25 مئی 2019
تازہ ترین

گوادرکی تازہ دہشت گردی گوادرکی تازہ دہشت گردی

یہ عباس کمانڈو کا لاشہ ہے۔ تصویر میں اس کے ساتھ ایک تین چار ماہ کی بچی لیٹی ہے۔ یہ عباس کمانڈو کی بچی ہے۔ جو ہوش سنبھالنے کے بعد کبھی اپنے باپ کو نہیں دیکھ پائے گی کیونکہ وہ اب اس دنیا میں نہیں رہا۔ آپ ایک نظر اس تصویر پر ڈالیں اگر آپ کے سینے میں دل نام کی کوئی چیز دھڑکتی ہے تو آپ کا دل پھٹ جائے، آپ کیسے ہی سنگ دل ہوں صاحب اولاد ہیں تو اپنے آنسو روک نہیں پائیں گے۔ میں نے یہ تصویر دیکھ کر سوچا کیا عباس کمانڈو کو مرنے سے پہلے ایک لمحہ کے لیے اس بات کا خیال آیا ہو گا کہ اس کے ہاں تیں چار ماہ قبل جس بچی نے جنم لیا ہے کچھ اس کا بھی عباس کمانڈو پر حق ہے؟ ابھی تو ڈھنگ سے اس کی پرنسس نے آنکھیں بھی نہیں کھولیں۔ ابھی ڈھنگ سے اس نے اپنے باپ کا چہرہ نہیں دیکھا اس کے لمس سے ابھی اچھی طرح آشنا نہیں ہوئی اور اس نے بیٹی کو اکیلا چھوڑ دیا۔ یارو کچھ بولو، کوئی جواز تلاش کرو۔ کوئی جسٹی فی کیشن دو۔ اس معصوم کی ماں کے لیے اپنی بیٹی کے باپ کے حوالے سے ہونے والے پہلے سوال کا کوئی تو جواب تراشو۔ اسے کوئی تسلی تو ملے۔ لوگو کیسے سامنا کرے گی شہید کی بیوہ اپنی بیٹی کی سوال کرتی آنکھوں کا؟
جانتے ہیں آپ کہ کمانڈو عباس نے رسم عباس علمدار کس طرح ادا کی؟ نہیں۔ آپ تب جانیں ناں اگر میڈیا نے آپ کو کچھ بتایا ہو؟ لیکن وہ کیوں بتائے۔ یہ اس کا مسئلہ تو نہیں۔ اس سے ریٹنگ تو بڑھتی نہیں۔ کس کو دلچسپی ہو گی ان باتوں سے۔ یہ تو اب معمول بنتا جا رہا ہے۔ لوگ ان باتوں میں دلچسپی نہیں لیتے۔ قوم کو میاں صاحب کی زیادہ فکر ہے، آئی ایم ایف سے مذاکرات نے قوم کی رات کی نیندیں حرام کر رکھی ہیں۔ عباس کمانڈو کی کہانی سے کسی کو کیا لینا دینا؟آپ کو بتاؤں کیسے روزے کی حالت میں عباس کمانڈو نے سنت عباس علمدار ادا ا کی؟ سُن لیجئے۔ ممکن ہے آپ اس کی شیر خوار بیٹی کے لیے کوئی جواز تلاش کر لیں؟ صاحب اولاد ہیں ناں۔ صاحبو جب عباس کمانڈو موقع واردات پر پہنچا تو یہ فیصلہ کن مرحلہ تھا، تینوں دہشت گرد گارڈ کو شہید کرنے کے بعد اپنے اصلی ٹارگٹ کی طرف لپک رہے تھے، جس کے بعد ان کی بلیک میلنگ شروع ہوتی اور ساری دنیا کے سامنے پاکستان کا تماشا بنتا۔ دشمن یہی چاہتا تھا۔ کمانڈوز کی تربیت کے مطابق اسے بھی کہیں کسی آڑ میں چھپ کر اپنی جان بچانی چاہیے تھی خود کو محفوظ کر کے پھر رُوبہ حرکت ہونا تھا۔ لیکن ننھی شہزادی کے باپ نے ایک لمحے کا تردد نہیں کیا۔ اس نے بالکل سامنے آ کر دہشت گردوں کو انگیج کیا ان کے راستے کی دیوار بن گیا۔ وہ پاکستان کی رسوائی چاہنے والوں کے سامنے دیوار بن کر تن کر کھڑا ہو گیا۔ جب تک اس کے جسم میں خون کا ایک قطرہ بھی باقی رہا۔ دہشت گرد سہمے رہے جب یہ دیوار گری تو اس کے جانثار ساتھی صورت حال کو سنبھال چکے تھے۔ دشمن ذلیل ہوا، تینوں دہشت گرد کتے کی موت مارے گئے۔
مردار ہونے والے دہشت گردوں میں سے دو مسنگ پرسن تھے۔ ان دونوں کے لیے عرصہ سے اختر جان مینگل، ماما قدیر، اس کی بھانجیاں، موم بتی آنٹیاں اور بے غیرت برگیڈ کے نام نہاد صحافت کی آڑ میں دھندہ کرنے والے لبرل دہشت گرد دن رات حکومت کا سیاپا کرتے رہے ہیں۔ مجھے علم ہے ان کی بدزبانی میں اب بھی کوئی فرق نہیں آئے گا۔ میں جانتا ہوں عباس کمانڈو کی بیٹی جب کچھ جاننے سمجھنے لائق ہو گی۔ کوئی اس کے کسی سوال کا جواب نہیں دے گا، اس کو ایک یتیم اور اس کی ماں کو ایک غریب بیوہ کی زندگی جینا ہے۔ میں جانتا ہوں میرے یہ کچھ لکھنے سے زندگی کا چلن نہیں بدلے گا، لیکن میں جب تک زندہ ہوں یہ نوحہ گری کرتا رہوں گا۔ ان شاء اللہ وہ وقت ہماری زندگی میں آئے گا جب ہمارے آنسوؤں کا سیلاب منافقت اور ریا کاری کی ان دیواروں کو بہا لے جائے گا۔ ممکن ہے ایسا نہ بھی ہو لیکن کمانڈو عباس، ان جیسے ہزاروں اور شہدا اور عباس علمدار کے سامنے میدان حشر میں مجھے شرمندگی کا احساس نہیں ہو گا۔