بیوروکریسی۔ بنائے کہنہ کی تعمیر نو بیوروکریسی۔ بنائے کہنہ کی تعمیر نو

پاکستان میں نوجوان نسل کے لیے سول سروس ایک پُرکشش کیریئر رہا ہے۔باوجود اس کے کہ اب بیوروکریسی میں وہ آن بان باقی نہیں رہی اب بھی معاشرے کے بہت سے پڑھے لکھے نوجوانوں کے خوابوں کی تعبیر پاکستان کی سول سروس کا حصہ بننا ہے۔ مگر پچھلے کئی سال سے سول سروس میں آنے والے نوجوانوں کا تعلیمی معیار اسکی تنزلی کی علامت ہے۔ سال 2018 کی سول سروس کے امتحانات کے جو نتائج فیڈرل پبلک سروس کمیشن نے جاری کیے ہیں ان کے مطابق 11887 امیدواروں نے امتحان میں حصہ لیا جن میں صرف 569 امیدوار کامیاب ہوئے یعنی اس طرح تحریری امتحان میں کامیابی کی شرح 4.79 فیصد رہی اور آخری نتائج کے مطابق تین 3.30 فیصد امیدوار اہل قرار پائے جن میں سے 199 مرد اور 100 خواتین امیدوار شامل تھے۔
بیوروکریسی میں آنے والے نوجوانوں کی تعلیم کا گرتا معیار ہی بیوروکریسی کے تنزل کا ایک پہلو نہیں ہے بلکہ اس کا ایک اور حوالہ اس کا وہ کردار ہے جو معاشرے میں مسلسل کم ہو رہا ہے۔ کیونکہ ایک مثالی فلاحی ریاست میں بیوروکریسی عوام کی خدمت گزاری اور ان کے حقوق کے محافظ ادارے کی حیثیت رکھتی ہے مگر پاکستان میں بیوروکریسی کا یہ کردار مسلسل گرتا چلا گیا۔ شاید انہی اسباب کے پیشِ نظر موجودہ حکومت نے بیورو کریسی کے موجوہ نظام پر نظر ثانی کا فیصلہ کیا۔ ڈاکٹر عشرت حسین کی قیادت میں کام کرنے والی ٹاسک فورس نے یہ تجویز دی ہے کہ سینٹرل سپیریئر سروس کے موجودہ نظام کو ختم کر کے اس کی جگہ متخصص سول سروس کا نظام رائج کیا جائے تاکہ سول سروس میں اصلاحات کا موجودہ حکومت کا موجودہ ایجنڈا آگے بڑھائے جا سکے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ مخصوص اہلیت اور مہارت رکھنے والے امیدواروں کو مختلف شعبہ جات کے لیے سروس میں شامل کر کے ان کی مہارت اور علم سے مختلف شعبوں کے اہداف کے حصول کو ممکن بنایا جائے۔ تاہم اس تجویز پر عمل کرنے سے پہلے اس امر کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے کہ موجودہ سروس کے ڈھانچے میں بھی سینئر سول آفیسرز کے لیے یہ گنجائش موجود ہے کہ سروس کے دوران ان کے لیے مخصوص تربیت کے کورسز اور امتحانات کا نظام ہے جن سے انہیں گزرنا پڑتا ہے۔ تربیت کے ان مراحل میں ٹیکنیکل مالیاتی انتظامی قانونی اور دیگر معاملات سے متعلق کورسز شامل ہوتے ہیں، اس کے علاوہ کئی ایسے سول سرونٹس ہیں جنہوں نے اپنی سروس کے دوران مختلف میادین میں مخصوص مہارت حاصل کرنے کے لیے بیرون ملک تربیت بھی حاصل کر رکھی ہوتی ہے۔ لیکن شاید فقدان اس بات کا ہے کہ مختلف اہلیتوں کے حامل سول سرونٹس کو ان کی اہلیت کے مطابق کام تفویض نہیں کیے جاتے اور نہ ہی ان کی استعداد سے فائدہ اٹھانے کا کوئی مناسب نظام موجود ہے۔
بیوروکریسی میں کی جانے والی ریفارمز کے مؤثر ہونے کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ دوران سروس اس کے رویے میں عوام دوستی اور عوامی مسائل کے حل کے لیے اپنے اختیارات اور استعداد کے استعمال کو یقینی کس طرح بنایا جائے۔ کیونکہ سول سرونٹس اپنے اپنے محکموں کے روزمرہ معاملات کے منتظم ریاستی وسائل کے نگران اور شہریوں کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ لیکن عمومی تاثر یہی ہے کہ بیوروکریسی کا یہ کردار بہت کم نظر آتا ہے۔ بیوروکریسی کے سرفہرست شعبے جن میں پاکستان ایڈمنسٹریٹر سروسز اور پولیس سروس آف پاکستان شامل ہے میں عوام سے دوری کا تاثر غالب رہتا ہے یہی وجہ ہے کہ لوگ اپنے مسائل کے حل کے لیے بیوروکریسی کی طرف رجوع کرنے کے بجائے سیاستدانوں کی طرف رجوع کرنا زیادہ باسہولت سمجھتے ہیں۔
حالانکہ مسائل کے حل کا اختیار سیاستدانوں کے پاس نہیں بیوروکریسی کے پاس ہوتا ہے اور جب یہی مسائل عوام کے بجائے سیاستدان ان کے پاس لے کے آتے ہیں تو ان کا رویہ بالکل مختلف ہوتا ہے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے کیریئر کے سرپرست سیاستدان ہیں نتیجہ یہ ہے کہ کئی سال کے اس طرح کے رویوں کے باعث سیاستدانوں اور بیوروکریسی کے درمیان سرپرست اور ماتحت کا ایسا تعلق قائم ہو چکا ہے جس نے بیوروکریسی کے غیر جانبدار تشخص وقار روایت کو بھی متاثر کیا ہے۔
اس کے مقابلے میں وہ افسران جن میں اتنی جرأت ہے کہ وہ اپنے سیاسی آقاؤں کے غیر قانونی احکامات کو ماننے سے انکار کر سکیں تو انہیں اپنے کیریئر کے دوران اس کی سخت آزمائشوں کی صورت میں قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ پاکستان کی سول سروس میں بہت سے اہل اور دیانتدار افسر موجود ہیں مگر کئی ناگفتہ بہ اسباب کے باعث انہیں اہم ذمہ داریوں سے الگ کر دیا گیا ہے کیونکہ اہم اور مؤثر ذمہ داریوں پر فائز ہونے کے لیے درکار تقاضے پورے کرنا دیانتدار اور اہل افسران کے بس میں نہیں ہوتا۔ نتیجہ سول سروس کے پورے ڈھانچے کی تنزلی کی صورت میں سامنے آتا ہے معروف مثل ہے کہ طاقت بدعنوانی کا دروازہ کھولتی ہے اور غیر معمولی طاقت غیر معمولی طور پر بدعنوانی کا ارتکاب کرتی ہے۔ یہ صورتحال موجودہ نظام میں اس وقت سامنے آتی ہے جب لا محدود اختیارات اور وسائل جواب دہی کے واضح نظام کے بغیر میسر ہوں۔ آج ہمارا معاشرہ سر تاپا کرپشن کا شکار اسی لیے ہے کہ کسی بھی جگہ محکمانہ سطح پر قواعد و ضوابط کی پابندی اور احتساب کا ایسا مؤثر نظام موجود نہیں جسے ذمہ دار افسران اس یقین کے ساتھ پیش نظر رکھ کر اپنے فرائض انجام دے رہے ہوں کہ وہ کسی صورت بھی احتساب کے اس نظام سے بچ نہیں سکیں گے۔ ہماری روزمرہ زندگی میں ایسی کئی مثالیں دیکھنے کو مل سکتی ہیں کہ کسٹم، انکم ٹیکس اور پولیس سے متعلق کتنے ایسے معاملات ہیں جن کو غیر معمولی وسائل خرچ کیے بغیر معمول کے قانونی طریقہ کار کے مطابق آگے نہیں بڑھایا جا سکتا۔ لہٰذا ڈاکٹر عشرت حسین کی سربراہی میں کام کرنے والی ٹاسک فورس کو موجودہ بیوروکریسی کے نظام کو بدل کر نیا نظام لانے سے پہلے اس امر کو یقینی بنانا ہو گا کہ پہلے نظام کی جگہ نیا نظام ایسے خصائص کا حامل ہو کہ وہ ان کوتاہیوں اور خامیوں کا ازالہ کر سکے جن کا شکار ہمارا موجودہ کرپٹ نظام ہو چکا ہے۔ مولانا روم نے فرمایا تھا:
ہر بنای کہنہ کہ آبادان کنند
اول بنائے کہنہ را ویراں کنند
کہ جب بھی کوئی نئی تعمیر کرنا درکار ہوتی ہے تو اس کے لیے پرآنی تعمیر کو گرا دیا جاتا ہے۔ لیکن پرانی تعمیر کو گرانا اسی وقت ہی سود مند ہو گا جب نئی تعمیر ان خامیوں کا ازالہ کر رہی ہو جن کے باعث پرانی تعمیر کو گرایا گیا تھا۔