گدھے، گھوڑے اور ہم   ( 7) گدھے، گھوڑے اور ہم ( 7)

وہ بندوق چلانے کا ماہر تھا۔ کہتے ہیں کہ سلطانہ کا نشانہ بہت کم خطا جاتا تھا۔ اس کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ خطروں سے کھیلنا پسند کرتا تھا جبکہ اسے موت کا مقابلہ کرنا بھی آتا تھا۔ ایک طرف ہندوستان کے نواب، جاگیردار اور امیر طبقہ اس سے پریشان تھا اور اس کی گرفتاری یا پولیس سے مقابلے میں اس کی ہلاکت کی خواہش رکھتا تھا لیکن دوسری جانب سلطانہ ڈاکو نے غریبوں کے دلوں میں اپنے لیے جگہ بنالی تھی۔
غریب اور بے بس لوگ سلطانہ ڈاکو کی درازی عمر کے لیے دعائیں کرتے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ سلطانہ لوٹا ہوا مال ان غریبوں میں تقسیم کر دیتا اور ان کی ضروریات پوری کرتا تھا۔ سلطانہ ڈاکو کا بچپن اور لڑکپن بھی غربت اور مفلسی میں گزرا تھا۔ اسے لوگوں کی تکالیف اور مشکلات کا اندازہ تھا۔ وہ جانتا تھا کہ غریبوں کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول کس قدر مشکل ہے۔ یہی وجہ تھی کہ اس کے دل میں ان کے لیے درد مندی کا احساس اور ان کی مدد کا جذبہ بیدار رہا کیونکہ وہ غریبوں کی مدد کر کے خوشی محسوس کرتا تھا۔
ایک عرصے تک سلطانہ ڈاکو کی گرفتاری میں ناکام رہنے کے بعد اس دور کی انگریز انتظامیہ نے برطانوی سراغ رسانوں اور جاسوسوں کی مدد لینے کا فیصلہ کیا۔ اس سے پہلے سلطانہ ڈاکو کی گرفتاری کے لیے انتظامیہ نے ایک لاکھ روپے کا انعام بھی رکھا تھا، مگر ان کی یہ ترکیب سود مند ثابت نہ ہوئی۔
کسی نے سلطانہ کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں دی اور آخر کار پولیس نے لوٹ مار کی مسلسل شکایات اور قتل کی مختلف وارداتوں کے بعد انگلینڈ کے مشہور سراغ رساں اور جاسوس کو سلطانہ کا کھوج لگانے اور اسے گرفتار کرنے کی ذمہ داری سونپ دی۔ اس حوالے سے پولیس کے ایک افسر سیموئل پیئرس اور سراغ رساں فریڈی ینگ جو مسٹر ینگ کی عرفیت سے پہچانے جاتے تھے کے نام سامنے آتے ہیں۔ 
مختلف تذکروں میں لکھا ہے کہ مسٹر ینگ انگلینڈ میں اپنے شعبے کے ماہر اور ذمہ دار افسر گردانے جاتے تھے۔ انہیں برطانیہ سے خاص طور پر ہندوستان بلایا گیا تھا۔ محققین کے مطابق انگریز دور کے سرکاری ریکارڈ میں سلطانہ ڈاکو اور اس کے جرائم کی تفصیلات کے ساتھ اس کے بارے میں دیگر ضروری معلومات درج ہیں۔ کہتے ہیں کہ مقامی انتظامیہ اور برطانیہ میں محکمہ پولیس کے افسران کے مابین سلطانہ سے متعلق خط و کتابت کا ریکارڈ آج بھی محفوظ ہے۔ سلطانہ ڈاکو کی زندگی اور رابن ہڈ جیسی افسانوی شہرت نے ہندوستانی ادیبوں اور فلم سازوں کو بھی اس کی طرف متوجہ کیا اور یوں سلطانہ ڈاکو پر فلمیں بھی بنیں اور کتابیں بھی لکھی گئیں ۔ تازہ ترین کتابوں میں “The Confession of Sultana Daku”اس سلسلے کی مقبول کتاب ہے ، جو کہ سجیت صراف نے لکھی ۔ یہ کتاب بھارت سے چھپی ہے۔
پولیس نے کئی کارروائیاں کیں مگر سلطانہ جیسے ڈاکو کو گرفتار کرنا آسان نہ تھا۔ اس کی ایک وجہ تو سلطانہ ڈاکو کے مخبر تھے جو کسی بھی کارروائی کی اطلاع اس تک پہنچا دیتے تھے اور دوسری جانب غریب دیہاتی سلطانہ کو اپنا محسن اور ہمدرد سمجھتے تھے اور اسے پناہ دینے کے ساتھ ساتھ اس کی حفاظت یقینی بنانے اور اس کی خاطر جان دینے کو بھی تیار رہتے تھے۔ 
سلطانہ ڈاکو کا اصل نام سلطان تھا جو نامعلوم کب سلطانہ ہو گیا۔ اس نے آنکھ کھولی تو غربت اور تنگ دستی دیکھی۔ اسے انگریز راج سے نفرت تھی۔ کہتے ہیں کہ اسی نفرت کی بنیاد پر اس نے اپنے پالتو کتے کا نام ’رائے بہادر‘ رکھا۔ یہ ایک اعزازی نام (خطاب) تھا جو اس دور میں انگریز سرکار کی جانب سے اپنے وفاداروں کو دیا جاتا تھا جبکہ سلطانہ ڈاکو کے گھوڑے کا نام ’چیتک‘ بتایا جاتا ہے۔
سلطان کا تعلق ہندوستان کی ریاست اترپردیش کے ایک مسلمان گھرانے سے تھا۔ اس کی اصل زندگی اور مجرمانہ سرگرمیوں کے بارے میں بہت کم درست معلومات سامنے آئی ہیں تاہم اس کے چوری چکاری اور ایک ڈاکو کی حیثیت سے شہرت پانے کے حوالے سے مختلف قصے سننے کو ملتے ہیں۔ سلطانہ ڈاکو لوٹ مار کے دوران مزاحمت کرنے والے کے ہاتھ کی تین انگلیاں کاٹ دیتا تھا جس کا ایک مقصد دولت مندوں کو خوف زدہ کرنا تھا جبکہ دوسری جانب وہ اس طرح امیروں اور انگریز سرکار کے وفاداروں کو عبرت کا نشان بنا دینا چاہتا تھا۔
کہتے ہیں کہ سلطان اپنے لڑکپن میں کہیں سے ایک انڈا چوری کرکے گھر لے آیا۔ گھر والوں کو سلطان کی چوری کا علم تو ہوگیا لیکن کسی نے اسے کوئی تنبیہ نہ کی۔ یوں اس کا حوصلہ بڑھا اور اس پہلے جرم کے بعد اسے چوری چکاری کی عادت پڑ گئی۔ چھوٹی موٹی چوریوں میں کامیابی اور ناکامی کے علاوہ کبھی پکڑے جانے پر لعن طعن اور تھوڑی بہت مار پیٹ بھی ہوئی مگر اب وقت گزر چکا تھا اور اس کے دل سے ہر قسم کا خوف دور ہو چکا تھا۔ سلطان کو چوری کرنے میں مزہ آتا اور پھر وہ وقت آیا جب اس لڑکے کو سلطانہ ڈاکو کے نام سے پہچانا جانے لگا۔
دنیا اور قانون کی نظر میں وہ ایک مجرم اور امیروں کے نزدیک ظالم اور قاتل انسان تھا لیکن سینکڑوں غریب خاندانوں کے لیے سلطانہ کی حیثیت رابن ہڈ جیسی تھی۔ سلطانہ اسی مشہور کردار کی طرح لوٹ مار کی رقم اور اشیا غریب اور نادار لوگوں میں تقسیم کر دیتا اور کئی گھرانے اسی کی وجہ سے اپنے پیٹ کا دوزخ بھرتے تھے۔
اس کی جائے پناہ نجیب آباد کے نواح میں واقع جنگل تھا جسے ’کجلی بن‘ کے نام سے جانا جاتا تھا۔ یہ جنگل اُس وقت انتہائی گھنا اور ہر طرح کے درندوں سے بھرا ہوا تھا۔ اس جنگل کی ایک حد نیپال اور چین کو چھوتی تھی تو دوسری طرف اس کی وسعت کشمیر سے افغانستان تک پھیلی ہوئی تھی۔ یہاں ہر طرح کا شکار بھی بے شمار ملتا تھا اور اکثر نواب اور انگریز یہاں شکار کی غرض سے پڑاؤ ڈالا کرتے تھے۔ سلطانہ ڈاکو کی کمین گاہ جس جگہ تھی وہ حصہ اتنا گھنا تھا کہ دن کے اوقات میں بھی یہاں سورج کی روشنی کو دخل نہ تھا۔ اسی جنگل میں گھوسیوں کے ڈیرے بھی تھے جو دودھ بیچنے کا کاروبار کرتے تھے۔ سلطانہ بھی انہی کے بھیس میں یہاں رہتا اور موقع کی مناسبت سے حلیہ بدل کر نقل و حرکت کرتا تھا۔
سلطانہ کی حفاظت کرنے والے بھی ہمہ وقت چوکس رہتے۔ اس کے لیے جاسوسی کرنے والے پولیس اور انتظامیہ کے ہر فیصلے اور ہر کارروائی کی بروقت اطلاع اس تک پہنچاتے تھے۔ کہتے ہیں کہ پولیس والے بھی سلطانہ ڈاکو سے ڈرتے تھے اور ان میں اکثر اس کے مخبر تھے۔ خود نجیب آباد تھانے کا انچارج منوہر لال سلطانہ کا مخبر تھا اور یہی وجہ تھی کہ اسے ہر چھاپے کی اطلاع پہلے ہی مل جاتی تھی اور وہ اپنا ٹھکانہ بدل لیتا تھا۔ 
انگلینڈ سے آئے مسٹر ینگ کو ابتدا میں سلطانہ ڈاکو کا کھوج لگانے اور اس کی گرفتاری میں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا لیکن پھرایک مقامی منشی عبدالرزاق خان کے ذریعے وہ اس تک پہنچنے میں کامیاب ہو گیا۔ اس منشی کے سلطانہ کے علاوہ اعلیٰ انگریز اور ہندوستانی افسروں سے بھی رابطے تھے۔    (جاری ہے)