09 اپریل 2020
تازہ ترین

بھول یا خوش فہمی… بھول یا خوش فہمی…

اگر کوئی درخت یہ سوچنے لگے کہ آسمان کا بوجھ اس نے اٹھا رکھا ہے تو یہ بڑی بھول ہے اس کی۔ کیا یہ بھول یا خوش فہمی وزیراعظم عمران خان کو بھی لاحق ہے؟ کیا وہ اکیلے ہی اس ملک کی تقدیر بدلنے پر قادر ہیں۔ عمران خان کا کرپشن کے خاتمے کے لیے سخت اور مضبوط سٹینڈ تحریک انصاف کے ووٹرز کے لیے تو قابل داد اور لائق تحسین ہوسکتا ہے لیکن اس پر دوسری سیاسی جماعتوں کے قائدین اور کارکنان سوال اٹھانے پر مجبور ہیں۔ فی الحال تو ہوا (ن) لیگ اور پیپلزپارٹی کے مخالف رُخ پر چل رہی ہے۔ کہنے والے کہتے ہیں دوست ہزار بھی ہوں تو بعض اوقات کم پڑ جاتے ہیں مگر دشمن ایک بھی ہو تو بہت ہوتا ہے۔ کسی ایک کی دشمنی نے آج (ن) لیگ اور پیپلزپارٹی کو ایک راہ کا مسافر تو بنادیا ہے لیکن وزیراعظم صاحب سرپرائز پر سرپرائز دیتے جارہے ہیں۔ رانا ثناء اللہ کی گرفتاری کے بعد کیا شاہد خاقان عباسی، احسن اقبال یا پھر کسی اور کا نمبر آنے والا ہے۔ نوازشریف جیل میں آج یقیناً یہ سوچتے ہوں گے کہ کسی کے پیچھے چلنے میں ہی عافیت تھی۔ سیاست کے بے رحم میدانوں اور ایوانوں میں کچھ بھی حادثاتی نہیں ہوتا اور اگر کبھی ایسا ہو تو اس کے پیچھے بھی کہیں نہ کہیں کوئی پلاننگ موجود ہوتی ہے۔
احتساب کا یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟ کچھ بھی کہنا مشکل ہے۔ ایمنسٹی سکیم کے اضافی تین دن بھی ختم  ہوگئے، اس میں مزید اضافہ ہوگا یا اس کے بعد ایک بے رحم آپریشن اور کارروائی کا آغاز ہوگا۔ بے نامی جائیدادوں اور جعلی اکائونٹس کے خلاف سخت کارروائی شروع ہونے جارہی ہے، عوام اچنبھے میں ہیں کہ کیا ہورہا ہے۔ مہنگائی کے طوفان نے کروڑوں لوگوں کو متاثر کیا ہے۔ بجلی، پٹرول اور گیس کے اضافی چارجز سے اربوں روپے حکومتی خزانے میں جمع ہوچکے ہیں۔ بے نامی جائیدادوں اور جعلی اکائونٹس کے خلاف کارروائی کے آغاز سے بھی اربوں روپے خزانے میں جمع ہوں گے۔
اب سوال ہے کہ آئندہ کچھ مہینوں میں حکومتی ترجیحات کیا ہوںگی؟ سیاستدانوں کے انٹرویوز سنسر ہونے لگے ہیں، صحافیوں کو سچ لکھنے سے روکا جارہا ہے۔ معیشت تباہ ہو چکی ہے، لیکن عوام کی توجہ مہنگائی کی طرف نہ جاسکے، وہ ہر روز ایک نئے سرپرائز سے دوچار ہوتے رہیں۔ تبدیلی ناصرف آچکی ہے بلکہ تبدیلی نے بہت سوں کو اپنی رائے اور سوچ بدلنے پر مجبور کردیا ہے۔ پتا نہیں حکومتی وزیروں اور خاص طور پر وزیراعظم عمران خان کو یہ ادراک ہوا ہے یا نہیں کہ لاکھوں یا شاید کروڑوں ان ووٹرز کی رائے تحریک انصاف کی حکومت کے بارے میں یکسر بدل چکی ہے جو ان کی پی ٹی آئی کو ووٹ دیتے تھے۔ بس بہت ہوچکا، ہمیں یہ تبدیلی نہیں چاہیے۔ یہ ان غریب لوگوں کے الفاظ ہیں جنہیں حکومت سننا نہیں چاہتی، یا سن کر بھی جان بوجھ کر فراموش کررہی ہے۔
حکومت کا یہ رویہ یا خود پر حد سے زیادہ خوداعتمادی کیا اس حکومت کو ہی لے ڈوبے گی، یا آج کے ان سخت فیصلوں اور مشکلات کے بعد اچھے دن آئیں گے۔ سوال یہ ہے کہ یہ اچھے دن کس کے لیے ہوں گے؟ عوام لاچار، مجبور اور بے بس دکھائی دے رہے ہیں۔ اگر یہ بے بسی حد سے بڑھ گئی تو عوام سڑکوں پر آنے پر مجبور ہوجائیں گے۔ کسی سیانے نے خوب کہا ہے کہ درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے۔ عوام کو بھروسہ تھا کہ حکومت کے درخت پر میٹھا پھل لگے گا لیکن یہ پھل کڑوا ہوتا جارہا ہے اور جب کوئی غلطی سے حد سے زیادہ کڑوی چیز منہ میں ڈال لے تو وہ اسے تھوک دیتا ہے۔ یہ بات سوچنی چاہیے۔