09 اپریل 2020
تازہ ترین

بیرونی قرضے اور معیشت! بیرونی قرضے اور معیشت!

کمزور معیشت اور مہنگائی کا براہ راست تعلق ہے تو دوسری جانب مضبوط معیشت اور خوش حالی ایک دوسری کی ساتھی اور عوامی حقوق کے تحفظ کی ضامن ہیں۔ ریاستیں چلانے کے لیے حکومتیں بالعموم ٹیکسز لگاتی ہیں، تاکہ عوام کو بہتر بنیادی سہولتیں فراہم کرسکیں، مگر کچھ ریاستوں کے حکمران، عوام کے پیسوں سے صرف ذاتی معیشت کو ترقی دیتے ہیں جب کہ عوام کی حالت دن بہ دن پتلی ہوتی جاتی ہے۔ ہوس پرست حکمران اسی پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ اقوام عالم کے مالیاتی اداروں سے بھی ملک و قوم کی فلاح کے نام پر قرضوں کا انبوہ کثیر اکٹھا کیا جاتا ہے، جو بالا ہی بالا حاکم وقت اشرافیہ کے خاندان وغیرہ میں تقسیم ہوجاتا اور ان قرضوں کا بوجھ بھی عوام کے ناتواں کاندھوں پر ڈال دیا جاتا ہے۔ 
قرضوں کی تاریخ بھی دلچسپ ہے کہ پاکستان 1958 سے ان مالیاتی اداروں سے قرضے حاصل کررہا ہے اور یقیناً شروع کے ادوار میں ملک کی مالی حیثیت اتنی بُری تھی اور نہ اس کی ریٹنگ اتنی خراب کہ مالیاتی ادارے اس پر اعتماد نہ کرتے، یہی وجہ تھی کہ ہر عالمی ادارہ آسان شرائط پر پاکستان کو قرض فراہم کرتا رہا۔ قرضوں کی پہلی چھوٹی سی قسط 1958میں حاصل کی گئی جب کہ ایسی چھوٹی چھوٹی اقساط کا تسلسل 1977تک چلتا رہا،1980میں 3ارب ڈالر کی رقم واپس بھی کی گئی،1977-1979 تک ناصرف مارشل لا حکومت پر اعتماد کا فقدان رہا بلکہ دوسری طرف ملکی خزانے میں خاطرخواہ وسائل ہونے سے عالمی مالیاتی اداروں کی اعانت بھی ضروری نہ تھی۔ تاہم 1979کے بعد، افغانستان میں روسی مداخلت کے باعث، پاکستان کی امداد کے نام پر ڈالروںکی برسات کھل کر برسی، معاشی صورت حال قدرے بہتر رہی مگر 1987 میں امریکی تجویز کردہ آڈٹ کے بعد اوجڑی کیمپ میں ہونے والے دھماکے نے امدادی ڈالروں کی برسات کے استعمال پر شکوک شبہات کے سائے تان دیے۔ بہرکیف امریکا نے اس سانحے کے بعد تمام اعدادوشمار تسلیم کرلیے اور یوں پاکستان، وقتی طور پر اس مشکل سے نکل گیا مگر جواباً اگلے ہی برس، پریسلر ترمیم کے نام پر پاکستان کی مشکلات میں شدید اضافہ کردیا گیا اور پاکستان کے لیے ایف16طیاروں اور ان کے اضافی پرزہ جات کا حصول ناممکن کردیا گیا۔
1999 تک بیرونی قرضوں کا حجم 39ارب ڈالر تھا، سانحۂ 9/11نے پھر پاکستان پر امریکا کو نوازشات کرنے پر مجبور کردیا اور وطن عزیز ایک بار پھر امریکی آنکھ کا تارا بن گیا۔ معاشی مشکلات کی سوکھی زمین پر ابر ڈالر کھل کر ایسا برسا کہ اس سے پیرس کلب نے جنم لے کر، پاکستان پر واجب الادا قرضوں کی ناصرف ری شیڈولنگ کرانے میں مدددی بلکہ ملک پانچ ارب ڈالر قرضوں کی رقم بھی واپس کرنے میں کامیاب رہا۔ گو مشرف حکومت کی کمزوری کے باعث ری شیڈولنگ یا محدود قرضوں کی واپسی تک ہی ممکن رہی اگر مشرف حکومت واقعتاً مضبوط ہوتی یا کم ازکم مظاہرہ ہی کرتی تو عین ممکن تھا کہ تمام قرض معاف ہوجاتے۔ بہرکیف 2008 تک پاکستان پر واجب الادا قرض 34 ارب ڈالرتھا، جو حکمرانوں کی شاہ خرچیوں کے باعث آج قریباً 97ارب ڈالر کی خطرناک ترین حد کو چھو رہا ہے اور سابق حکومت اس قرض کے عوض اس ملک کے اثاثے تک گروی رکھواچکی ہے۔ مسئلہ صرف اس قرض کا حصول نہیں بلکہ اہم ترین مسئلہ یہ ہے کہ اس کا مصرف کیا رہا؟ قرض کی اس رقم کو کسی پیداواری منصوبے پر خرچ نہیں کیا گیا بلکہ جو منصوبے بھی بنے، وہ فلاپ یا خسارے پر چلنے والے رہے، جو ملکی معیشت پر بوجھ بنے، حکمرانوں کی ذاتی تجوریوں کی زینت بنا، یا پھر حصہ بقدر جثہ ریاستی مشینری اور ٹھیکیداروں کی جیب میں گیا۔ 2008-2013 تک کے پیپلز پارٹی کے دور میں قرضوں کا حجم 34سے بڑھ کر 59ارب ڈالر ہوگیا، 25ارب ڈالر کا غیر ملکی قرضوں کا بوجھ اس ملک پر لاددیا۔ ابھی اس حجم میں مقامی بینکوں سے حاصل کیے گئے قرض شامل نہیں۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے اپنے پانچ سالہ دور میں، قرضوں کے اس حجم میں 34ارب ڈالر کا اضافہ کیا اور ملک کو 93ارب ڈالر کے غیر ملکی قرضوں میں جکڑدیا۔
اس پس منظر میں، ملکی معیشت کو چلانے کی خاطر، موجودہ حکومت اپنے دعووں کے برعکس جلد ہی غیر ملکی قرضوں کی جانب مائل ہوگئی، کیونکہ سابق حکومتوں کے ادوار میں لیے گئے قرضوں کی اقساط سر پر تھی اور ڈیفالٹ سے بچنے کی خاطر اُسے یہ کڑوا گھونٹ پینا پڑا۔ پھر حکومت کے سامنے یہ مسئلہ درپیش تھا کہ حکومتی آمدن کیسے بڑھائی جائے؟ اس مرحلے پر عمران ایک بار پھر اپنے دعوے کی نفی کرتے نظر آئے اور کالے دھن کو سفید کرنے کی ایمنسٹی سکیم کا اجراء کرنے پر مجبور ہوئے۔ گذشتہ ایمنسٹی سکیم کے اعدادو شمار پر نظر دوڑائیں تو 
قریباً85ہزار کے لگ بھگ افراد نے اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے 121ارب روپے قومی خزانے میں جمع کرائے جب کہ حالیہ ایمنسٹی سکیم سے تادم تحریر، قریباً1 لاکھ 35 ہزار افراد کے مستفید ہونے کی توقع ہے اور اس وقت تک قریباً70ارب روپے قومی خزانے میں جمع ہوچکے ہیں۔ اس مرتبہ شوروغوغا تو بہت ہے مگر حقیقتاً حکومت کالے دھن والوںکو پکڑنے میں کس قدر سنجیدہ ہے، اس کا علم بعد کے اقدامات سے ہوگا، علاوہ ازیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ واقعی حکومت بلاامتیاز کارروائی کرتی ہے یا نہیں۔ اگر سمت اور ترجیحات درست ہوں تو راستے نکل ہی آتے ہیں، لیکن لگتا ہے کہ مفاد پرستوں کے ٹولے کی موجودگی میں سمت درست ہوسکتی ہے اور نہ ترجیحات، ایسا ہی کچھ معاملہ موجودہ حکومت کے ساتھ بھی ہے کہ جن مفاد پرستوں کی حمایت پر حکومت قائم کی گئی تھی، کسی بھی سخت اقدام سے قبل اس حمایت کے کھو جانے کا خطرہ، سخت فیصلے کرنے میں رکاوٹ نظر آتا ہے۔ ان رکاوٹوں کی موجودگی میں قربانی کا کڑوا گھونٹ غریب عوام کو بھرنا پڑتا ہے۔ اس بجٹ میں بھی کڑوا گھونٹ پھر غریب عوام کے حصے میں آیا اور ناصرف نئے ٹیکس لگائے گئے ہیں بلکہ موجودہ ٹیکسوں کی شرح میں بھی ہوشربا اضافہ کیا گیا، عوام سے دو وقت کی روٹی کا نوالہ بھی چھینا جارہا ہے اور انہیں ٹیکس چوری کا مجرم بھی گردانا جارہا ہے۔ ٹیکس نیٹ سے باہر مراعات یافتہ مگرمچھ جو کل قانونی سقم کا بھرپور فائدہ اُٹھارہے تھے، وہ آج بھی اسی طرح اس نظام سے باہر ہیں۔ حیرت کہ سابق حکومتوں کے شرمناک معاہدوں سے فیض یاب ہونے والے، آج بھی حکومتی ارادوں کو ڈگمگانے کی صلاحیت رکھتے ہوئے، اس نظام سے باہر ہیں۔ اس موضوع پر مزید گفتگو آئندہ کالم میں ہوگی۔