24 اگست 2019
تازہ ترین

چینی سفارت خانے میں ایک شام… چینی سفارت خانے میں ایک شام…

گزشتہ دنوں سے ایک خبر گردش میں ہے کہ چینی نوجوان پاکستانی لڑکیوں کو ورغلاکر شادی کرتے اور چین لے جاکے ان سے جسم فروشی کراتے ہیں، یا ان کے اعضا بیچتے ہیں اور صحافی برادری اس حوالے سے بھی جواب چاہتی تھی کہ سی پیک منصوبہ کہاں تک پہنچا اور چین اپنے دوست سے موجودہ حکومت میں کتنا مزید قریب آیا۔ پاکستانی لڑکیوں کو ورغلاکر کسی بھی غلط مقصد کے لیے شادی کرنا ایک بھونڈا کام ہے۔  ظاہر ہے چند چینی باشندے ہی ایسا گھنائونا کام کررہے ہیں، اس سے  بدنامی کا باعث پورا چین ہی بنے گا۔ سوالات بہت تھے اور جواب کے متلاشیوں کو یہ سوال پوچھنے کا موقع پاکستان فیڈریشن آف کالمسٹ نے دے دیا۔ قریباً چالیس صحافی، اینکرز، کالم نگار دوستوں کو پاکستان فیڈریشن آف کالمسٹ کے توسط سے اسلام آباد میں واقع چینی سفارت خانے نے ڈپٹی چیف آف مشن  برائے چینی سفارت خانہ  لی جیان ژائو کی میزبانی میں افطار ڈنر پر بلایا گیا۔
ڈپٹی چیف آف مشن  برائے چینی سفارت خانہ  لی جیان ژائو نے نہایت ہی اچھے انداز سے افطار کا بندوبست کر رکھا تھا اور اس سے بھی کہیں بڑھ کر  خندہ پیشانی سے انہوں نے تمام سوالات کے جواب دیے۔ خبروں کے مطابق  یہ ایک پورے گینگ کا کام ہے، جس 
میں شامل لڑکا پہلے دوستی کرتا، پھر تحائف سے لڑکی اور اس کے خاندان میں اپنا اثر رسوخ بڑھاتا اور بعد میں شادی کا جھانسہ دیتا ہے۔ 30 سے زائد چینی گرفتار کیے گئے ہیں، جنہوں نے بتایا کہ کافی لڑکیوں کو اسی طرح چین منتقل کیا گیا۔  ایک لڑکی کو پاکستانی و چینی حکام کی مداخلت کے بعد چین سے واپس پاکستان بھی لایا گیا ہے، جس کے بیان کے مطابق اس سے وہاں گھنائونا کام لیا جاتا تھا۔ اس سب میں ایک گینگ اور میرج بیوروز ملوث ہیں۔ ایف آئی اے تحقیقات کررہی ہے۔
ڈپٹی چیف آف مشن لی جیان ژائو  کے مطابق ایسے ملوث افراد کو ضرور سزا ملنی چاہیے، لیکن اصل معاملہ لالچ کا اور پاکستان میں قائم ان میرج بیوروز کا ہے جو لالچی لڑکیوں اور ان کے خاندانوں کو گھیرتے ہیں۔ چینی گینگ کا ٹارگٹ بھی لالچی لڑکیاں ہی ہیں جو لالچ اور اونچے خوابوں کو لیے اپنا سب کچھ دائو پر لگادیتی ہیں۔ 
ڈپٹی چیف آف مشن کے مطابق  سفارت خانے تک کئی ایسی معاملات بھی پہنچے کہ لڑکی کو چینی زبان نہیں آتی تھی اور چینی لڑکے کو انگلش کی زیادہ سمجھ نہ تھی لیکن محبت چونکہ اندھی ہوتی ہے، سو شادی ہوکر لڑکی چین چلی گئی۔ ایک دوسرے سے بات کرنے کو گوگل چاچا کا سہارا لیا جاتا اور بعض دفعہ گوگل چاچے سے پوچھا کچھ جاتا اور وہ بتاتا کچھ اور۔ یوں گوگل کے انوکھے ترجموں نے ان کا گھر نہ بسنے دیا۔ لڑکی نے طلاق لے لی اور بحفاظت واپس آگئی۔
ڈپٹی چیف آف مشن نے گینگ اور اس کے کارناموں پر شرمندگی کا اظہار کیا مگر اعضا کو نکال کر فروخت کرنے والی بات کو پروپیگنڈا ٹھہرایا، مگر جب ایک گینگ جرم کی نیت سے ہی پاکستان میں موجود ہو اور ان کا ٹارگٹ لالچ کی شکل میں آسانی سے ان تک  پہنچ جائے تو  ایسے  واقعات ہوتے ہیں۔ 
ایسے واقعات کو روکنے کے لیے پاکستانی اتھارٹیز کو چاہیے کہ امیگریشن کو سخت کریں اور ایسے عناصر کی حوصلہ شکنی کے لیے لازم ہے کہ ایسے لوگوں کو پاکستان آنے سے بھی روکا جائے۔  پاکستان میں موجود ایسے عناصر کو بھی سخت سزا دینی چاہیے۔ ڈپٹی چیف آف مشن  برائے چینی سفارت خانہ  لی جیان ژائو سے سی پیک اور موجودہ پاکستانی حکومت کے حوالے سے چینی پالیسی پر بھی کھل کر بات ہوئی۔
چینی اور پاکستانی ڈشوں سے مزین افطاری تھی، لی جیان ژائو نے ہمارے ساتھ افطار کی اور ڈنر کے دوران بھی کبھی چٹکلوں اور کبھی سنجیدگی کے ساتھ چین پاکستان کی دوستی کو مزید وسعت دینے پر بات چیت کی۔ سی پیک کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ قریباً نصف پروجیکٹس مکلمل ہوچکے ہیں، باقی رہ جانے والے منصوبوں کے کام میں سستی الیکشن کے دنوں میں آئی تھی مگر اب ان پر بھی کام جاری ہے۔ 
بلوچستان اور سندھ میں بھی کئی پروجیکٹس جاری ہیں، جن میں سے دھابیجی سندھ میں واقع چائینہ اسپیشل اکنامک زون کا پروجیکٹ اس سال کے آخر تک مکمل کرلیا جائے گا۔ پاکستان میں سیکیورٹی صورت حال پر بھی اعتماد کا اظہار کیا  اور کہا کہ یہ سارے پروجیکٹس پاکستان، پاکستانی عوام اور خطے کے وسیع تر مفاد میں ہیں، جس کا زیادہ تر فائدہ پاکستان کو ہی ہوگا۔