09 اپریل 2020
تازہ ترین

گلے کا پھندا   (2) گلے کا پھندا (2)

پہلے کیپیٹل ٹی وی اور چینل 24 عمران خان کے خلاف پروگرام نشر کرنے پر نشانہ بنائے گئے جبکہ کچھ دن قبل جیو ٹی وی پر حامد میر جیسی قدآور شخصیت کا مقبول پروگرام ’کیپیٹل ٹاک‘ چند منٹ بعد ہی آف ائیر کر دیا گیا کیونکہ خدشہ تھا کہ اس میں پاکستان کے سابق صدر اور نیب کے حالیہ اسیر آصف علی زرداری موجودہ وزیراعظم یا ان کی حکومت کے خلاف کچھ انکشافات نہ کر گزریں۔ اس سے پہلے ایک اور ممتاز ٹی وی اینکر طلعت حسین ایسی پالیسیوں سے شدید اختلافات کی بنا پر ٹی وی کو خیر باد کہہ چکے اور ان دنوں اپنا یو ٹیوب چینل چلا رہے ہیں۔فوجی آمروں کی جانب سے پریس ایڈوائسز بھیجنے کا تکلف عام طور پر پی آئی ڈی یا ڈی جی پی آر کیا کرتے تھے لیکن پی ٹی آئی حکومت یہ کام نہایت خاموشی سے انجام دے رہی ہے کیونکہ اس کی لگامیں جن نادیدہ افراد کے ہاتھوں میں ہیں، انہیں جانتے تو سب ہیں لیکن کوئی ان کا نام لینے کی جرات کرسکتا ہے اور نہ ہی وہ خود سامنے آنے کے خواہش مند ہیں۔ ہاں، آفرین ہے قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر پر کہ انہوں نے اسپیکر کی کرسی سے براہ راست پریس ایڈوائس جاری فرمائی کہ میڈیا میں وزیراعظم کو سلیکٹڈ لکھا، بولا یا پکارا نہیں جا سکتا۔
گزشتہ دنوں کونسل آف نیوز پیپرز سوسائٹی (سی پی این ای) کے وفد کے ہمراہ وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان سے ملاقات رہی۔ محترمہ فاطمہ جناح میڈیکل کالج لاہور کی فارغ التحصیل ہیں لیکن سیاست کی ڈگریاں انہوں نے مسلم لیگ ق اور پیپلز پارٹی سے حاصل کی ہیں۔ ایک زمانے میں وہ عمران خان کی بدترین نقاد تھیں لیکن اب وہ یہی فریضہ خود عمران خان کی جانب سے اپنی پرانی سیاسی جماعتوں کے لیے انجام دے رہی ہیں۔انہی دنوں امیر قطر نے پاکستان میں براہ راست سرمایہ کاری اور ڈپازٹس کے لیے تین ارب امریکی ڈالر کا اعلان بھی کیا تھا۔ ڈاکٹر صاحبہ نے عوام اور حکومت کی جانب سے امیر قطر کا شکریہ ادا کرنے کے ساتھ ساتھ وزیراعظم عمران خان کی بھرپور وکالت بھی کی اور کہا کہ وہ پوری دنیا میں پاکستان کے تشخص، وقار، قومی سلامتی اور دفاع کا مقدمہ لڑ رہے ہیں۔ ان کے بقول دنیا عمران خان پر اعتماد کر رہی ہے اور عالمی قیادت وزیراعظم عمران خان کے ساتھ کھڑی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسٹیٹس کو کا خاتمہ وزیراعظم کا وژن اور پی ٹی آئی کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایم این ایز کے ووٹوں سے منتخب ہونے والے وزیراعظم کو سلیکٹڈ کہنے والے ناصرف ان کی بلکہ پوری پارلیمان کی توہین کرتے ہیں۔ البتہ ڈاکٹر صاحبہ نے اس موضوع پر لب کشائی نہیں کی کہ جن لوگوں نے ماضی میں منتخب پارلیمان پر بار بار باقاعدہ لعنتیں بھیجی تھیں، انہوں نے کس کی توہین کی تھی۔
چند دن پہلے حیرت انگیز طور پر وزیراعظم عمران خان نے ایک ایسے میڈیا گروپ کی ٹی وی نشریات میں شرکت کی جس کے وہ بدترین مخالف رہے ہیں کیونکہ کبھی وہ اپنے کارکنوں کو اس گروپ کے اخبارات کے بائیکاٹ کی تلقین کیا کرتے تھے اور کبھی اپنی میڈیا ٹیم کو اس ٹی وی کی نشریات میں بطور مبصر جانے سے روک دیا کرتے تھے۔ یہ جیو نیوز کی خصوصی ٹرانسمیشن تھی جو تحریک انصاف کی حکومت کی جانب سے متعارف کردہ اثاثے ظاہر کرنے کی اسکیم پر ’پاکستان کے لیے کر ڈالو‘ کے عنوان سے کی گئی۔ اس میراتھن ٹرانسمیشن کے دوران وزیراعظم عمران خان اور ان کی معاشی ٹیم نے میزبان حامد میر کے سوالات کے جواب دیے جس کے بعد ایک نئی بحث نے جنم لے لیا۔ کچھ لوگ اس ٹرانسمیشن میں شرکت کو وزیراعظم عمران خان کا بڑا پن کہتے ہیں تو بعض اسے جیو کی جیت قرار دیتے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ وزیراعظم نے پہلی بار براہ راست سوالات کے جوابات دے کر نئی تاریخ بھی رقم کر دی ہے،لیکن کچھ حلقے نہایت تاسف کے ساتھ کہتے ہیں کہ یہ کسی کا بڑا پن تھا نہ ہار جیت بلکہ حقیقت میں یہ مفادات کا معاملہ تھا کہ جب جسے موقع ملے، فائدہ اٹھا لے کیونکہ یہ وہی حامد میر ہیں جن کا پروگرام اس میراتھن ٹرانسمیشن کے چند دن بعد ہی آف ائیر کر دیا گیا تھا۔ اگر معاملہ ’بڑے پن’ کا ہوتا تو کچھ ’بڑا پن‘ اس ٹرانسمیشن کے بعد بھی نظر آتا۔
کڑوا سچ یہ ہے کہ پی ٹی آئی حکومت اب تک عام آدمی سے لے کر میڈیا تک کسی کو مطمئن کر سکی اور نہ ہی اپنی کارکردگی سے متاثر کر سکی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عمران خان نے وزیراعظم بننے سے پہلے ملک کا اقتدار حاصل کرنے کے لیے انتھک جدوجہد کی۔ 2013 کے عام انتخابات میں دھاندلی کا الزام لگایا اور مرحلہ وار تحریک شروع کی جس میں انہوں نے مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلزپارٹی اور جے یو آئی (ف) کو شدید ہدف تنقید بنایا۔ اس پورے معاملے میں میڈیا اور ریاست کے اہم ادارے عمران خان کے ساتھ کھڑے رہے جس کے نتیجے میں انہوں نے اپنی بائیس سالہ جدوجہد کا ثمر حاصل کر ہی لیا۔ انتخابی مہم میں ان کا نعرہ تھا کہ پاکستان سے لوٹی گئی 200 ارب ڈالر کی رقم سوئٹزر لینڈ سے واپس لے آئیں گے، بڑے چوروں کو گرفتار کر کے ان کا احتساب کریں گے، بدعنوانی کا مکمل خاتمہ کردیا جائے گا کیونکہ معاشرے اس وقت تباہ ہوجاتے ہیں جب ان میں انصاف نہ رہے۔ وہ کہتے تھے کہ جب بھی اس طرح کی سماجی بیماریاں ختم ہوں گی تو پاکستان دیکھتے ہی دیکھتے ایک خوشحال ملک بن جائے گا۔
عام انتخابات سے پہلے ہی یہ تاثر بہت حد تک واضح ہوچکا تھا کہ 2018 میں حکومت تحریک انصاف کو دی جا رہی ہے کیونکہ نواز شریف نااہل ہوچکے تھے اور ان کی جماعت حکومت میں ہونے کے باوجود شدید دباؤ میں تھی۔ خود تحریک انصاف کے رہنما بار بار یہ دعوٰی کررہے تھے کہ وہ حکومت بنانے جارہے ہیں اور حکومت میں آنے کے بعد جو کچھ کرنا ہے، اس کا ہوم ورک مکمل ہوچکا ہے۔حکومت مخالف تحریک کی ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ تحریک انصاف کے خیال میں گزشتہ حکومتوں نے ملک کا بیڑہ غرق کردیا تھا اور معیشت تباہ کردی گئی تھی لیکن آج حکومت ملنے کے گیارہ ماہ بعد بھی جس طرح وزرا کے ہاتھ پیر پھولے ہوئے ہیں اسے دیکھ کر شدید حیرت ہوتی ہے۔ پی ٹی آئی کے منتخب ارکان تو اب جانے کہاں ہیں کیونکہ اہم وزارتوں پر وہ لوگ بیٹھے ہیں جنہیں عمران خان نام لے لے کر مطعون قرار دیا کرتے تھے۔ بہت سے لوگ تو یہ کہتے ہیں کہ انہیں دھوکہ دے کر ووٹ لیا گیا ورنہ تحریک انصاف پہلے حکومت کی اہل تھی نہ اب ہے کیونکہ انتخابی مہم کے دوران کیے جانے والے عمران خان کے دعووں کے حوالے سے اب تک ایک بھی عملی قدم نہیں اٹھایا جا سکا۔    (جاری ہے)