17 ستمبر 2019
تازہ ترین

گاؤں گاؤں

شہر کی ہنگامہ پرور زندگی سے بھاگ کر گاؤں آنا ہمیشہ سے پرکیف لمحات کا بھرپور تجربہ رہتا ہے۔ مجھ جیسا گاؤں کا آدمی جب شروع میں تعلیم اور بعد ازاں غم معاش کی وجہ سے گاؤں سے نکل کر شہر میں جا بسا تو شہر کی زندگی سے روشناس ہونے اور وہاں کی بودو باش اختیار کرنے کے باوجود ان گلی اور کوچوں کو اپنی روح سے کھرچ نہ سکا کہ جن میں بچپن سے لے کر لڑکپن کی صبح، دوپہر اور شامیں گزریں اور اس کی وجہ ان گلی کوچوں میں اڑتی وہ مٹی ہے جن سے میرا خمیر اٹھا۔ گاؤں کے ان گلی کوچوں میں عجیب سی کشش ہے جو مقناطیس کی طرح اپنے ان خاک نشینوں کو اپنی طرف کھینچتی ہیں جو کبھی یہاں دھول اور مٹی اڑا کر گزر جایا کرتے تھے۔ جب تک گاؤں میں ٹھکانہ تھا تو ان گلی کوچوں سے محبت سے بے خبر تھے لیکن جب یہاں سے نکل کر شہر میں جا بسے تو ایک عجیب بے چینی و بے قراری نے دل و جان کو آن لیا۔ کچھ یوں محسوس ہوا کہ جیسی اپنی کوئی متاع عزیز گاؤں میں بھول کر شہر میں آ گئے۔ دوسروں کے بارے میں تو کچھ کہہ نہ سکوں لیکن میری زندگی کے انمول اثاثے گاؤں میں ہی رہ گئے تھے جن میں سب سے بڑھ کر میرے والدین ہیں جو آج بھی گاؤں میں آباد ہیں۔ خدا ان کا سایہ سلامت رکھے کہ ان کے بغیر زندگی کا تصور بڑا کٹھن اور جان لیوا لگتا ہے۔ طویل عرصے کے بعد جب بھی گاؤں آنا ہوتا ہے تو جہاں آبائی گاؤں کے گلی کوچوں کو دیکھ کر پرانی یادیں دل و دماغ پر یلغار کرتی ہیں تو اس کے ساتھ ساتھ دنیا کی بے ثباتی پر بھی یقین بڑھ جاتا ہے۔ شہر کی زندگی میں رہتے ہوئے کبھی محسوس نہیں ہوتا کہ ہمارے گرد و پیش میں بسنے والے کس طرح ایک ایک کر کے اس جہان فانی سے رخصت ہو رہے ہیں۔ شہر میں بھی لوگ مرتے ہیں لیکن خدا جانے ان کے جانے کا احساس اس قدر شدت سے کیوں نہیں  ہوتا، جس طرح گاؤں میں بسنے والوں کی موت پر ہوتا ہے۔ اس کی وجہ شاید ماضی کے وہ بیتے ایام ہیں جن میں یہ صورتیں بڑی واضح تھیں لیکن پھر گردش ایام کی بھینٹ چڑھ کر یہ معدوم ہو جاتی ہیں۔ جب جب گاؤں آنا ہوتا ہے تو پتا چلتا ہے کہ فلاں دنیا سے رخصت ہو چکا ہے۔ بچپن سے لے کر جوانی تک جن خاکی پیکروں کو گاؤں کے گلی کوچوں میں چلتے پھرتے دیکھا اور پھر جب گاؤں آمد پر ان کے پیوند خاک ہونے کی خبر سننے کو ملتی ہے تو وہ ساری صورتیں ایک ایک کر کے آنکھوں کے سامنے آجاتی ہیں۔
 جو بادہ کش تھے پْرانے، وہ اْٹھتے جاتے ہیں
کہیں سے آب بقائے دوام لا ساقی
وقت کے گزرنے کا احساس بھی گاؤں میں آکر کچھ زیادہ ہی ہوتا ہے۔ ان چہروں پر جن پر کبھی رعنائی و تازگی تھی اب ادھیڑ پن کی لکیریں ظاہر ہونا شروع ہو گئی ہیں۔ جن چہروں پر ادھیڑ پن کی لکیریں تھیں ان پر بڑھاپے کی جھریوں نے پڑاؤ ڈالنا شروع کر دیا ہے، جن چہروں پر بڑھاپے کی جھریوں نے ابھی ظاہر ہونا شروع کیا تھا، اب ان جھریوں کی تہیں اتنی گہری ہو چکی ہیں کہ اب ان کی اصل صورت ان کی گہرائی میں چھپ چکی ہے۔ رعشہ زدہ ہاتھ اب کچھ زیادہ ہی لرزتے نظر آتے ہیں۔ خمیدہ کمریں زندگی کا بوجھ اٹھاتے اٹھاتے اور زیادہ جھک چکی ہیں۔ جن آنکھوں میں عقاب کی سی برق نگاہی تھی، اب ان میں سے بینائی اس قدر مدھم پڑ چکی ہے کہ موٹے موٹے عدسوں والی عینکیں ان کی ناک پر دھر چکی ہیں۔
گاؤں کی زندگی کا یہ پہلو بڑا چبھتا ہے لیکن قانون قدرت کے سامنے بند باندھنے کی کسی کے پاس قوت و اختیار نہیں۔ نظام قدرت ازل سے یوں ہی کارفرما ہے اور ابد تک اس کا دھارا یوں ہی بہتا رہے گا۔ 
گاؤں کی زندگی میں تمام تر مشکلات کے باوجود مجھ ایسے پینڈو کے لیے اس میں ہمیشہ سے ایک کشش رہی ہے اور یہ کشش شاید کبھی بھی ختم نہ ہو پائے۔ میں تو یہاں کہوں گا کہ زندگی کے ہر گزرتے لمحے کے ساتھ اس کشش میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ میرا گاؤں مجھے پکارتا ہے کہ مجھے چھوڑ کر جانے والے واپس آ جا۔۔۔۔ ان گلی کوچوں میں دوبارہ چل پھر جہاں تیرے بچپن کی مسکراہٹیں چار سو بکھری پڑی ہیں۔۔۔۔آ اور ان مسکراہٹوں کو اپنے دامن میں بھر لے۔۔۔۔۔ شہر کی مصنوعی زندگی اور بناوٹی مسکراہٹوں سے نکل کر حقیقی مسکراہٹوں کے دامن میں واپس آ جا۔۔۔
شہر کی چکا چوند روشنیوں کو چھوڑ کر ان نیم روشن گلیوں میں پلٹ کر آ جہاں رات سکون کا پیغام دیتی ہے۔۔۔۔
شہر کی بلند بانگ عمارتوں کے باسی ان کچے پکے گھروندوں کی طرف واپس پلٹ جہاں 
مٹی کی خوشبو بسی ہے۔۔۔
اس مٹی کی خوشبو کہ جس سے تیرا خمیر گوندھا گیا۔۔۔