09 اپریل 2020
تازہ ترین

بخارا کی موجودہ حالت بخارا کی موجودہ حالت

(25 جنوری 1924ء کی تحریر)
غازی مرحوم کی شہادت کے بعد بولشویکوں کے مقاصد کا راستہ مشکلات سے بہت بڑی حد تک صاف ہو گیا اور انہیں بخارا میں نمایاں اقتدار حاصل ہو گیا۔ اقتدار حاصل کرتے ہی انہوں نے جبر و تشدد شروع کر دیا۔ اس وقت یہ حالت ہے کہ ہزاروں مصیبت زدہ ترکمان افغانستان میں پناہ گزین ہیں۔ کوشش کی گئی تھی کہ افغانستان سے امداد حاصل کی جائے لیکن یہ کوشش بے سود ثابت ہوئی اس لئے کہ اعلیٰ حضرت امیر غازی معاملاتِ بخارا میں عدم مداخلت کے طریق کار کو ترک کرنے پر رضامند نہیں ہیں۔
تحقیقی طور پر نہیں کہا جا سکتا کہ یہ واقعات کس حد تک اصلیت پر مبنی ہیں اس لئے کہ ہمارے پاس باہر سے جس قدر اطلاعات آئی ہیں وہ اس وقت تک پوری کی پوری قابل اعتماد نہیں ہو سکتیں جب تک کہ قابل اعتماد وسائل و ذرایع سے ان کی تصدیق نہ ہو جائے۔ متذکرہ صدر اقتباس کا ابتدائی حصہ بہت بڑی حد تک صحیح معلوم ہوتا ہے اس لئے کہ شہید ملت غازی انور پاشا کسی نہایت زبردست اور قوی وجہ کے بغیر بالشویکوں کے خلاف میدان جہاد میں نہیں اتر سکتے تھے۔ لیکن ہم اس بات کو تسلیم نہیں کر سکتے کہ اعلیٰ حضرت امیر غازی نے اہل بخارا کی امداد و اعانت نہیں فرمائی۔ افغانستان اور ترکستان کے تعلقات نہایت گہرے ہیں۔ ابھی کل کی بات ہے کہ جب انگریزوں نے واقعات ِ قتلِ سرحدکے پیش نظر افغانستان کو جنگ کی دھمکی دی تو تاشقند و ترکستان کی مساجد میں جلسے ہوئے، لوگوں نے مجموعی حیثیت سے افغانستان کے ساتھ گہری ہمدردی کا اظہار کیا، برطانیہ کے خلاف تقریریں کی گئیں۔ افغانستان کے سربرآوردہ جریدے امانِ افغانؔ نے ان معاملات کانہایت ولولہ انگیز انداز میں تذکرہ کر کے باشندگان ترکستان کا شکریہ ادا کیاہے۔ علاوہ ازیں اعلیٰ حضرت امیر غازی کے دلِ حق آگاہ میں اسلام کی محبت و شیفتگی کا جو عدیم النظیر جذبہ موجود ہے اس کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک لحظہ کیلئے بھی یقین نہیں کیا جا سکتا کہ وہ ہزارہا ترکمانوں کو بے وطن اور تباہ حال پھرتے ہوئے دیکھنے کے باوجود ان کی مناسب امداد و اعانت میں تامل فرمائیں گے۔ اور کچھ نہ ہوتا تو افغانستان سیاسی گفت و شنید کے ذریعہ بولشویکوں کو انتہائی جبر و تشدد سے روکنے میں تو قطعاً دریغ نہ کرتا۔ بہرحال اصل حالات کے متعلق قطعی طور پر کوئی رائے پیش نہیں کی جا سکتی۔ بولشویکوں نے اب تک اسلامی مقاصد کے ساتھ گہری ہمدردی کا اظہار اور دشمنان اسلام کے ساتھ انتہائی دشمنی کی بدولت عالم اسلام کے دل میں خاصی جگہ حاصل کر لی ہے۔اگر اب وہ بخارا یا کسی دوسری اسلامی ریاست کے ساتھ بدسلوکی کریں گے تو ہر مسلمان ان سے بھی اسی حیثیت سے نفرت کرنے لگے گا جس طرح کہ دوسرے یورپی ہوسناکوں سے کرتا ہے۔ امید واثق ہے کہ جراید افغانستان علیٰ الخصوص معزز و محترم معاصر امانِ افغانؔ بخارا کی موجودہ حالت سے مسلمانان ہند کو آگاہ کرنے کی تکلیف گوارا کریں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قومی میثاق
قومی میثاق کے متعلق ہم قبل ازیں بہت کافی مواد شایع کر چکے ہیں۔ اس مقصد کیلئے فروری میں پنجاب کے ہندوئوں، مسلمانوں او رسکھوں کی مجالس مشورت منعقد ہونے والی ہے۔ علاوہ ازیں آل انڈیا کانگرس کمیٹی نے قومی میثاق کی ترتیب کیلئے جو مجلس ماتحت مقرر کی ہے اسے بھی میثاق کے متعلق ملک کے خیالات و آرا سے واقفیت حاصل کرنی ضروری ہے تاکہ وہ آل انڈیا کانگرس کمیٹی کے روبرو روداد پیش کر سکے اس لئے نہایت ضروری ہے کہ ملک کے تمام درد مند، ذی مرتبہ، ذی علم اور اہل الرائے قومی میثاق کے متعلق اپنے خیالات ظاہر فرمائیں۔(جاری ہے)