15 نومبر 2019
تازہ ترین

دورِ نبوی کے مقدس آثار… دورِ نبوی کے مقدس آثار…

پاکستان سے جانے والے عازمین حج و عمرہ کی دیرینہ خواہش ہوتی ہے کہ مدینہ منورہ پہنچنے کے بعد روضۂ اقدس کی زیارت کے ساتھ دور نبوی کی ان یادگاروں سے بھی آشنا ہوں جو اَب بھی کسی نہ کسی شکل میں موجود ہیں۔ 1992 میں اس ناچیز نے زائرین کو مسجد نبوی اور مدینہ منورہ کے گردونواح میں دور نبوی ﷺ اور دورِ صحابہ کے ان آثار سے متعارف کرانے کے لیے ’’آثار مقدسہ‘‘ کے نام سے اپنی کتاب شائع کی۔ چونکہ حج میں دو ماہ سے کم عرصہ رہ گیا ہے تو سوچا ’’آثار مقدسہ‘‘ سے چند اقتباسات عازمین حج کی خدمت میں پیش کروں۔ 
باب سلام سے مسجد نبوی میں داخل ہوں تو منبر سے چند قدم آگے شمال کی جانب روضۂ اقدس ہے۔ ایک روایت کے مطابق ستر ستر ہزار فرشتے باری باری روضۂ اطہر پر حاضری دیتے ہیں، مسلمان دل میں جذبات کا طوفان اور آنکھوں میں شوق بے تاب لے کر آگے بڑھتا ہے، سبز جالیوں کے پہلے دو سوراخ جن پر سنہرے پترے کو گول چکر لگا ہوا ہے، وہی رحمت دوعالم ﷺ کا مرقد ہے جس کے ساتھ ہی دو مزید چھوٹے سوراخ آتے ہیں، جن پر سنہرے پترے کے چکر لگے ہوئے ہیں، پہلے گول چکر والے سوراخ کے برابر سیدنا ابوبکر صدیقؓ اور دوسرے گول چکر کے برابر سیدنا عمر فاروقؓ آرام فرما ہیں۔ تینوں ہستیوں کے مرقد پر سبز کپڑے کا غلاف چڑھا ہوا ہے جو خلیفہ ہارون رشید کی والدہ ملکہ خیزران نے چڑھایا تھا، جس پر قرآن مجید کی آیات رقم ہیں۔ حق تعالیٰ نے دنیا میں بھی دونوں ہستیوں کو سرکار دوعالم ﷺ کا قرب نصیب فرمایا اور آخرت میں بھی درجات کے مطابق آرام گاہیں نصیب فرمائیں۔ روضۂ اقدس کی جالیوں سے لے کر منبر رسولﷺ کے حصے میں جو سفید ستون ہیں، وہ ریاض الجنہ کا حصہ ہیں، جن کے بارے میں حضورﷺ کا ارشاد ہے کہ میرے گھر اور منبر کے درمیان والی جگہ جنت کے باغات میں سے ایک باغ ہے۔ مسجد نبوی میں باب جبرائیل کے راستے داخل ہوں تو شمالی سمت خاتون جنت حضرت فاطمہؓ کا حجرہ ہے۔
جب باب سلام سے مسجد نبوی میں داخل ہوں تو بائیں طرف منبر رسول ﷺ دو محرابوںکے درمیان ہے، آپ ﷺ کے زمانے میں یہ منبر تین سیڑھیوں کا ہوتا تھا۔ خاتون جنت سیدہ فاطمہ یہاں نماز تہجدادا فرماتی تھیں۔ اسی لیے اس جگہ کو ستون تہجد کہتے ہیں۔ یہ جگہ حجرہ شریف کے اندر شمال کی طرف اہل صفا کے چبوترے کے سامنے واقع ہے۔ مسجد نبوی شریف میں اور بھی بہت سے ستون ہیں جس میں ستون عائشہ جہاں حضرت عائشہؓ نماز تہجد ادا کیا کرتی تھیں، یہ ستون روضۂ انور کے اندر ستون ابی لبابہ کے بعد واقع ہے۔ جس پر ھذاستون عائشہ رقم ہے۔ آپﷺ کا ارشاد ہے کہ میری مسجد میں ایک ایسی جگہ ہے، اگر اس کی فضیلت کا علم ہوجائے تو لوگ قرعہ اندازی کریں۔ اس جگہ کی نشان دہی خود حضرت عائشہؓ نے فرمائی تھی۔ منبر رسولﷺ کی طرف سے جب روضۂ اقدس کی طرف جائیں تو پہلا ستون چھوڑ کر جو دوسرا ستون آتا ہے، وہ ستون عائشہ ہے۔
مسجد نبوی میں جس جگہ حضور ﷺ کی چارپائی رکھی جاتی تھی، وہ ستون سریر کہلاتی ہے، آپﷺ یہاں آرام فرمایا کرتے تھے۔ یہ ستون روضۂ اطہر کی دیوار کے ساتھ ریاض الجنہ میں واقع ہے۔ محراب نبوی کے قریب ستون حنانہ بھی ہے، جہاں آپ ﷺ کھڑے ہوکر خطبہ ارشاد فرمایا کرتے تھے۔ صحابہ کرامؓ اس ستون کوہمیشہ معطر رکھتے تھے، اسی لیے اسے ستون مخلقہ بھی کہا جاتا ہے۔ محراب نبوی کے نزدیک دیوار پر جہاں مصلیٰ نبی علیہ اسلام کے الفاظ رقم ہیں، یہ ستون واقع ہے، اس جگہ کھجور کا وہ درخت بھی دفن ہے جو لکڑی کا منبر بن جانے کے بعد آپﷺ کی جدائی میں رویا تھا، اسی مناسبت سے اسے ستون حنانہ کہتے ہیں۔ مسجد نبوی میں ستون وفود بھی ہے، یہاں حجرات کا دروازہ ہوا کرتا تھا۔ رسول اللہ ﷺ باہر سے آنے والے وفود سے اس جگہ ملاقات فرماتے تھے۔ ستون وفود، ستون حرس اور ستون سیریر مربع شکل کے ہیں جو حجرہ شریف کے ساتھ متصل ہیں، ان میں حجرہ شریف کی مغربی سمت کی کھڑکی واقع ہے۔ 
اب یہ ستون سلطان عبدالحمید کے دور میں روضۂ اقدس کے اردگرد جالی کے تعمیر کردہ مقصورہ میں آگیا ہے۔ مسجد نبوی میں ہی ستون حرس بھی واقع ہے، یہاں حضرت علی رسول اللہ ﷺ کی حفاظت کے لیے پہرہ دیا کرتے تھے، اسی لیے اسے ستون علی بھی کہتے ہیں۔ یہ ستون روضۂ اطہر کی جالی کے شمال میں ہے۔ آج کل یہ ستون سبز جالیوںکے اندر آگیا ہے۔ مسجد نبوی میں حضرت ابوبکر صدیقؓ کا گھر بھی تھا، جب آپ ﷺ نے مسجد نبوی کی تعمیر کرائی تو سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے گھر کی کھڑکی والی جگہ مسجد نبوی کے کنارے پر واقع تھی۔ ولید بن عبدالمالک کے دور میں جب مسجد نبوی میں توسیع کی گئی تو اس کھڑکی کی یادگار کو قائم رکھنے کے لیے یہاں قرآن پاک رکھنے کی خاطر ایک کمرہ تعمیر کردیا گیا، لہذا حضرت ابوبکر صدیقؓ کی یادگار رکھنے کے لیے اس کمرے کو اسی نام سے منسوب کردیا گیا۔ یہ دریچہ اب بھی موجود ہے، یہاں ھذا خوخہ ابوبکر صدیق رقم ہے۔ مسجد نبوی میں چھ ستون ایسے ہیں جن پر چمک دار پھول بنے ہوئے ہیں، یہ جگہ مسجد نبوی کی اصل حد ہے جو رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں تھی۔ 
مسجد نبوی میں ایک مشہور دروازہ ہے، جسے باب جبرائیل کہتے ہیں۔ ایک روایت کے مطابق حضرت جبرائیلؑ اسی راستے رسالت مآب ﷺ کے پاس وحی لے کر آتے تھے۔ ایک دوسری روایت کے مطابق جنگ خندق کے بعد جبرائیلؑ اسی راستے نبی کریم ﷺ کے پاس حاضر ہوتے تھے، باب جبرائیل حرم نبوی کے ان چند دروازوں میں سے ہے جو عہد عثمانی میں مسجد نبوی کی توسیع کے بعد عام طور پر کھلے رکھے جاتے تھے، لیکن 1265 ہجری میں حرم نبوی کی توسیع کے وقت سلطان عبدالحمید نے افادہ عام کے پیش نظر پہلے والا دروازہ بند کردیا تھا۔ اور بطور یادگار یہاں کھڑکی نصب کردی تھی اور ایک دوسری جگہ دروازہ نصب کرنے کے بعد اس کا نام باب جبرائیل رکھ دیا تھا۔ لہٰذا اصلی باب جبرائیل والی کھڑکی موجودہ باب جبرائیل اور رکن منارہ کے درمیان دونوںطرف سے تیسری کھڑکی بنتی ہے، جس کے اوپر قرآن کریم کے آیت کے اوپر اسرافیل اور جنوبی کھڑکی پر میکائیل رقم ہے۔ دور نبوی میں یہاں سے نماز کے بعد جنازے حرم نبوی سے باہر لائے جاتے تھے، چنانچہ اسی مناسبت سے اس کا دوسرا نام باب جنائز بھی ہے۔ حرم نبوی میں ایک ایسا ستون بھی ہے جس سے حضرت ابی لبابہ نے خود کو باندھ دیا تھا۔ نبی کریم ﷺ نے ابی لبابہ کو بنو قریظہ کے ہاں بھیجا، تاکہ ان کے ساتھ بعض معاملات پر مشورہ کرسکیں، جب وہ بنو قریظہ کے ہاں پہنچے، ان کے بچے اور عورتیں آہ و زاری کرنے لگے، ابی لبابہ کے دل میں نرمی پیدا ہوئی، ابی لبابہ بیان کرتے ہیں ان کے پائوں لڑکھڑا گئے کہ وہ اللہ اور رسولﷺ کے حق میں خیانت کرگئے۔ جب ابی لبابہ واپس آئے تو آپ ﷺ کے مسجد نبوی آمد سے پہلے انہوں نے خود کو ایک ستون سے باندھ دیا اور کہا کہ وہ اس وقت تک اپنے آپ کو ستون سے باندھے رکھیں گے، جب تک اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول نہیں کرتا۔ جس کے بعد قرآن پاک کی سورۃ الانفال کی آیت نمبر 28  نازل ہوئی کہ اے ایمان والو، تم اللہ اور رسولﷺ کے حق میں خلل مت ڈالو اور اپنی قابل حفاظت چیزوں میں خلل مت ڈالو اور تم تو اس کا مضر ہونا جانتے ہو۔ جب نبی ﷺ کو ابی لبابہ کی اس بات کا علم ہوا تو آپؐ نے فرمایا، اگر وہ میرے پاس آتے تو میںان کے لیے بخشش کی دعا فرماتا، لہٰذا اب میں انہیں اس وقت تک نہیں کھولوں گا جب تک اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول نہیں کرتا۔ مسجد نبوی میں اہل صفا کا مشہور چبوترہ بھی ہے۔ جب باب جبرائیل کے راستے حرم نبوی میں داخل ہوں تو دائیں طرف یہ چبوترہ آتا ہے۔ اہل صفا وہ بزرگ تھے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ آپﷺ اپنے آپ کو ان لوگوں کے ساتھ مقید رکھا کریں جو صبح و شام اپنے رب کی عبادت محض اس کی رضا کے لیے کرتے ہیں۔ یہ اللہ تعالی کی طرف سے ان لوگوں کی بڑی تعریف تھی۔ ان صحابہ کے سردار جلیل القدر صحابی حضرت ابوہریرہؓ تھے، جن کی تعداد سات سو کے قریب تھی جو ہر وقت مسجد نبوی میں نماز ادا کرنے کے بعد دوسری نماز کے انتظار میں دنیاوی کاموں سے باہر نہیں نکلتے تھے۔