17 نومبر 2019
تازہ ترین

گلے کا پھندا   (3) گلے کا پھندا (3)

ہاں اس دوران ڈرامے بہت سے ہوئے کہ وزیراعظم ہاؤس کی قیمتی گاڑیاں اور اعلیٰ نسل کی بھینسیں نیلام کردی گئیں اور بتایا گیا کہ اس سے معیشت کو کس قدر فائدہ ہوگا۔ اسی طرح وزیرِاعظم ہاؤس اور ایوان صدر سمیت اہم حکومتی اداروں میں شاہانہ کھانے کی روایت ختم کرکے اس کی جگہ پانی یا اگر زیادہ ہی دریا دلی دکھانی ہو تو چائے اور چند بسکٹ مہمانوں کی تواضع کے لیے رکھے جانے لگے۔ سرکاری سطح پر تحفے تحائف کے کلچر پر پابندی عائد کردی گئی اور اس ملک کے لوگوں کو پہلی بار پتا چلا کہ ہیلی کاپٹر کا فی کلومیٹر خرچہ اب صرف 55 روپے ہوتا ہے۔
عام آدمی کے لیے یہ تمام خبریں باعث تسکین تھیں اور انہیں لگا کہ اب ان کے حالات بدلنے والے ہیں۔ خاص طور پر اس ملک کے ان صحافیوں کو تو اس بات پر حد درجہ یقین تھا جنہوں نے دن دیکھا نہ رات، دھرنے ہوں یا بنی گالا، کڑاکے کی سردی ہو یا جھلسا دینے والی گرمی، ہر طرح کی بھوک پیاس برداشت کرکے وہ تحریک انصاف کی کوریج کرتے کرتے اس حد تک چلے گئے تھے کہ اگر کبھی انہیں دوسری جماعت کی کوریج کے لیے بھیجا جاتا تو انہیں احساس ہوتا کہ وہ تو تحریک انصاف کے کارکن بن چکے ہیں۔ہمارے ساتھی اس انتظار میں رہے کہ ایک دن آئے گا جب خوشحالی ان کی ساری تھکن اتار دے گی لیکن تحریک انصاف کے اقتدار میں آنے کے بعد جوں جوں دن گزرتے گئے معاملہ الٹ ہوتا چلا گیا۔ عمران خان کے وزیر اعظم بنتے ہی جس طبقے نے سب سے پہلے مصائب کا سامنا کیا وہ میڈیا ورکر ہی تھے۔ ملک بھر کے میڈیا اداروں سے کارکنوں کو برطرف کرنا شروع کردیا گیا اور جو باقی بچ گئے ان کی تنخواہوں میں 20 سے 50 فیصد تک کٹوتی کر دی گئی۔ کہیں کوئی فریاد نہیں سنی گئی، الٹا یہ کہا گیا کہ میڈیا کو چلانا ہمارا کام نہیں۔
دوسری طرف تجاوزات کے نام پر ملک کے بڑے شہروں میں غیر قانونی رہائش گاہوں اور مارکیٹس کو مسمار کرنے کا کام شروع ہوا جس سے پتھارے والے بھی نہ بچ سکے۔ اگرچہ تجاوزات کے خلاف کارروائی سے تو کوئی بھی اختلاف نہیں کرسکتا لیکن جن جگہوں سے خود بلدیاتی ادارے کرائے لیا کرتے تھے، وہاں کے لوگوں کو اچانک بے دخل کرنا اور انہیں متبادل نہ دینا زیادتی تھی۔ پھر جن افسران نے رشوت لے کر یا فرائض سے غفلت برتتے ہوئے ان تجاوزات کو بننے کی اجازت دی، ان کے خلاف تو کوئی کارروائی اب تک نہیں کی جا سکی۔اسی طرح نیب کی جانب سے حکومت کے سیاسی مخالفین کے خلاف جتنی بھی کارروائیاں ہو رہی ہیں، حکومت اس وقت ناصرف ان سے بہت خوش نظر آتی ہے بلکہ نیب کی مسلسل وکالت بھی کی جارہی ہے۔ ایک طرف حکومت کہتی ہے کہ نیب آزاد ادارہ ہے اور اپوزیشن کے رہنماؤں پر جو کیسز ہیں وہ ان کے دور میں نہیں بنے لیکن جب جب کسی بھی اپوزیشن رہنما کے خلاف کارروائی ہوتی ہے تو حکومت اس اقدام کی وکیل بن جاتی ہے۔ حیران کن بات یہ ہے کہ وفاقی وزرا اور پارٹی کے اہم رہنما اکثر اپوزیشن کے ان رہنماؤں کے خلاف بھی کارروائی کا عندیہ دے دیتے ہیں جن کے بارے میں نیب کی جانب سے کوئی اعلان بھی نہیں کیا گیا ہوتا۔
اب ملک بھر خصوصاً پنجاب اور سندھ میں نیب کی کارروائیوں کے نتیجے میں سرکاری دفاتر میں کام کی رفتار سست ہوچکی ہے۔ وفاقی محکموں میں ایسے افسران کی ایک بڑی تعداد موجود ہے جن کی وفاداریاں گزشتہ حکومت کے ساتھ تھیں لہٰذا ایسے افسران اس لیے کام نہیں کررہے تاکہ حکومت کمزور ہوجائے اور ستم ظریفی یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے پاس اس کا کوئی حل ہے نہ متبادل۔ دوسری جانب معاملہ سیاسی رویوں کا بھی ہے، پارلیمان وہ فورم ہے جہاں حکومتی رویوں کا واضح پتا چلتا ہے لیکن اگست 2018 سے رواں ماہ تک دیکھا جائے تو قومی اسمبلی یا سینیٹ کے جب بھی اجلاس ہوئے، حکومتی ذمہ داران نے خود ہی اپنے لیے مسائل پیدا کیے۔ ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ چونکہ ایوان بالا اور ایوان زیریں کو چلانے والے چیئرمین سینیٹ اور سپیکر ملک کے بڑے ایوان چلانے کا تجربہ نہیں رکھتے، اس لیے اکثر وہ حالات کنٹرول نہیں کر پاتے۔ گزشتہ دس گیارہ ماہ کے دوران جتنی قانون سازی کی ضرورت تھی، وہ نہیں ہو ائی۔ پارلیمان، جہاں عوامی مسائل پر بات ہوتی ہے، وہاں بس الزامات ہی لگ رہے ہوتے ہیں اور یوں اس اہم ترین فورم پر منتخب نمائندوں کو اتنی فرصت ملی ہی نہیں کہ وہ اپنا اصل کام کرسکیں۔
وزیرِاعظم عمران خان عملی کام کرنے کے بجائے صرف الزامات پر تکیہ کیے ہوئے ہیں جس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ حالات بہتر ہونے کے بجائے خراب سے خراب تر ہوتے جارہے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اور ماضی کے حکمرانوں کے درمیان کوئی فرق ہی نہیں رہ گیا۔ اگر ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے بدترین سیاسی مخالف چوہدری ظہور الٰہی کے خلاف بھینس چوری کا مقدمہ بنا کر تاریخ رقم کی تو عمران خان کی حکومت نے مسلم لیگ نون کے اہم رہنما چوہدری ثنااللہ سے جان چھڑانے کے لیے ان کی گاڑی سے منشیات برآمد کرا دی۔
ایسے میں عام آدمی کو سابق اور موجودہ حکومت میں کوئی فرق نظر نہیں آتا اور یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان کا ہر تیسرا فرد اس جمہوریت کو گلے کا پھندا کہنے پر مجبور دکھائی دیتا ہے۔ عام آدمی یہ بھی کہتا ہے کہ معاشی یا سیاسی میدان میں عمران خان کی حکومت بے شک ناکام ہی کیوں نہ ہو لیکن جس قدر صفائی سے جھوٹ بولے جاتے ہیں اور اپنے عیبوں کی پردہ پوشی کی جاتی ہے انہیں دیکھ کر بے اختیار اردو کے معروف شاعر ڈاکٹر کلیم عاجز کا یہ شعر یاد آتا ہے کہ
دامن پہ کوئی چھینٹ، نہ خنجر پہ کوئی داغ
تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو