19 نومبر 2019
تازہ ترین

دوستی کا قرض اور خواتین… دوستی کا قرض اور خواتین…

خواتین جو ملک کی نصف آبادی ہیں، انہیں مکمل تحفظ حاصل ہو، وہ اپنے فیصلوں میں خودمختار ہوں۔ تعلیم، علاج اور روزگار میں انہیں صنف کی بنیاد پر امتیازی رویوں کو نہ جھیلنا پڑے، گھر، گھر سے باہر، تعلیمی اداروں اور کام کی جگہوں پر انہیں کسی قسم کی ہراسگی اور تشدد کا سامنا نہ کرنا پڑے، ان کے خلاف ہونے والے جرائم کے خاتمے کے لیے موثر قوانین اور ان کے اطلاق جیسے مطالبات کی خاطر قیام پاکستان سے لے کر آج تک خواتین اپنی آواز بلند کرتی رہی ہیں۔ اُن کی یہ تحریکیں شعوری اور لاشعوری طور پر مختلف  پس منظر، نقطۂ نظر اور perspective کے زیر اثر رہی ہیں، جو یقیناً غیر معمولی بات نہیں، لیکن صورت حال اس وقت alarming ہوجاتی ہے، جب وہ خواتین کے حقیقی ایشوز سے دوری اختیار کرلیں۔ کچھ ایسا ہی تب محسوس ہوا جب امسال مارچ میں مختلف شہروں میں ہونے والے عورت مارچ میں کچھ ایسے جملے پلے کارڈز کی شکل میں سامنے آئے جو چند خواتین کے مسائل تو ہوسکتے ہیں اور ان پر توجہ مبذول کرانا بالکل legitimate ہے، لیکن مسئلہ تب ہوتا ہے جب اس طرح کے نعروں سے 95فیصد خواتین کو درپیش زندگی و موت جیسے معاملات پس پشت ہوجاتے ہیں۔ لیکن جب ملک کی سیاست، حکومت اور نوکر شاہی پانچ فیصد کے ہاتھ میں ہو تو ان کے لیے یہ سمجھنا ناممکن تو نہیں ہاں مشکل ضرور ہے کہ اکثریت کن حالات میں زندگی کے دن پورے کررہی ہے۔ اس کا اندازہ ایک بار پھر تب ہوا جب گذشتہ ماہ پاکستانی اور عالمی ذرائع ابلاغ میں ایسی خبریں اور رپورٹس شائع اور نشر ہوئیں، جن میں بتایا گیا کہ پاکستانی خواتین کو شادی کے نام پر چین سمگل کیا جارہا ہے اور وہاں انہیں جسم فروشی پر مجبور کیا جارہا ہے اور جسمانی اعضاء نکال کر فروخت کیے جارہے ہیں۔
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی کے فیصل آباد ریجن  نے شکایات پر کارروائی کرتے ہوئے ایک خاتون سمیت آٹھ چینی باشندوں اور ان کے پاکستانی سہولت کاروں کو گرفتار کیا۔ اس کے بعد مزید کئی گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں۔ چین سے واپس آنے والی لڑکیوں نے جو حالات بیان کیے، ان کو سن کر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ اپنی شادی کا ذکر کرتے ہوئے ایک لڑکی نے بتایا کہ چرچ سے تعلق رکھنے والے فرد اور پادری نے اس رشتے کے بارے میں بتایا تھا، اسی طرح دوسری لڑکی نے بھی بتایا کہ مدرسے کے مہتمم نے رشتے کے لیے والد سے رابطہ کیا تو نومسلم چینی باشندے سے شادی ثواب کا ذریعہ تصور کرتے ہوئے ہاں کردی۔ 
خواتین کو درپیش مسائل اور ان پر ہونے والے مظالم  کے لیے غربت، رسم و رواج، صنفی تفریق، طبقاتی نظام، تعلیم سے محرومی، استحصال اور حکومتوں کی نااہلی کو ذمے دار قرار دیا جاتا ہے، لیکن ان سب مسائل کی بنیاد حکومتی نااہلی اور عدم دلچسپی ہے۔ کم عمری کی شادی کے حوالے سے قانون سازی کے بل کی مخالفت حکومتی جماعت اور خصوصاً وزرا نے کی اور دھمکی دی کہ اگر یہ بل منظور ہوا تو وہ استعفیٰ دے دیں گے۔ ایک خاتون وزیر کے علاوہ کوئی بھی اس بل کی حمایت میں سامنے نہیں آیا۔ اس رویے سے حکومت کی بچیوں اور خواتین کے تحفظ کے حوالے سے غیر سنجیدگی کی بھرپور عکاسی ہوتی ہے۔ اتنی بڑی تعداد میں خواتین چین لے جائی جارہی تھیں، لیکن نہ تو پاکستان  اور نہ ہی چین کی حکومت نے اس پر کوئی توجہ دی، جب تک میڈیا میں اس سنگین جرم کے بارے میں شواہد اور متاثرین سامنے نہ آئے، دونوں ملکوں کی حکومتوں کو اس انسانی سمگلنگ کی بھنک تک نہ ہوئی یا ان کو اس کی پروا نہ تھی؟ یہ ایک خوف ناک جرم میڈیا کی بدولت سامنے آیا، حکومتی اداروں کی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ کیا یہ واقعہ ہمارے اداروں کی بے حسی اور فرائض کی ادائیگی میں غفلت  کی نشاندہی کے لیے کافی نہیں؟ 
چینی سرمایہ کاری کے نام پر نہ جانے اور کتنے سائیڈ بزنس چل رہے ہیں جن پر ہماری حکومتیں آنکھیں  بند کیے بیٹھی ہیں۔ کیا صرف ہماری نوجوان لڑکیاں ہی سمگل ہورہی ہیں؟ کیا صرف چند افراد کی گرفتاریاں ان جرائم کی روک تھام کے لیے کافی ہیں؟ غربت کو جواز بناکر اپنی 6سے 9 سال کی بچیوں کو گھریلو ملازم بنانے والے کیا چین میں نوکری کے جھانسے اور دو یا تین لاکھ روپے کے عوض اپنے بچوں کو وہاں بھیجنے سے گریز کریں گے؟ پاکستان میں چینیوں کے تحفظ کے لیے فکرمند حکومت کیا ان کی سرگرمیوں پر نظر نہیں رکھ سکتی؟ چرچ اور مدرسوں کی انسانی سمگلنگ میں involvement پر مذہبی اور سیاسی جماعتیں خاموش کیوں ہیں؟ کیا پاکستانی قانون کے تحت چینی باشندوں کے خلاف کارروائی کے حوالے سے کسی مثبت پیش رفت کی امید کی جاسکتی ہے؟ 
واپس آنے والی خواتین کی بحالی اور تحفظ کے لیے اب تک کوئی حکومتی بیان سامنے کیوں نہیں آیا؟ ان بے شمار سوالوں  کے ساتھ ایک بار پھر پاکستان میں عورتوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کو بھی سوچنا  ہوگا کہ حقوق کی اس جدوجہد کو کیسے کھانا گرم کرنے اور موزے کی تلاش میں گم کرنے کی سازش کی جارہی ہے۔ لالچ،  ہوس اور بدعنوانی کے لیے غریب ہونا ضروری نہیں، بلکہ یہ خوبیاں اس ملک کے حکمرانوں، سرمایہ داروں، جاگیرداروں اور افسر شاہی میں بہ اتم پائی جاتی ہیں۔ تبھی تو نئے پاکستان میں خواتین کی فیصلہ سازی میں شمولیت نہ ہونے کے برابر ہے۔ ووٹ ڈالنے، ڈرائیونگ لائسنس، گواہی کے لیے تو عمر 18سال لیکن شادی کے لیے عمر 18سال مقرر کرنے پر وزیر  بھڑک جاتے ہیں اور نام نہاد اعلیٰ تعلیم یافتہ افسران اپنی نظروں کے سامنے ہونے والے سنگین جرائم پر آنکھیں بند کرلیتے ہیں اور والدین اپنے حالات میں بہتری اور فرائض سے بری الذمہ ہونے کی سوچ کے ساتھ اپنی بچیوں کو اجنبی افراد کے ساتھ دوردراز ملکوں کو روانہ کردیتے ہیں۔ 
ان بے رحم حالات میں مشیر خزانہ نے عوام کو آئی ایم ایف سے قرضے کی منظوری کی خوشخبری سنائی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بجلی اور گیس مہنگی ہوگی۔ مارکیٹ کے ذریعے ایکسچینج ریٹ کا تعین کیا جائے گا۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین کرنے والے اداروں کو خودمختار کرنے کا ارادہ  بھی ظاہر کیا گیا، ان شاندار اقدامات کے بعد بقول مشیر خزانہ غریب و پس ماندہ طبقات کا تحفظ ہوگا۔ اس تحفظ کی آس  کے ساتھ آئندہ حالات میں کہیں ایسا نہ ہو کہ چینیوں کو انسانی سمگلنگ کے لیے شادی کا ڈرامہ بھی نہ کرنا پڑے۔