15 نومبر 2019
تازہ ترین

چابہار: ایران بھارت تجارتی معاہدہ   (2) چابہار: ایران بھارت تجارتی معاہدہ (2)

بھارت چابہار پر شاہد بہشتی ٹرمینل تعمیر کر رہا ہے جو 5 مراحل میں مکمل ہوگا۔ اس ٹرمینل کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد بندرگاہ کا سالانہ حجم 82 میٹرک ٹن تک پہنچ جائے گا۔ چابہار کی بندرگا ہ کا انتظامی کنٹرول فی الحال تو18ماہ تک بھارت کی سرکاری کمپنی انڈین پورٹ گلوبل لمیٹڈ کے پاس ہوگا لیکن دونوں ممالک کی رضامندی سے یہ مدت 10سال کی لیزمیں تبدیل ہوسکتی ہے۔ بھارت چابہار میں برتھوں کی تعمیر کے لیے 2185 ملین کی سرمایہ کاری کر رہا ہے اور اپنی سالانہ آمدنی کا 9522 ڈالر چابہار کے فیز ون میں آلات کی مد میں بھی خرچ کررہا ہے۔ اس کے علاوہ بھارت، ایران افغانستان سرحد کے قریب چابہار سے زاہدان تک61 ارب ڈالر سے ریلوے لائن بچھا رہا ہے۔ دوسری جانب بھارت کی سرکاری اور غیر سرکاری کمپنیاں چابہار فری ٹریڈ زون میں 20 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی منصوبہ بندی کر رہی ہیں۔یقینا چابہار بندرگاہ ایران کی گہرے سمندر میں پہلی بندرگاہ ہے اورگہرے پانی کی بندرگاہ نہ ہونے کی وجہ سے اب تک ایرانی کمپنیوں کو اس حوالے سے پابندیوں کا سامنا ہے۔ بندر عباس بندر گاہ پرایک لاکھ ٹن وزن اٹھانے والے جہازوں کی گنجایش ہے۔ یہاں پانی کی سطح بھی کم ہے۔
 ایک لاکھ ٹن سے زیادہ کے لیے ایران دبئی کی بندرگاہ پر انحصار کرتا ہے۔ وہاں وہ جہاز اپنا سامان چھوٹے جہازوں پر منتقل کرتے ہیں تو اس سامان کی ترسیل بندر عباس کی بندرگاہ پر ہوتی ہے۔چابہار کی بندرگاہ کھلنے کے باوجود ایران کا دبئی پر انحصار ختم نہیں ہو سکے گا جبکہ وہ گوادر کی بندرگاہ کے استعمال سے لاکھوں ڈالر فیس کی مد میں بھی بچا سکے گا اور آیندہ معاشی ترقی کے لیے درآمدوبرآمدکی وسیع ترسیل کے لیے بڑے تجارتی جہازوں کی ضرورت ہوگی جو چابہارکی بندرگاہ سے پوری نہیں ہوسکے گی ۔چابہارکی بندرگاہ افغانستان کا سمندر تک پہنچنے کے لیے پاکستان پر سے انحصار توختم کردے گی لیکن کاروباری لحاظ سے یہ بہت مہنگاسودا ثابت ہوگا۔ یہاں سے وہ افغانستان، ترکی، روس، بالٹک ریاستوں سمیت چین اور ایران تک رسائی کوممکن بناسکتاہے۔ چابہار کے ذریعے بحری راستے کی تجارت کے لیے مختصر راستے بہرحال کھل نہ سکیں گے۔ بھارت کا تجارتی سامان چابہار پر اترے گا، وہاں سے یہ ٹرین اور ٹرک کے ذریعے افغانستان کے مختلف شہروں میں پہنچے گا۔ رنگ روڈ کے ذریعے سامان تجارت افغانستان کے ہر شہر میں پہنچایا جائے گا۔ تجارتی سامان افغانستان سے وسط ایشیائی ریاستوں میں اور پھر وہاں سے افغانستان منتقل ہوگا۔
 وسط ایشیائی ریاستوں سے آنے والا سامان ایران کے ریلوے ٹریک کے ذریعے زاہدان سے ہوتا ہوا چابہار پہنچے گا اور وہاں سے کشتیوں کے ذریعے بھارت اور دوسرے ممالک روانہ کیا جائے گا۔ گویاتجارتی لحاظ سے یہ ایک مشکل اورمہنگا کام ہوگا۔2013 میں پہلی بار ایران نے بھارت کو اپنے چابہار بندرگاہ کے منصوبے میں شامل کیا ہے۔ اس منصوبے کو شروع کرنے میں کافی وقت لگا۔ مغرب نے ایران پر جو پابندیاں عائد کی ہیں ان کی وجہ سے بھارت شکوک و شبہات کاشکار تھا، اس کے علاوہ وہ منصو بے کی سست روی پر بھی اپنے تحفظات کا اظہار کر رہا تھا یہاں تک کہ کچھ مہینے پہلے ایران پر امریکا کی سخت ترین پابندیوں کے باعث یہ منصوبہ مکمل طور پر رک چکا تھا، لیکن گزشتہ برس نومبر میں ٹرمپ نے چابہار اور افغان ریلوے لائن منصوبے پر سے پابندی کو ختم کیا۔ اس کے بعد دوبارہ ایران نے اس منصوبے پر کام شروع کیا۔ سوال یہ ہے کہ امریکانے ایران پراس قدرکڑی پابندیوں کے باوجودیہ مہربانی کیوں کی؟ دوسری طرف طویل زمینی فاصلے پر تجارت اورمعاشی استحکام پر اب بھی سوالات اٹھ 
رہے ہیں۔ ٹرین کے ذریعے جانے والا سامان کشتی کی نسبت جانے والے سامان سے کم وقت میں منزل تک پہنچتا ہے بلکہ بسا اوقات سمندری راستہ ٹرین کی نسبت دوگنا وقت لیتا ہے۔ اس منصوبے کااصل مقصد طویل فاصلہ کم وقت میں طے کرنا ہے اور اس مقصدکا حصول چابہار منصوبے سے پورا ہونا اگر ناممکن نہیں تومشکل ضرورہے۔ مستقبل میں یہی بندرگاہ چابہار کا مقابلہ کرے گی۔
 آنے والا وقت یہ بتائے گا کون سی بندرگاہ زیادہ منافع بخش ہے۔ گوادر نہ صرف چابہار سے بڑا منصوبہ ہے بلکہ چین ا س پر بڑی تیزی سے سرمایہ کاری بھی کررہا ہے اور اسی تیزی سے سی پیک میں شامل گوادر سے کاشغر کے لیے ریلوے ٹریک بھی تعمیر کر رہا ہے۔ اس حوالے سے گوادر چابہار سے کہیں زیادہ منافع بخش بندرگاہ بنے گی اور دنیا بھر کے تاجروں کو اپنی طرف راغب کر سکے گی۔جبکہ ایران نے اس بات کا اظہار کئی بار کیا ہے کہ وہ چابہار کے منصوبے میں پاکستان اور چین سمیت کئی دوسرے ممالک کو بھی شامل کر سکتا ہے لیکن ایران کے معاشی ودفاعی ماہرین کی یہ متفقہ رائے ہے کہ بھارت اس راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ بناہواہے۔ چابہار میں چین کی شمولیت اس منصوبے کو دوام بخشے گی اورچین کی شراکت سے چابہار اور گوادر کے درمیان ہم آہنگی بھی پیدا ہوگی لیکن کیا بھارت کے آقاایساکرنے کی اجازت دیں گے؟ ایران اس معاملے کو بھارت سے زیادہ سمجھتا ہے۔ ایران کو اس بات کاخدشہ ہے کہ چین نہ صرف چابہار بندرگاہ کے ساحلوں کو اپنے قبضے میں رکھے گا بلکہ اس پر سرمایہ کاری کرے گا اور اس کے بنیادی ڈھانچے پر بھی خرچ کرے گا، لیکن اپنی خود مختاری مقدم رکھنے والے ملک ایران کے لیے یہ سب برداشت کرنا ذرا مشکل ہو گاجبکہ چین نے ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف کوایک اہم ملاقات میں ان تمام خدشات کوبے بنیاد قرار دیا ہے ۔چین کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ چابہار پر برتھوں کا کنٹرول اپنے پاس رکھنے کا خواہاں ہے، لیکن چونکہ فی الحال گوادر کا مکمل کنٹرول چین اورپاکستان کے پاس ہے، اس لیے انہیں چابہار کا کنٹرول حاصل کرنے کی کوئی جلدی نہیں۔
بقیہ: یقین محکم