15 ستمبر 2019
تازہ ترین

گدھے، گھوڑے اور ہم   ( 6) گدھے، گھوڑے اور ہم ( 6)

اسلامی تاریخ میں ایک اور کردار کو بے حد و حساب اہمیت و تقدیس حاصل ہے جسے ذوالجناح کہا جاتا ہے۔ یہ امام عالی مقام حضرت امام حسینؓ کے اس وفادار کا نام ہے جو کربلا میں ان کے ہمراہ تھا اسی لیے ذوالجناح کو محبت و وفاداری کے پیکر سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
ذوالجناح کے لغوی معنی دو بازوؤں یا پروں والا ہیں۔ مشہور روایت ہے کہ اسے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حارث نامی ایک عرب سے خریدا تھا۔ ذوالجناح کا اصل نام مرتجز تھا، اس وقت حضرت حسین ابن علیؓ بھی بچے تھے اور ذوالجناح سے انہیں بے حد انسیت تھی۔
کربلا کا بے آب و گیاہ صحرا جہاں دوست کم اور دشمن زیادہ تھے، امام عالی مقامؓ پر جان نچھاور کرنے والے ساتھیوں کے علاوہ یہ بے زبان بھی تھا جس نے اپنی محبت و وفاداری کا ثبوت لہو کا نذرانہ پیش کر کے دیا۔
یزیدی تیروں سے نواسہ رسول زخموں سے چور چور ہوئے تو یہ جانثار ان کے گرد چکر لگانے لگا۔ امام حسین ابن علیؓ کی شہادت کے بعد ذوالجناح نے دشمن کے تیس سے زائد سپاہیوں کو کچل ڈالا تھا۔ روایت کے مطابق امام حسینؓ شہید ہوئے تو ذوالجناح، ان کی تلوار اور دستار خیموں میں لانے کے بعد دریائے فرات کی طرف گیا لیکن اس کے بعد کسی نے اسے نہیں دیکھا۔
کربلا کے تپتے صحرا میں نواسہ رسول نے لاکھوں کے مجمع میں حجت تمام کرنے کے لیے ’ھل من ناصر ینصرنا‘ کی صدا بلند کی تو سب سے پہلے اس بے زبان نے لبیک کہا اور اسی وفاداری نے اسے ذوالجناح بنا دیا۔ یہی وجہ ہے کہ رہتی دنیا تک زبان پر جب بھی نام حسینؓ آئے گا، ذوالجناح کا تذکرہ ضرور ہو گا۔
انبیائے کرام اور اہل بیت کے علاوہ گھوڑا بادشاہوں کا فخر بھی رہا جس کی سب سے بہترین مثال اسپ سکندری یعنی سکندر اعظم (الیگزینڈر دی گریٹ) کا گھوڑا ہے۔
عہد عتیق کی تمام اقوام کی تواریخ گھوڑوں اور ان کی اہمیت کے ذکر سے بھری پڑی ہیں۔ یونان میں گھوڑے پال کر انہیں بیچنا کاروبار کی حیثیت رکھتا تھا۔ مشہور فاتح الیگزینڈر دی گریٹ کا باپ فلپ دوم (فیلقوس) قدیم یونانی ریاست میسی ڈونیا (مقدونیہ) کا بادشاہ تھا لیکن الیگزینڈر کی ماں اولمپیاس غصے میں اپنے شوہر کو ہمیشہ ’گھوڑے پال‘ کے طنزیہ خطاب سے یاد کیا کرتی تھی کیونکہ بادشاہ بننے سے پہلے فلپ کا کاروبار گھوڑے پال کر انہیں بیچنا ہی تھا۔
ممتاز مؤرخ پلوٹارک لکھتا ہے کہ الیگزینڈر دی گریٹ کے گھوڑے کا نام ’بیوک فالس‘ یا ’بیوسی فالس‘ تھا جسے’بیوسی فالا‘ بھی لکھا جاتا ہے۔ یہ گھوڑا الیگزینڈر نے تیرہ برس کی عمر میں حاصل کیا تھا۔ گھوڑوں کا تاجر فیلونکس اس گھوڑے کے تیرہ ٹیلنٹ مانگ رہا تھا مگر کوئی اس گھوڑے کو قابو نہ کر سکا تب الیگزینڈر نے اس پر سواری کی اور اسے رام کر لیا اور اسے اپنے لیے مخصوص کر لیا۔ بیوک فالس کا مطلب ’بیل کے سر والا‘ ہے۔ یہ گھوڑا تھسلی نسل کا تھا۔ جب الیگزینڈر نے اس گھوڑے کو رام کرلیا تو اس کے باپ فلپ نے کہا تھا
’میرے بیٹے، تمہارا یہ کارنامہ دیکھ کر مجھے محسوس ہوتا ہے کہ مقدونیہ کی ریاست تمہارے لیے بہت چھوٹی ہے۔‘
یہ گھوڑا 355 قبل مسیح سے 326 قبل مسیح تک الیگزینڈر کے ساتھ رہا اور سرزمین جہلم اس گھوڑے کی قبر بنی۔ مؤرخین کے مطابق موت کے وقت اس کی عمر تیس سال تھی جو گھوڑے کی اوسط عمر ہے۔ بیوسی فالا ’ہائیڈاسپس‘ یعنی دریائے جہلم کے کنارے راجہ پورس کے ساتھ لڑائی کے دوران زخمی ہو گیا تھا۔ الیگزینڈر کے نزدیک یہ گھوڑا کسی ہیرو سے کم نہیں تھا اور وہ اس کی موت کا تصورتک نہیں کرسکتا تھا۔
بیوسی فالا کو لڑائی کے دوران راجہ پورس کے بیٹے نے اپنے زہر میں بجھے برچھے سے گھائل کر دیا تھا۔ الیگزینڈر نے اس بہادر راجکمار کو موت کے گھاٹ اتار دیا تاہم زخمی گھوڑا بھی جانبر نہ ہوسکا۔ الیگزینڈر نے اپنے چہیتے گھوڑے کو ’دلاور‘ کے مقام پر دفن کرایا اور آبادی کا نام ’بوکفالیہ‘ (اسکندریہ) رکھ دیا۔ اسی نسبت سے پرانی کتابوں میں جہلم کا ایک نام بوکفالیہ بھی ملتا ہے۔ دلاور نامی بستی جس بلند ٹیلے پر آباد ہے اس کے نیچے تاریخ کے متعدد سربستہ راز دم سادھے لیٹے ہیں مگر کھدائی نہ ہو پانے کی وجہ سے یہ ظاہر نہیں ہوسکے۔ انگریزوں کے دور میں یہاں سے الیگزینڈر دی گریٹ کے چہیتے گھوڑے ’بیوسی فالا‘ کی باقیات اور اس کے ساتھ دفن کیے گئے مجسمے برآمد ہوئے تھے جو اس بات کو تقویت دیتے ہیں کہ الیگزینڈر نے اس مقام پر کوئی بستی بسائی تھی۔
اہل گجرات ہم قافیہ ہونے کی وجہ سے موجودہ پھالیہ کو بوکفالیہ سمجھتے ہیں تاہم الیگزینڈر دی گریٹ نے جس مقام کو’بوکفالیہ‘ کا نام دیا تھا، اس کا قدیم نام اودھی نگر یا اودھم نگر مشہور تھا۔
ایک زمانہ تھا کہ گھوڑے اور ڈاکو بھی لازم و ملزوم ہوا کرتے تھے۔ ان میں سے ایک سلطانہ ڈاکو بھی تھا جس کے گھوڑے ’چیتک‘ کا نام اپنے مالک کی طرح تاریخ کے صفحات پر امر ہو چکا ہے۔ 
سلطانہ ڈاکو تاریخ کا ایک پُراسرار کردار ہے جسے 7 جولائی 1924 کو پھانسی دے دی گئی تھی۔
ایک زمانے میں ہندوستان کی انگریز سرکار کو ڈاکوؤں اور ٹھگوں نے تگنی کا ناچ نچا رکھا تھا۔ سلطانہ ڈاکو بھی انہی میں سے ایک تھا۔ اس کی زندگی اور جرائم کی مکمل اور درست تفصیلات تو کسی کو معلوم نہیں مگر اس سے متعلق عجیب و غریب داستانیں ضرور مشہور ہیں۔
ہندوستان کے نواب اور دولت مند افراد سلطانہ ڈاکو سے خوف زدہ رہتے تھے۔ انہیں یہی دھڑکا لگا رہتا تھا کہ وہ کسی بھی وقت ان کی دولت اور قیمتی اشیا لوٹ لے جائے گا۔ موجودہ ہندوستان کی ریاست اتر پردیش (یو پی) کے شہروں اور بڑی بڑی آبادیوں کے امرا اپنا مال و زر چھپا کر رکھنے کی ہر ممکن کوشش کرتے اور اس کی حفاظت کا خاص انتظام کرتے۔ یہ لوگ سلطانہ ڈاکو کی لوٹ مار ہی سے پریشان نہیں تھے بلکہ اس لیے بھی خوف زدہ تھے کہ وہ عمر بھر کی جمع پونجی لوٹ لے جانے کے ساتھ ساتھ کسی کی جان لینے سے بھی دریغ نہیں کرتا تھا۔ 
سلطانہ ڈاکو سیکڑوں انسانوں کو ہلاک کر چکا تھا اور ستم ظریفی یہ تھی کہ ہر واردات کے بعد آسانی سے فرار بھی ہو جاتا تھا۔ ہندوستان کے امرا اسے ایک سفاک اور بے رحم انسان سمجھتے تھے مگر یہی سلطانہ ڈاکو غریب اور بے بس انسانوں کا غم گسار اور ان کا مسیحا بھی تھا۔ کئی بار اس لٹیرے کے خلاف پولیس کو درخواست دی گئی اور اس کی گرفتاری کے لیے دباؤ ڈالا گیا مگر پولیس اسے ڈھونڈنے اور گرفتار کرنے میں ناکام ہی رہی۔ خود پولیس کے کئی افسر اور سپاہی، سلطانہ ڈاکو کی گولیوں اور خنجر کی دھار تلے آ کر موت کا شکار ہو چکے تھے۔    (جاری ہے)