25 جون 2019

گدھے، گھوڑے اور ہم   ( 8) گدھے، گھوڑے اور ہم ( 8)

سلطانہ کے لیے منشی ایک قابل بھروسہ شخص تھا اور وہ اس سے اکثر ملتا رہتا تھا۔ ایک دن منشی نے بہانے سے سلطانہ کو ایک جگہ بلایا جہاں پہلے ہی پولیس چھپی ہوئی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ اس آپریشن کی نگرانی سیموئیل پیئرس کر رہا تھا۔ سلطانہ ڈاکو کو بصد کوشش گرفتار کر لیا گیا۔ انگریز افسر کی ہدایت پر اسے ظفر عمر نامی ایک مقامی پولیس افسر کی نگرانی میں دے دیا گیا۔ جس وقت سلطانہ کو گرفتار کر کے نجیب آباد اسٹیشن لایا گیا تو ہزاروں لوگ اس کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے وہاں جمع تھے۔ پولیس کی حراست میں ہونے کے باوجود سلطانہ کی ہیبت اور دبدبے کا یہ عالم تھا کہ لوگ سہمے ہوئے اور بدحواس تھے۔
جیل میں سلطانہ کی دوستی نوجوان پولیس افسر فریڈی ینگ سے ہوئی جو وقت کے ساتھ ساتھ گہری ہوتی چلی گئی۔ فریڈی نے سلطانہ کے لیے قانونی جنگ لڑی اور معافی کی درخواست بھی کی جسے سرکار نے مسترد کر دیا۔ سلطانہ کا بیٹا اس وقت سات سال کا تھا۔ سلطانہ نے فریڈی ینگ سے درخواست کی کہ اس کے بعد وہ بچے کی دیکھ بھال کرے اور اسے تعلیم دلوائے۔ انگریز افسر نے اس کی خواہش کا احترام کیا اور سلطانہ کے دنیا سے رخصت ہونے کے بعد اس کے بچے کو تعلیم کے حصول کے لیے برطانیہ بھیج دیا۔ فریڈی ینگ بعد میں بھوپال کا انسپکٹر جنرل پولیس بنا اور یہیں اس کی زندگی کا سفر تمام ہوا۔ کہتے ہیں کہ اس کی قبر بھی بھوپال میں ہے۔ اسی بھوپال میں عبید اللہ گنج نامی علاقے میں آج بھی سلطانہ ڈاکو کے خاندان کے لوگ آباد ہیں۔
بعض تذکرہ نویسوں نے لکھا ہے کہ سلطانہ ڈاکو عاشق مزاج اور عیاش تھا۔ ایک انگریز لڑکی بھی اس کے عشق میں مبتلا رہی اور ان کے درمیان سلطانہ کی موت تک تعلق قائم رہا۔ سلطانہ ڈاکو کے جرائم کی فہرست طویل تھی۔ اسے بے رحم لٹیرے اور قاتل کے طور پر ثبوتوں کے ساتھ عدالت میں پیش کیا گیا اور مقدمہ کی کارروائی مکمل کرنے کے بعد عدالت نے سلطانہ کو پھانسی کی سزا سنا دی۔ 7 جولائی 1924 کی صبح اس سزا پر عمل درآمد ہوا اور سلطانہ ڈاکو ہمیشہ کے لیے اس دنیا سے رخصت ہو گیا۔ کہتے ہیں کہ جب اسے تختہ دار پر کھینچنے کے لیے لایا جا رہا تھا تو اس کے حامیوں کی بڑی تعداد باہر موجود تھی جو اس کی بہادری کے قصیدے اور اس سے محبت کا اظہار کرنے کے لیے مختلف لوک گیت گا رہے تھے۔
سلطانہ ڈاکو کا ایک دلچسپ واقعہ حمیدہ اختر حسین رائے پوری نے اپنی کتاب ’نایاب ہیں ہم‘ میں نقل کیا ہے۔ لگے ہاتھوں وہ شعر بھی سن لیجیے جس سے یہ عنوان ماخوذ ہے۔
ڈھونڈو گے اگر ملکوں ملکوں، ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم
جو یاد نہ آئے بھول کے پھر، اے ہم نفسو وہ خواب ہیں ہم
سلطانہ ڈاکو بھی شاید اسی ذیل میں آتا ہے۔ جاسوسی ناولوں سے شغف رکھنے والوں نے ’نیلی چھتری‘ والے ظفر عمر کا نام ضرور سنا ہو گا۔ اس ناول نے اپنے زمانے میں بہت شہرت پائی تھی۔ یہ وہی ظفر عمر ہیں جنہوں نے سلطانہ ڈاکو کو گرفتاری کے بعد اپنی حفاظت میں رکھا تھا۔ اس ظفر عمر کی بیگم صاحبہ کی سلطانہ ڈاکو سے جو مڈھ بھیڑ ہوئی اس کا احوال ان کی بیٹی حمیدہ اختر حسین سے سنیے۔ یہ ملاقات کب اور کیسے ہوئی اس کی تفصیل معلوم نہیں ہو سکی۔ بہرحال واقعہ یوں ہے کہ…
ایک لحیم شحیم شخص پگڑ باندھے اندر داخل ہوا اور اماں کو سلام کیا۔ انہوں نے دبدبے والی آواز سے پوچھا… کون ہے؟
’میں سلطانہ ڈاکو‘
’بتائیں کہ میرے خیمے میں کیسے آنا ہوا؟‘
’معاف کیجیے گا بہن، میں ایک تحفہ آپ کے لیے لے کر آیا ہوں۔ میں جس دن آپ کے صاحب کے ہاتھوں گرفتار ہوا تھا تو ان سے کہا تھا کہ جیل سے آتے ہی ایک تلوار کا تحفہ آپ کو دوں گا مگر میں وہ تحفہ اس لیے حاصل نہ کر سکا کہ مہاراجہ رنجیت سنگھ کی وہ تلوار لندن کے میوزیم پہنچ گئی ہے۔ سوچا کہ اب اس کے بدلے کوئی اور تحفہ دے دوں۔
پھر شال میں چھپائی ایک چھوٹی سی پوٹلی نکال کر ان کے سامنے کر دی، یہ کہتے ہوئے کہ اسے ایک بھائی کا تحفہ سمجھ کر لے لیجیے۔ سفید کپڑے کی پوٹلی کھولی جس میں سچے موتیوں کی پچاسوں لڑیاں تھیں۔
’بیشک یہ موتی بڑے نادر ہیں۔ جس خلوص سے آپ نے کہا، بھائی کا تحفہ یعنی میں آپ کی بہن ہوں۔ صرف ایک شرط پر لے لوں گی کہ آپ مجھ سے یعنی ایک بہن سے یہ وعدہ کریں کہ آج کے بعد سے آپ کبھی ڈاکے نہیں ماریں گے اور زندگی کے باقی دن محنت مزدوری سے کما کر کھائیں گے‘۔
سلطانہ ڈاکو تن کر کھڑا ہو گیا اور سینے پر ہاتھ مار کر کہا، ’بہن میرا وعدہ ہے، آپ کو کبھی شرمندگی نہیں ہو گی، اچھا خدا حافظ‘۔
اماں نے کہا، خدا کرے آپ اپنے وعدے کو ہمیشہ یاد رکھیں۔
اور واقعی پھر سلطانہ ڈاکو کی کبھی کوئی واردات سننے میں نہ آئی۔ تو یہ آن تھی اس ڈاکو کی۔ مگر وہ زمانہ اور تھا۔ آج آپ کو شاید سلطانہ ڈاکو کا گھوڑا ’چیتک‘ تو نظر نہ آئے لیکن سلطانہ ڈاکو جیسے کئی افراد آپ کے دائیں بائیں ضرور بیٹھے ہوں گے جو سلطانہ سے زیادہ سفاک ثابت ہو سکتے ہیں۔
داستانوں میں ہے کہ سلطانہ ڈاکو کو پھانسی کی سزا دیے جانے سے پہلے اس سے آخری خواہش پوچھی گئی تو اس نے کہا کہ میری آخری خواہش اپنی ماں سے ملاقات کرنا ہے۔ خواہش کے احترام میں اس کی ماں کو اس کے سامنے لایا گیا۔ اس نے ماں کے قریب جا کر بجائے کچھ کہنے کے اپنی ماں کے کان کو دانتوں سے کاٹ لیا۔ جب سلطانہ سے دریافت کیا گیا کہ اس نے ایسا کیوں کیا تو اُس نے جواب دیا کہ جس وقت میں پہلی بار انڈا چوری کر کے لایا تھا اگر میری ماں نے مجھے روکا ہوتا تو میں ڈاکو نہ بنتا اور نہ ہی آج تختہ دار پر لٹکایا جاتا۔ میری والدہ نے یہ پوچھنے کے بجائے کہ انڈا کہاں سے آیا، انڈا تل کر بیٹے کو کھلا دیا۔ تنگ آمد بجنگ آمد ۔ واقعی میزلو سچ کہتا ہے کہ نفرت اور بھوک ننگ جسم اور ننگ آداب ہوا کرتی ہے اور بھوکے کو صرف کھانا ہی چاہیے ہوتا ہے۔
گھوڑا بہت سی رومانوی داستانوں کا گواہ بھی ہے۔
مرزا صاحباں کا تذکرہ تو آپ نے ضرور سنا ہو گا جو پنجابی ادب کی ایک سچی اور لازوال رومانوی داستان ہے۔ اسے پیلو نامی شاعر نے نظم کی شکل دے کر شہرت دوام حاصل کی۔ مرزا صاحباں کی داستان ہیر رانجھا، سسی پنوں اور سوہنی مہینوال کے ساتھ پنجاب کی چار کلاسیکی رومانوی کہانیوں میں شامل ہے۔
مرزا صاحباں کے رومان کو جو شہرت ملی، وہ اپنی جگہ لیکن مرزا کی تیر اندازی اور اس کی گھوڑی ’بکی‘ کا نام بھی تاریخ کا حصہ ہیں۔ کہتے ہیں کہ مرزا اپنے تیروں سے ہواؤں کو چھیدتا تھا تو اس کی گھوڑی ’بکی‘ ہوا سے تیز بھاگا کرتی تھی۔ مرزا اپنی ماموں زاد صاحباں کو لے کر اسی گھوڑی پر فرار ہوا تھا۔ (جاری ہے)