10 اپریل 2020
تازہ ترین

گلے کا پھندا گلے کا پھندا

کسی قومی شاہراہ پر نکل جائیں تو اکثر ہر آٹھویں، دسویں ٹرک کے پیچھے ایک فوجی جرنیل کی پینٹنگ نظر آئے گی جس کے نیچے ایک جملہ لازمی تحریر ہوتا ہے ’تیری یاد آئی تیرے جانے کے بعد‘۔ اگر مصور نوآموز ہے تو اس جرنیل کو پہچاننے میں دشواری ہو سکتی ہے لیکن اگر وہ اپنے فن کا ماہر ہے تو فوراً علم ہو جائے گا کہ یہ پاکستان میں مارشل لا کے بانی، ملک کے پہلے چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر اور سابق صدر فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کی تصویر ہے۔
میں نے خود درجنوں یا سیکڑوں بار یہ تصویر دیکھی لیکن آج پہلی بار یہ سوچ ذہن میں ابھری کہ آخر اڑتالیس سال بعد بھی لوگوں کو ایوب خان کی یاد کیوں آتی ہے کیونکہ بعض حلقے انہیں جمہور کا مجرم، سیاست کا دشمن اور میڈیا کا قاتل قرار دیتے ہیں۔ جمہوریت کے قاتل کے طور پر جنرل ایوب خان ملک کے پہلے چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بنے اور ’ایبڈو‘ نامی بدنام زمانہ قانون متعارف کرایا جس کے تحت منتخب عوامی نمائندوں سمیت لگ بھگ سات ہزار سیاست دانوں کو نااہل قرار دے دیا گیا۔ میڈیا کے قاتل کے طور پر جنرل ایوب خان نے 1960 میں پریس اینڈ پبلی کیشنز آرڈیننس میں ترمیم کی جس کے تحت وہ کسی بھی اخبار یا میڈیا ہاؤس کو بند کرنے یا اسے سرکاری تحویل میں لینے کے مجاز قرار پائے اور پاکستان ٹائمز، مشرق اور امروز جیسے موقر اخبارات ان کی خواہشات کی نذر ہو گئے۔ صرف یہی نہیں بلکہ ان کے دور میں ٹریڈ یونینز اور طلبا تنظیمیں زیر عتاب رہیں جبکہ مساجد کے آئمہ حضرات کو خصوصی ہدایات دی گئی تھیں کہ وہ اپنے مواعظ و خطبات میں سیاست پر کبھی بات نہ کریں۔
یہ تو سب جانتے ہیں کہ موجودہ پاکستان کے سب سے بڑے سیاسی میدان جنگ یعنی ’اسلام آباد‘ کی بنیاد جنرل ایوب خان نے ہی رکھی تھی لیکن کچھ لوگ کہتے ہیں کہ پاکستان میں وزیراعظم عمران خان کے بر سر اقتدار آنے سے پہلے تک جو ترقی ہو رہی تھی، اس کے بانی یا ماسٹر مائنڈ بھی ایوب خان ہی تھے۔ ایک طبقہ کہتا ہے کہ ایوب خان نے پاکستان کے تین دریا راوی، چناب اور بیاس (موخرالذکر دریا پاکستان میں بہتا ہی نہیں) بیچ کر ملک میں قحط آب کی بنیاد رکھی تو ایسے لوگوں کی بھی کوئی کمی نہیں جو تربیلا اور منگلا کا حوالہ دے کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہے کوئی مرد میدان ایسا جس نے ان سے چوتھائی گنجائش کا بھی کوئی ڈیم بنایا ہو۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اس وقت بھی پاکستان اپنی تین چوتھائی بجلی انہی دو ڈیموں سے حاصل کرتا ہے۔
جمہوریت کے قلیل سے وقفے کے بعد جنرل ضیاالحق ہم پر مسلط ہو گئے۔ آئے تو وہ نوے دن میں نئے انتخابات کے انعقاد کے لیے تھے لیکن بعد میں مذہب کے نام پر ناصرف اپنے اقتدار کو طول دیتے رہے بلکہ فرقہ بندیوں کا ایسا بیج بھی بو گئے کہ رہا سہا مذہب بھی خطرے میں پڑ گیا۔ انہوں نے جہاد کے نام پر قوم کو کلاشنکوف اور ہیروئن کلچر اور ملک کو افغان مہاجرین کے ایسے تحفے دیے کہ جن کا خمیازہ آج بھی بھگتا جا رہا ہے۔ انہوں نے کالا باغ ڈیم کا نعرہ بھی لگایا لیکن کالا باغ ڈیم تو نہ بن سکا تاہم ہم ایک عرصہ سے اس کے ’سبز باغ‘ ضرور دیکھ رہے ہیں اور جانے کب تک دیکھتے رہیں گے۔ ضیاالحق کے مشہور زمانہ ’رفقا‘ اور انہیں یاد کرنے والے ابھی کم نہیں ہوئے تھے کہ پرویز مشرف کا سورج طلوع ہو گیا۔ وہ بھی ایوب خان اور ضیاالحق کی طرح ڈکٹیٹر ہی تھے اس لیے انہوں نے بھی اس قوم کے ساتھ وہی کیا جو ہٹلر نے یہودیوں کے ساتھ کیا تھا۔ انہیں اس لحاظ سے بھی یاد رکھا جائے گا کہ ان کے ایک فیصلے سے پاکستان ناصرف خود بدترین دہشت گردی کا شکار ہوا بلکہ دنیا اسے دہشت گرد ملک قرار دینے لگی۔ پرویز مشرف کی وجہ سے پاکستان کو عالمی سطح پر جن اخلاقی، معاشی، سفارتی اور مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، ان کی تلافی شاید ہی کبھی ممکن ہو سکے لیکن اس کے باوجود ان کے سویلین جانشینوں نے انہیں نہایت عزت و تکریم کے ساتھ گارڈ آف آنر دے کر ایوان صدر سے رخصت کیا۔
یہاں تک تو معاملہ فوجی ڈکٹیٹروں کا تھا لیکن بد قسمتی سے ہمارے جتنے سویلین حکمران بھی برسراقتدار آئے ان کے ناصرف بیج ان ’فوجی نرسریوں‘ میں بوئے گئے بلکہ ان کی پرورش بھی یہیں ہوئی اس لیے جنرل ایوب خان کا ایبڈو، ضیاالحق کا جہاد اور پرویز مشرف کی عاقبت نااندیشی ہر جمہوری دور حکومت میں عروج پر رہی۔ یوں جمہوریت میں جمہور پر ظلم بھی جاری رہا، سیاست دانوں کی سیاسی دشمنی بھی چلتی رہی اور میڈیا بھی قتل ہوتا رہا۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ پیپلز پارٹی اور نون لیگ کے بعد پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی صورت جمہوریت کی ’تیسری پیٹرھی‘ میں بھی وہی سب کچھ ہو رہا ہے جس کا آغاز ایوب خان نے کیا تھا۔ جب جمہوریت واپس آئی تو نواز شریف اور بے نظیر بھٹو سیاست دان ہونے کے باوجود ایک دوسرے کو ایسے انتقام کا نشانہ بنانے میں مصروف ہو گئے کہ ان کے فوجی پیشروؤں نے بھی عالم بالا سے یقیناً سنہرے حروف میں ہی ان کے قصائد لکھے ہوں گے۔ ایسے میں عمران خان سامنے آئے جو بائیس برس سے قوم کو دلدل سے نکالنے کی یقین دہانیاں کرا رہے تھے لیکن اب تک کسی نے ان کی آواز پر کان دھرنے کی زحمت گوارا نہیں کی تھی۔ بالآخر انہوں نے 2011 میں تبدیلی کا سب سے پہلا نعرہ لگایا لیکن پاکستانی قوم چونکہ ڈنڈے کو اپنا پیر تسلیم کرتی ہے اس لیے سات سال تک اسے اس نعرے پر یقین ہی نہیں آیا چنانچہ 2018 میں اسے یقین ’دلایا‘ گیا کہ تبدیلی آئے گی اور یقینناً آئے گی۔
اور پھر تبدیلی آ گئی لیکن اس سویلین حکومت نے تبدیلی کی آڑ میں وہ کچھ کیا کہ نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کو سراہنے والوں کی روحیں بھی شرمندہ ہوئی ہوں گی۔ فوجی آمروں نے میڈیا کو تو صرف قتل کیا تھا لیکن وزیراعظم عمران خان نے اسے بہ نفس نفیس اپنے ہاتھوں دفن کرنے کا نیک فریضہ بھی انجام دیا۔ ویسے تو جولائی 2018 کے عام انتخابات سے پہلے ہی میڈیا کو نکیل ڈالنے کا سلسلہ شروع کر دیا گیا تھا تا کہ عمران خان کو برسر اقتدار لانے کی کوششوں کی پردہ پوشی کی جا سکے لیکن اس کے بعد تو جیسے حد ہی کر دی گئی۔ وزیراعظم عمران خان کی جمہوری حکومت نے میڈیا ہاؤسز کو لگام ڈالنے کے لیے ایسے اقدامات کیے کہ ہزاروں کارکن بے روزگار ہو گئے۔ ملک میں پرائیویٹ اور آزاد میڈیا متعارف کرانے اور اسے جبراً بند کرنے کا سہرا سابق فوجی آمر جنرل پرویز مشرف کے سر جاتا ہے۔ عمران خان نیا میڈیا متعارف کرانے میں تو ناکام رہے لیکن میڈیا کا گلا دبانے میں وہ پرویز مشرف سے بھی چار ہاتھ آگے نکل گئے کیونکہ پرویز مشرف نے تو ببانگ دہل اپنے مخالف ٹی وی چینلز کو بند کیا لیکن عمران خان کے دور میں تو چلتے پروگرام ناصرف نہایت خاموشی اور رازداری سے آف ایئر کر دیے جاتے ہیں بلکہ میڈیا ہاؤسز کو اُف بھی نہیں کرنے دی جاتی۔    (جاری ہے)