15 نومبر 2019
تازہ ترین

چین اور روس کے روابط اور نئی دنیا… چین اور روس کے روابط اور نئی دنیا…

رواں ماہ چین کے صدر شی جن پنگ نے روس کا دورہ کیا، روسی ہم منصب پوتن سے اُن کی ملاقات انتہائی خوش گوار ماحول میں ہوئی۔ سینٹ پیٹرز برگ کے قریب دریائے نیوا کی سیر کے دوران دونوں سربراہانِ مملکت نے ملاقات کو ذاتی رنگ دے دیا۔ دونوں رہنما چینی صدر ژی پنگ کی سالگرہ مناتے ہوئے دکھائی دیے، جسے عام طور پر خفیہ رکھا جاتا ہے۔ تحفے کے طور پر روسی صدر نے چینی ہم منصب کو آئس کریم پیش کی، جواباً شی جن پنگ نے چینی چائے سے تواضع کی۔ دونوں نے کچھ وقت دریائے نیوا کے قریب اکٹھے گزارا جو پوتن کی جنم بھومی بھی ہے۔ یونیورسٹی آف سینٹ پیٹرزبرگ نے صدر شی پنگ کو ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری سے نوازا۔ تعلقات میں یہ گرم جوشی ایک نئے عہد کا پیش خیمہ ہے۔ بین الاقوامی تعلقات میں محض اتفاقات نہیں ہوا کرتے۔ یورپ اس وقت اقتصادی اعتبار سے نازک دور سے گزر رہا ہے، انگلستان یورو زون سے نکلنا چاہتا ہے۔ اپنے اقتصادی مفادات کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے امریکا نے یک طرفہ اقتصادی جنگ چھیڑ رکھی ہے۔ اس افراتفری میں نئے اتحاد، نئی دنیا کی منظر کشی کررہے ہیں۔
چین اور روس کے تعلقات ہمیشہ سے خوشگوار نہیں تھے۔ سوویت یونین چین کا ایک قدآور مدِمقابل رہا ہے۔ 60 کی دہائی میں دونوں ملکوں کے مابین ایک جنگ بھی ہوچکی ہے، جس کے باعث دونوں کے درمیان باہمی تعلقات تعطل کا شکار بھی رہ چکے ہیں۔ مائوزے تُنگ ہمیشہ سوویت یونین کو اپنے لیے خطرہ سمجھتے رہے۔ اب حالات قطعاً بدل گئے ہیں۔ 1991 میں سوویت یونین کے بکھرنے پر روس نے چین کے ساتھ تعلقات میں ایک نئی جہت اپنائی۔ اگلے دس برسوں میں چین اور روس نے بہت سے معاہدوں پر دستخط کیے اور اپنے مابین سرحدی تنازع بغیر کسی جارحیت کے طے کرلیے۔ اس دنیا میں جہاں اقوامِ متحدہ تنازعات کے حل میں بُری 
طرح ناکام رہی ہے، وہیں دونوں ممالک کا تنازعات کو باہمی طور پر حل کرلینا اعلیٰ مثال ہے۔ پھر یوں ہوا کہ امریکا نے تجارت میں نہایت جارحانہ پالیسی اپنالی، جس نے ایشیا کی ان دو بڑی طاقتوں کو اور قریب کردیا اور اس قابل بنادیا کہ وہ مغربی دبائو برداشت کرسکیں۔
مشکل ہمیشہ جزئیات میں جانے پر پیش آتی ہے۔ روسی اور چینی صدر 2013 سے اب تک 30 بار مل چکے، فقط یہ بات بھی بڑی اہمیت کی حامل ہے۔ 2018-2019میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت 24فیصد بڑھی جو 108ارب ڈالرز کے مساوی ہے۔ سینٹ پیٹرزبرگ اکنامک فورم میں دونوں رہنمائوں نے اعلان کیا کہ وہ اگلے سال باہمی تجارت کا حجم 200ارب ڈالرز تک بڑھادیں گے۔ اس طرح روس چین کا سب سے قریبی تجارتی ساتھی بن جائے گا۔ بہت پرانی مثال ’’دشمن کا دشمن دوست‘‘ یہاں پر صحیح طرح صادق آتی ہے۔ امریکا اور یورپی طاقتوں نے کریمیا کے مسئلے پر روس پر پابندیاں عائد کی ہوئی ہیں جب کہ جنوبی چین سمندری تنازع کے باعث چین بھی ایسی ہی پابندیوں کا شکار ہے۔ ٹرمپ نے چینی درآمدات پر شرحِ محصول بڑھادی ہے، جس سے چینی منافع جات پر کاری ضرب پڑی ہے۔ اس صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے چین اور روس نے اب نئی حکمتِ عملی اختیار کی ہے جو بڑی حد تک قابلِ عمل بھی ہے۔
چین نے اپنی اقتصادیات کو وسعت دینا ہے، جس کے لیے اسے تیل اور گیس کی بہت زیادہ ضرورت ہوگی۔ روس پائپ لائن کے ذریعے چین کو مائع گیس اور تیل دینے پر رضامند ہے۔ روس اس وقت چین کو تیل دینے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ چین کو روس کی اشد ضرورت ہے۔ مغربی اقتصادی پابندیوں کے پس منظر میں روس چین سے معاوضہ جات حاصل کرسکتا ہے۔
روس اور چین نے یہ بھی اعلان کیا ہے کہ وہ بذریعہ ڈالر تجارت سے چھٹکارا پالیں گے اور ان کی تجارت بالواسطہ روبل اور یوآن میں ہوا کرے گی۔ دونوں ممالک نے روبل یوآن تجارتی نظام کے لیے تمام تیاریاں مکمل کرلی ہیں۔ مستقبل قریب میں انہیں امریکی ڈالر کی محتاجی نہیں رہے گی۔ ایک اور شعبہ چین کی بڑھتی خوراک کی ضروریات کا ہے۔ چین امریکا سے ہر سال 60ارب ڈالر کی پولٹری مصنوعات خریدتا تھا۔ اب اس نے یہ مصنوعات روس سے لینا شروع کردی ہیں۔ صدر پوتن کے بقول: ’’ہم نے چین کے ساتھ ناقابلِ یقین حد تک امدادِ باہمی کے تقاضے پورے کرلیے ہیں۔‘‘
اقتصادی اور تجارتی بندھنوں کے علاوہ سیاسی میدان میں دونوں ملکوں نے ایران کے خلاف امریکی جارحانہ پالیسی کی مخالفت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے ایران اور وینزویلا پر کسی بھی جارحانہ کارروائی کے خلاف امریکا کو خوبصورت سفارتی زبان میں تنبیہہ کی ہے۔ شی پنگ نے روس اور چین کے مابین ایک ایسی شاہراہ بنانے کا بھی عندیہ دیا، جس کی تعمیر پر 2.5بلین یوآن اخراجات آئیں گے، جس کی بدولت دونوں ممالک کے مابین ایک زمینی پل قائم ہوجائے گا جو اقتصادی روابط کو مزید پختہ کرے گا۔
یہ غیر معمولی واقعات ہیں، طاقت کا توازن امریکا سے کسی اور جانب ڈھلک رہا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ امریکا کا اثر کم ہورہا ہے اور چین پورے کرۂ ارض پر امریکا کی سیاسی غلطیوں سے فائدہ اٹھارہا ہے۔ ’’ون بیلٹ ون روڈ‘‘ کے سنہری موقع سے چین کو اپنی تجارت بڑھانے کا موقع مل رہا ہے۔ پوتن کی قیادت میں روس نے چین کی طرف دوستانہ قدم بڑھائے ہیں، جو دونوں ممالک کے لیے تجارت اور منافع کے پھیلائو کا ذریعہ بنیں گے اور یورپی یونین کا اثر کم سے کم ہوتا چلا جائے گا۔ اپنی کوتاہ اندیشیوں اور بین الاقوامی سوچ کے بجائے قومی سوچ رکھنے والا امریکا تفریطِ زر کا شکار ہوجائے گا۔ دوسری جانب ولادی میر پوتن اور شی پنگ مشترکہ روابط کی ایک نئی دُنیا متعارف کرارہے ہیں۔ یہ منظر بڑا دلکش اور معنی خیز ہے، ایک رہنما کے ہاتھ میں روسی آئس کریم اور دوسرے کے ہاتھ میں خوشبودار چینی چائے ہے۔