10 اپریل 2020
تازہ ترین

بین الافغان کانفرنس، امیدکی ایک کرن بین الافغان کانفرنس، امیدکی ایک کرن

امریکا سے قطر مذاکرات کے ساتویں راؤنڈ کے دوران طالبان نے افغانستان میں دہشت گرد حملوں کو سلسلہ مزید تیز کیا، جس سے افغانوں کی حالت زار مزید ابتر ہوئی۔ دوحہ میں مذاکرات کے پہلے 2 دنوں کے دوران طالبان نے شمالی افغانستان کے ضلع نہرین میں حکومت کے حامی 25 جنگجو قتل کئے، وسطیٰ کابل میں وزارت دفاع کے دفتر پر بم حملہ کیا، جس میں 6افراد ہلاک جبکہ 100سے زائد زخمی ہوئے جن میں اکثریت پرائمری سکول کی طلبہ کی تھی، جوکہ حملے کے مقام کے قریب واقع تھا۔ تشدد کے یہ واقعات امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کے اس دعوے کا منہ چڑانے کیلئے کافی ہیں کہ امن مذاکرات میں حقیقی پیش رفت ہو رہی ہے اور طالبان جلد اپنے افغان بھائیوں کیساتھ مل کر آئندہ افغانستان کبھی دہشت گردوں کی جنت بننے نہیں دیں گے۔ معزولی کے بعد بھی 18سالہ طویل جنگ کے دوران طالبان کی دہشت گردی کا دور دورہ جاری رہااور نصف سے زیادہ ملک پر انہوںنے اپنا اثرورسوخ برقرار رکھا۔ مذاکرات سے صاف لگتا ہے کہ طالبان ابھی تک اپنی شرائط منوانے پر زور دے رہے ہیں، جس میں غیر ملکی فوج کا فوری انخلا کا مطالبہ سرفہرست ہے، اس دوران وہ معصوم شہریوں کے بہیمانہ قتل عام کا سلسلہ بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ 
امن مذاکرات کے اس عمل میں اگرچہ امریکا کا کردار انتہائی اہم ہے، مگر امریکی انتظامیہ کے متضاد بیانات مسائل کا باعث بن رہے ہیں۔ سوموار کو صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ افغانستان سے نصف امریکی فوج نکالی جا چکی ہے، جس کامطلب ہے کہ افغانستان میں باقی امریکی فوجیوں کی تعداد محض 9ہزار ہے، تاہم امریکی دفاعی حکام ا س تعداد کو 14ہزار قرار دیتے ہیں۔ افغانوں کی سلامتی کو دیکھتے کو ٹرمپ کے اس دعوے کی وضاحت انتہائی ضروری ہے۔ چار جولائی کو امریکا کے قومی دن کی پریڈ کے موقع پر صدر ٹرمپ ذاتی نمود و نمائش میں پوری طرح الجھے دکھائی دیئے؛وہ جس مذاکراتی عمل کے ذریعے افغان بحران حل کرنا چاہتے ہیں، اس کی پیچیدگیاں ابھی تک انہوں نے سمجھنے کی کوشش نہیں کی۔ تنازعے کے حل کیلئے مذاکرات کا اصول ہے کہ یہ وقتی نہیں بلکہ دائمی امن کی راہ ہموار کرنے کیلئے کئے جاتے ہیں اور اس کیلئے اعتماد سازی کے علاوہ قربانیاں دینا پڑتی ہیں۔ ادھر افغان عوام جن کی تیسری نسل خانہ جنگی بھگت رہی ہے، انہیں اس کے خاتمے کی کوئی امید دکھائی نہیں دے رہی ۔
البتہ ایک امید کی ایک معمولی کی کرن انہیں اس وقت دکھائی دی ، جب جرمنی کی تعاون سے اتوارکو تمام افغان فریقین کے درمیان دوحہ میں دو روزہ امن کانفرنس ہوئی۔ طالبان اوّل روز سے اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ اشرف غنی حکومت کیساتھ مذاکرات کی تجویز مسترد کر چکے ہیں، وہ اس حکومت کو امریکی کٹھ پتلی قرار دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امن کانفرنس میں شریک افغان حکام نے ذاتی حیثیت میں شرکت کی، یوں کسی بہانے دونوں اہم فریقین کو ایک دوسرے کیساتھ بیٹھے کا موقع ملا۔ صرف بین الافغان مذاکرات ہی افغانستان کو بدترین انسانی بحران سے نکال سکتے ہیں۔ افغانستان کو تعلیم ، صحت، سلامتی، روزگار، تجارت، خواتین کے حقوق جیسے اہم کاموں پر توجہ دینی ہے ، جس کیلئے افغان  سرزمین سے تشدد کا خاتمہ ضروری ہے ، اور اسی صورت ممکن ہے کہ طالبان خون ریزی کے ذریعے ملک پر گر فت برقرار رکھنے سے گریز کریں ۔ یہ ممکن نہیں کہ ایک طرف طالبان بدترین تشدد کا سلسلہ جاری رکھیں تو دوسری جانب امن ایجنڈہ تشکیل دیں۔ ادھر امریکی مدد سے اشرف غنی حکومت کو ستمبر کے انتخابات سے قبل ملک پر کنٹرول بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ جرمنی کی خصوصی نمائندے کی یہ بات درست ہے کہ صرف افغان ہی اپنے ملک کے مستقبل کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔ اس لئے دوروزہ مذاکرات اہم موڑ ثابت ہو سکتے ہیں۔
کئی دہائیوں سے جاری خانہ جنگی، تشدد اور نقل مکانی کے نتیجے میں افغانستان ذہنی صحت کے سنگین بحران کی گرفت میں ہے؛ ادھر افغانیوں کی اکثریت کو نفسیاتی علاج کی سہولت میسر نہیں۔ علاوہ ازیں، سماجی اقدار بھی نفسیاتی علاج میں ایک بڑی رکاوٹ ہیں۔ انٹرنیشنل سائیکولاجیکل آرگنائزیشن کے مطابق 70فیصد سے زائد افغانیوں کو نفسیاتی علاج کے فوری ضرورت ہے، جس کا مطلب ہے کہ تین کروڑ 70لاکھ سے زائد افغانی سخت نفسیاتی مسائل سے دوچار ہیں، ان میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد بھی شامل ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق تین ہزار سے زائد افغانی ہر سال خودکشی کرتے ہیں، جن میں 80فیصد خواتین ہیں۔ افغان خواتین میں نفسیاتی مسائل کی بڑی وجہ کم عمری میں زبردستی شادی، تشدد ، عدم تحفظ سمیت مختلف معاشی مسائل ہیں۔ ادھر نفسیاتی علاج کی سہولتوں کی بات کی جائے تو بیس لاکھ آبادی کا شہر ہرات جوکہ ایرانی سرحد کے قریب واقع ہے، وہاں صرف 31رجسٹرڈ ماہرین نفسیات ہیں۔ اس صورتحال کو مزید پیچیدہ روزانہ کی خودکش حملے بنا رہے ہیں، گزشتہ سوموار کے خودکش حملے میں 34ہلاک جبکہ 100سے زائد زخمی ہوئے، جن میں نصف سے تعداد سکول کے بچوں کی تھی۔
(ترجمہ: ایم سعید۔۔۔ بشکریہ: دی نیشنل)