25 مئی 2019
تازہ ترین

غربت، جہالت، توہم پرستی یا اندھا اعتقاد…؟ غربت، جہالت، توہم پرستی یا اندھا اعتقاد…؟

ویسے تو پاکستان میں شاید ہی کوئی ایسا فرد ہو جو دعویٰ کرسکے کہ وہ مکمل صحت مند ہے، اگر ہم جائزہ لیں تو صرف نفسیاتی عوارض کے شکار مریضوں کے متعلق اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ملک میں پانچ کروڑ لوگ نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہیں، 44 فیصد افراد ڈپریشن کا شکار ہیں۔ خواتین میں یہ تعداد 57 اور مردوں میں صرف 25 فیصد ہے۔ اگر ان اعدادوشمار کو دیکھ کر بھی لوگ اس مسئلے پر توجہ نہیں دیتے تو پھر کسی ’’چنگھاڑ‘‘ کا انتظار کریں۔ ان ذہنی عوارض کا علاج ہم ان نام نہاد عاملوں کے آستانوں پر تلاش کرنے جاتے ہیں جو خود کسی نہ کسی ذہنی عارضے، ہوس زر و دیگر برائیوں کا شکار ہیں۔ آپ اندازہ لگائیے ایک ایسا ملک جس کی 44 فیصد آبادی ڈپریشن کا شکار ہو، وہاں صرف ساڑھے سات سو تربیت یافتہ سائیکاٹرسٹ موجود ہیں۔ یعنی ہر دس ہزار مریضوں کے لیے صرف ایک ماہرنفسیات دستیاب ہے اور نفسیاتی بیماریوں کے شکار 40 لاکھ بچوں کے لیے صرف ایک چائلڈ سپیشلسٹ موجود ہے اور  ملکی آبادی کے لیے نفسیاتی امراض کے صرف چار بڑے ہسپتال ہوں، وہاں ہر گلی محلے میں نیم حکیم اور عامل بابوں کے آستانے موجود ہوں تو اس میں اچنبھے کی کون سی بات ہے۔ 
پاکستان میں جعلی پیر کا لفظ ایسے لوگوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جو غیبی طاقتوں یا کرشمہ سازی کے دعویدار ہوتے ہیں۔ توہم پرست اور جاہل لوگوں کی کثیر تعداد ان کو ’’پہنچا‘‘ ہوا سمجھ کر ان کی مرید ہوجاتی ہے۔ جعلی پیر کے کارندے کرشمہ سازی اور شعبدہ بازی میں مدد دے کر لوگوں کو مرغوب کرتے ہیں۔ یہ لوگ اپنا تعلق پرانے صوفیوں سے جوڑتے اور عوام ان کو پہنچا ہوا سمجھتے ہیں۔ بعض پیر جنات کو اپنے قبضے میں بتاتے ہیں اور سائلین سے ان کی مدد سے کوئی بھی کام کرالینے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ یہاں جعلی پیروں اور عاملوں کے کہنے پر توہم پرست اور کمزور عقائد رکھنے والے افراد کی جانب سے انسانی جانیں لینے، خصوصاً کم سن بچوں کے قتل کی بڑھتی وارداتوں سے ملک بھر  کے اخبارات بھرے پڑے ہیں۔ جعلی پیر اور عامل مختلف پریشانیوں کے شکار افراد کو مشکلات سے چھٹکارا پانے کے لیے انسانی جان لینے کے علاوہ دہکتے انگاروں سے گزرنے، رات بھر کسی نہر کے پانی میں یا سوکھے کنویں میں کھڑے رہنے، خطرناک جنگلوں، ریگستانوں یا قبرستانوں میں چلہ کشی کرنے کے مشورے دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ جعلی عاملین نذرانوں کی مد میں بھی ان افراد سے نقد رقم اور قیمتی اشیاء  بٹورتے ہیں، گھر بسانے کے چکر میں گھر اجاڑ دیے جاتے ہیں۔ جعلی عاملوں سے لوگوں کو بچانے کے لیے قانون کے مؤثر نفاذ کی ضرورت ہے۔ توہم پرستی اور لالچ کو فروغ دینے میں میڈیا کا کردار بھی گھناؤنا ہے، بعض چینلز اور اخبارات جعلی دوائیوں، جعلی ڈاکٹر، جعلی پیر، تعویز گنڈے  اور طلاء فروشوں کے اشتہارات سے  بھرے ہوتے ہیں۔
یہ جہالت ہے، غربت ہے، توہم پرستی ہے یا اندھا اعتقاد کہ پاکستان میں ذہنی اور نفسیاتی بیماریوں کا علاج عاملوں، کاملوں اور نام نہاد پیروں کے ذریعے کرانے پر زور دیا جاتا ہے۔ آپ صرف گوگل کرکے دیکھ لیجیے، ایسے ہزاروں واقعات مع تفصیلات نظر آئیں گے، جن میںکہیں جن نکالنے اور کہیں جادوٹونے کے اثرات ختم کرنے کے اور ’’بچہ‘‘ حاصل کرنے کے نام پر یہ ’عامل‘ معصوم بچوں، بچیوں اورخواتین کو ہلاک کرنے کے ساتھ آبروریزی جیسے گھناؤنے جرائم کا ارتکاب کرچکے ہیں، اس ضمن میں ریاست اپنی ذمے داری پوری کرنے سے ناصرف قاصر رہی ہے بلکہ شاید ابھی تک ان کلپرٹ کے خلاف کوئی قانون سازی بھی نہیں کرسکی اور نہ ہی حکومت کے پاس ملک بھر کے آستانوں کا کوئی ڈیٹا ہے، حالانکہ حکومت کو چاہیے تھا کہ شہریوں کے ساتھ توہین آمیز سلوک کرنے والے ایسے مراکز کے بارے میں جان کاری رکھتی، جہاں آئے روز بدترین سانحات جنم لیتے ہیں۔ ایسے آستانوں اور درگاہوں بارے کیسی کیسی کہانیاں منظرعام پر آتی ہیں کہ روح تک کانپ اٹھتی ہے، لیکن اگر کسی پر اثر نہیں ہوتا تو وہ حکومت ہے۔ 
جب کوئی بڑا المیہ رونما ہوتا ہے اور شور شرابے کے بعد وقتی پکڑ دھکڑ ہوتی ہے، پھر اس کے بعد گلشن کا کاروبار اسی طرح جاری و ساری رہتا ہے۔ دلچسپ بات کہ گلی گلی، محلے محلے ان نام نہاد پیروں، عاملوں کے آستانے آباد ہیں، جو سرعام ’’جسمانی و روحانی‘‘ عوارض کا ’’شافی علاج‘‘ کرتے پائے جاتے ہیں۔ یہ ایک ایسا کام ہے جس میں کسی تعلیم، تجربے اور مہارت کی ضرورت نہیں۔ ہر ’’بابے‘‘ اور عامل کی مارکیٹنگ کرنے والے مرد و خواتین موجود ہوتے ہیں، جن کے پاس ان کے ’’کمالات‘‘ کی ایسی ایسی کہانیاں موجود ہوتی ہیں کہ اچھے خاصے پڑھے لکھے (جاہل) بھی ان سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتے۔
ویسے تو اس کی بنیادی وجہ انسانی پریشانیوں کو قرار دیا جاتا ہے، لیکن غربت، بے روزگاری کے ساتھ سب سے بڑا سبب جہالت بھی ہے، کیونکہ جب لوگ عقل کا استعمال نہیں کرتے اور شعور نہیں رکھتے تو ایسے اندھے ’’عقیدت مندوں‘‘ کے ساتھ پھر ’’انسانیت سوز‘‘  واقعات معمول بن جاتے ہیں اور میڈیا ’’جعلی‘‘ کی گردان کے ساتھ بریکنگ نیوز نشر کرنا اپنا فرض منصبی سمجھتا ہے، میڈیا یا  اور لوگ عوام کی رہنمائی فرماتے ہوئے اصلی پیر یا عامل کی پہچان اور نشانی بتادیں تو شاید بہتوں کا بھلا ہوجائے۔ پاکستان جہاں کی 40 فیصد سے زائد آبادی غربت کا شکار ہے، جہاں انصاف کا حصول ازحد مشکل ہے، جہاں انسانیت کی تذلیل ہرسو ہورہی ہو، وہاں ظلم پر مبنی حکومت کا قائم رہنا بذات خود ایک سوالیہ نشان ہے۔ یہ ریاست کی ہی ذمے داری ہے کہ وہ ذہنی عوارض میں مبتلا عوام کے علاج کے ساتھ انہیں پریشانیوں میں مبتلا کرنے والے عاملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے اقدامات کرے۔ اگر وہ خود کو ریاست (ماں جیسی) سمجھتی ہو تو جدید ذہنی عوارض کی علاج گاہوں کا قیام عمل میں لائے، جہاں منشیات کے عادی افراد  کا بھی علاج ہوسکے، کیونکہ وہ بھی ذہنی عوارض کی وجہ سے ہی اس لعنت کا شکار ہوتے ہیں۔ 
ایسے واقعات کی وجہ کچھ بھی ہو، یہ حکومت کی ذمے داری ہے کہ وہ اپنے شہریوں کی فلاح و بہبود اور تحفظ کو یقینی بنائے۔ ریاست کا کردار  اس ضمن میں اولین حیثیت رکھتا ہے، جس کا کام معاشرے کو مضبوط بنیادیں فراہم کرنا بھی ہوتا ہے اور جن معاشروں کے اندر سماجی انصاف ہوتا ہے، وہاں اس طرح کے جرائم کم نظر آتے ہیں۔ اس ضمن میں سب سے بنیادی کردار تو ریاست کا ہی ہے کہ وہ  اپنے ہر شہری کی ذہنی، جسمانی و مالی حالتوں کی نگہداشت کرنے کے ساتھ ان کے تحفظ کو بھی یقینی بنائے، لیکن  معاشرے کے باشعور افراد کی بھی ذمے داری ہے کہ وہ اپنے اردگرد ہونے والی ’’خرابیوں، بُرائیوں‘‘ کے نقصانات کے تدارک کے ضمن میں اپنا کردار ادا کریں، ضعیف الاعتقادی اور توہم پرستی کے قلع قمع کے لیے جہالت کا خاتمہ بھی ضروری ہے۔ آخری بات تمام آستانوں کا ڈیٹا مرتب کرنے کے ساتھ انہیں کسی حکومتی اتھارٹی کے دائرہ کار میں لایا جائے، تاکہ اس طرح کے واقعات کا سدباب کیا جاسکے۔