نہیں مل رہی جتنی وہ تگ ودو کررہا ہے اور نہ ان شاء اللہ اُس کی یہ خواہش پوری ہوگی۔ دوسری طرف خود بھارت کے اندر بیس کروڑ کی دنیا کی سب سے بڑی اقلیت (جو مسلمان ہے) کا خوف ستاتا رہتا ہے اور یہ مسلمان ہر وقت انتہاپسندوں کے عتاب کا نشانہ بنتے رہتے ہیں اور ریاستی دہشت گردی کا بھی۔ اس کے لیے اُس کا ایک اور ادارہ مسلسل مصروف عمل رہتا ہے اور وہ ہے آئی بی یعنی انٹیلی جنس بیورو جس کا کام بھارت میں اندرونی سطح پر سازشوں بلکہ حکومت مخالفوں کا خاتمہ ہے، لیکن یہ بھی زیادہ تر مذہبی یا علاقائی اقلیتوں کے خلاف ہی مصروف عمل ہوتا ہے۔ یہی آئی بی بھارت سرکار کے اہم امور میں بھی دخیل ہے اور اس کی بدنامی بھی ’’را‘‘ سے کچھ کم نہیں۔ 
اب اگر ان اداروں کے کام کو ذہن میں رکھا جائے تو بات سمجھ میں آجاتی ہے کہ ان کے سربراہوں کے لیے کس قسم کے لوگوں کو منتخب کیا جاتا ہوگا اور اس سال بھی دو ایسے ہی اشخاص کی تعیناتی کی گئی جو ان اداروں کی سربراہی میں اپنے پیش روؤں سے کسی طرح کم نہیں۔ ان میں سے ایک اروند کمار ہے اور دوسرا سمنات گوئل۔ اروند کمار کو آئی بی اور گوئل کو ’’را‘‘ کا سربراہ بنایا گیا، یہ دونوں انڈین سول سروس کے افسران ہیں۔ ان میں گوئل وہی شخص ہے جس نے امسال فروری میں پاکستان کے اندر بالاکوٹ پر ہوائی حملے کی منصوبہ سازی کی تھی، یہ اور بات کہ اُس کا حملہ بُری طرح ناکام ہوا۔ بہرحال گوئل پاکستان کے معاملات کا ماہر مانا جاتا ہے اور یہی اس کی تعیناتی کی وجہ ہے، ویسے بالاکوٹ کی ناکامی کے بعد تو اُس کی نوکری کو ختم ہوجانا چاہیے تھا، تاہم بھارتی حکومت شاید اُس کی مہارت کا مزید فائدہ اٹھانا چاہتی ہے۔ یہ شخص 1990 کی دہائی میں بھارتی پنجاب میں خالصتان تحریک کو بے رحمی سے کچلنے میں بھی شامل تھا تو ظاہر ہے اس کے رویے میں سکھوں کے لیے اب بھی وہی سختی ہوگی جو تھی اور یوں پنجاب کیڈر کے اس افسر کا کردار پنجاب میں بھی اہم رہے گا اور یہ اہمیت زیادہ تر منفی ہی ہوگی۔
دوسری ایسی ہی تعیناتی اروند کمار کی ہے، جس نے آئی بی چیف راجیو جین کی جگہ لی ہے، اروند کے حصے میں کشمیر میں جو مظالم اور قتل ہوں گے وہ تو ہیں ہی، ساتھ نکسل باڑی تحریک کو کچلنے کے لیے اس نے کیا کیا ہوگا، وہ الگ کہانی ہے۔ ایسا نہیں کہ علیحدگی پسند تحریکوں کی کوئی بھی حکومت پذیرائی کرے، لیکن جس سفّاکیت کا مظاہرہ بھارت اور خصوصاً کشمیر میں ہوتا ہے، اُس کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔ اور یہی اروند جیسے لوگ ہیں جو ان مظالم کے پیچھے ہوتے ہیں۔ اروند نے انہی مظالم کی داد اپنی حکومت سے تمغوں کی صورت بھی پائی اور اب اس عہدے کی صورت میں بھی پالی ہے۔ بہرحال اب دیکھیں بھارت ناکام تجربے کرنے والے ان دونوں افسروں کی سربراہی میں مزید کتنے تجربے کرتا ہے، ان کے ناکام تجربوں میں ایک تو حالیہ بالاکوٹ پر حملہ تھا اور دیگر کاموں میں بھی انہیں کوئی خاص کامیابی یوں نہیں ملی کہ نہ تو نکسل تحریک ختم ہوسکی اور کشمیر میں تو ہر نئے دن کے ساتھ آزادی کی تحریک مزید زور پکڑتی جارہی ہے، خالصتان کی راکھ میں سے بھی کوئی نہ کوئی چنگاری اٹھتی رہتی ہے، تاہم ان جیسے افسر اپنی درندگی کی تسکین کے لیے مزید منصوبے بناتے رہتے ہیں، کامیابی اور ناکامی کی پروا کیے بغیر… اور اب بھی گوئل اور اروند سے یہی توقع ہے۔ بہرحال دیکھیے یہ دونوں مل کر اپنی تعیناتی کے دوران کیا کچھ کرتے ہیں۔