15 ستمبر 2019
تازہ ترین

’’بجٹ کی بین‘‘ ’’بجٹ کی بین‘‘

ہر سال جون کے مہینے میں آموں کی ’’آمد‘‘ کے ساتھ حکومت کی طرف سے عوام کو ایک گراں قدر اور گرما گرم تحفہ دیا جاتا ہے اور وہ ہے بجٹ کی بین۔۔۔۔۔ بجٹ کی اہمیت کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ اس کے آتے ہی کسی کو غصہ آتا ہے، کسی کو پسینہ، کسی کو پیسہ اور کسی کو پیار … بجٹ سے اگر ’’ب ‘‘نکال دی جائے تو آگے صرف جٹ رہ جاتا ہے اور اگر ضرورت پڑنے پر بجٹ سے جیم نکال دی جائے پیچھے بٹ رہ جاتا ہے اور اگر ان دونوںکا بجٹ ختم کرکے ـ’ٹ‘ نکال دی جائے توان میں سے ایک ضرور’’ بج‘‘ جاتا ہے ۔دنیا کے باقی ملکوں میں بجٹ آتا ہے تو کسی کو پتا بھی نہیں لگتا مگر ہمارا بجٹ تو جیسے ہالی وُڈ سے ریلیز ہوتا ہے اور ہمارے ہمسایہ کو بٹ جٹ پڑ جاتے ہیں۔۔۔ان دو قابل احترام خاندانوں کی وجہ سے ہی بجٹ کا وقار پاکستان میں بہت بلند اور پھل پھول کر نشوونما حاصل کر رہا ہے۔ پاکستان کا بجٹ اگر دسمبر میں پیش کیا جائے تو بھی گرما گرم ہی رہے گا، لہٰذا اُسے سردیوں میں پیش کرنے میں ویسے بھی سیاسی سرد مہری کا خطرہ ہو سکتا ہے۔
 کئی لوگ یہ الزام بھی لگاتے ہیں کہ ہمارا بجٹ اُس ملک سے بن کر آتا ہے جہاں پر کثرت سے F-16 بنتے ہیں اورجس کی آواز اور رفتار کا اندازہ آپ کو بہت اچھی طرح ہے۔ ہاں اگر ہمیں کسی وجہ سے یہ طیارے نہ مل سکیں تو اس کے بدلے میں گندم ضرور مل جاتی ہے، ظاہر ہے طیاروں کا نعم البدل گندم سے اچھا اور کیا ہو سکتا ہے…ہمیں یہ’’ پائے دار‘‘ طیارے ملیں نہ ملیں لیکن خسارے دار بجٹ ضرور مل جاتا ہے، حالانکہ امریکا کی ہر چیز معیاری ہے، اس کی کاروں کے انجن دنیا میں بڑی سیاسی قوتوں کے تحت بنوائے جاتے ہیں لیکن ہمارا بجٹ پیش کرنے کے چند روز بعد ہی اس کا انجن دھواں مارنا شروع کر دیتا ہے… میرا دوست غلام دیوان پراچہ جسے ہم پیار سے GDP بھی کہہ لیتے ہیں کہتا ہے کہ جس طرح بجٹ میں صوبوں کو تناسب یا سالانہ مالیاتی ایوارڈ کے حساب سے حصہ ملتا ہے اسی میں سے کچھ حصہ کاٹ کر دریاؤں کے کناروں کی خوبصورتی اور شجر کاری پر وفاق خود خرچ کرے تاکہ کچھ دریائی کھڑاک بھی ہو سکے…
یہ جونی بجٹ اپنی گرما گرمی کی وجہ سے ہمیشہ عوام میں مقبول رہا ہے۔ بجٹ کو اردو میں میزانیہ کہا جاتا ہے۔ ہمارا کوئی نہ کوئی کریکٹر ایکٹر وزیر خزانہ پسینے سے شرابور جب اس ’’بجٹ کی آخیر‘‘ کو سرکٹ کے تمام سنیماؤں میں ڈرامائی طور پر پیش کرنے کے لیے آتا ہے تو محسوس ہو رہا ہوتا ہے کہ جٹ۔ بج رہا ہے یا ’’ب۔ جٹ دا کھڑاک‘‘ ہونے کو ہے۔ بہرحال جیسا ہمارے وزیر کا بنایا ہوا بجٹ ہو گا ویسا ہی نتیجہ ہو گا یعنی جیسا لوہار، ویسا ہتھیار۔۔۔ پہلے ادوار میں لوگ بجٹ کی تقریر کا نئی فلم کی طرح مزالیا کرتے تھے اور بڑے اہتمام کے ساتھ اس کے زیروبم کا جائزہ لیا کرتے تھے۔ آج کل اس فلم کو فلاپ ہی دیکھا ہے ۔۔۔کچھ عشروں پہلے خزانہ کے سرکٹ میں ’’محبوب دا میزانیہ‘‘ بہت مقبول ہوا کرتی تھی۔ اس کے کچھ عرصہ بعد مالیاتی سکرین پر ’’پراچہ دیوانہ‘‘ بھی بہت ہٹ گئی اور چلتے چلتے ایک عرصے بعد ’’ڈار  دا  وار‘‘ بھی بہت کاری رہا۔ محمد یعقوب نے بھی بڑے اہتمام سے ’’آرائیں دا کھڑاک‘‘ کرنے کے بعد ’’آرائیں دا فرار‘‘ بھی سارے سرکٹ میں کامیاب کرادی تھی… بیچ میں ایک امپورٹڈ وزیر نے بجٹ کی شان و شوکت کو بھی ماند کیا۔۔۔۔ 
میرے خیال میں اگر یہ تقریر ایک آرڈیننس کے ذریعے حمیرا ارشد کی آواز میں منظوم و مترنم لہجے میں گانے کی صورت میں پیش کی جائے تو لوگوں کی دلچسپی از سرنوبرقرار ہو سکتی ہے۔ لوگ ایسی بجٹ تقریر کو سننے کے بجائے دیکھنے پر بھی اصرار کریں گے بلکہ لاگو ہونے والے ہرٹیکس کے ساتھ مکرر مکرر کی آوازیں بھی سننے کو ملیں گی، اس دوران اگر سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں کٹوتی کی کوئی تجویز بھی رکھی جائے گی تو اس صورت میں بھی سبحان اللہ، سبحان اللہ کی آوازیں گونجیں گی…جی ہاں اگر بجٹ گلوکار غلام علی کو پیش کرنے کو دے دیا جائے تو وہ اگلا بجٹ آنے سے ایک روز پہلے تک پچھلے بجٹ پر ہی گلکاری اور لے کاری کرتے ہوئے ملیں گے اور اگلی استھائی میںابھی موٹرکاروں پر ڈیوٹی میں چھوٹ کی وعید ابھی باقی ہو گی۔اگر یہ بجٹ عارف لوہار پیش کرے گا تو اس کی کوشش ہو گی کہ کم از کم لوہے کے چمٹے پر ڈیوٹی نہ لگے، اگر حکومت اس کے اصرار کے باوجود ڈیوٹی لگانے کی کارروائی کرنے لگے تو ہو سکتاہے چمٹے پرکالی پٹی باندھ کرچھٹے کالے سے شروع کرے گا…اور اگر یہی بجٹ ابرار الحق کو پیش کرنا پڑ جائے تو کچھ لوگوں کو یہ خطرہ محسوس ہو سکتا ہے کہ بلو کے گھر جانے پر کتنا GST لگ سکتا ہے؟ کہا جائے گا ہزاروںارب کے ریکارڈ توڑ بجٹ کے متلاشی ادھر لائن بنائیں!عوامی اُمنگوں کے بجائے ٹانگوں سے بجٹ پیش کرنے کا سرکاری سطح پر یہ پہلا تجربہ ہو گا اور لوگ گرانی اور محصولات میں اضافے کو بھی رقص کرتے ہوئے قبول کریں گے۔ وزیر خزانہ کا صرف یہ کام ہو گا کہ وہ ہاتھ میں ایک ڈنڈا پکڑے موسیقار کا روپ دھار چکے ہوں گے…
بہ احوال دیگر ایک ’’متوا زن‘‘ بجٹ صرف عورت ذات ہی پیش کر سکتی ہے وہ اس لیے کہ اس کی اپنی کوئی خاندانی ذات نہیں ہوتی اور وہ عدل گستری کی طرف زیادہ ’’گام۔ زن‘‘ ہوتی ہے اور ہو سکتا ہے وہ کم از کم میک اپ کے سامان سے ڈیوٹی اٹھا لے۔جیسے زنانہ پولیس کے ہاتھ میں سٹک اور ہونٹوں میں لپ سٹک ضرور ہوتی ہے۔ چنانچہ اگرزنانہ وزیر خزانہ نے بھی حقوق زنانہ کے لیے کوئی کام نہ کیا ہو تو پھر وہ اس ناکام طرز عمل کی وجہ سے زنانہ حقوق پر نقب زن بھی ہو سکے گی…اگرسالانہ بجٹ میں میں کچھ ٹیکس چیخوں پر بھی لگا دیے جائیں تو مزید ٹیکس کی ضرورت ہی نہ پڑے۔۔ ایک بات اہمیت کی حامل ہے کہ جب اشیاء کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگ جائیں تو انسانیت خاموش ہو جاتی ہے۔بجٹ کی یہ مشقیں سال ’’آہ‘‘ سال سے جاری ہیںاور مہنگائی کا یہ سانپ 
قوم کے قریب سے نکل بھاگتا ہے اور ہم لکیر پیٹتے رہ جاتے ہیں۔
حکومتیں قوم کو چادر کے مطابق پائوں پھیلانے کا مشورہ تو دیتی رہتی ہیں لیکن ہر بجٹ میں ان کے اپنے خسارے کے پائوں چادر سے عریاں نظر آتے ہیں۔ میں تمام جملہ ارباب اختیار سے یہ اپیل کرتا ہوں کہ وہ کبھی کبھی خود کو غمناک بھی کیا کریں۔ اگر ان کے دل واقعی اس قوم کے لیے دھڑکتے ہیں تو ان کے لیے رونے دھونے کا ایک آسان سا نسخہ پیش کرتا ہوںجس کا تجربہ میں خود کر چکا ہوں۔ وہ یہ ہے کہ آج ہی کسی محلے کی چھوٹی پرچون کی دوکان پر بھیس بدل کر کھڑے ہو جائیں۔ چند لمحوں کے بعد وہ کسی بچے یا بچی کو اس دوکان پر آتا دیکھیں گے… بچی آ کر دوکان دار سے کہے گی مجھے بیس روپے کا آٹا،دس ر وپے کی چائے کی پتی، دس روپے کا گھی، پانچ روپے کی چینی، پندرہ روپے کی چنے کی دال اور دو انڈے دے دیں (یہ تقریباً اسی روپے کی اشیاء بنیں گی) اتنے میں دوکان دار کو کل والا حساب بھی یاد آ جائے گا۔ وہ بچی کو سخت لہجے میں پوچھے گا کہ ’’کل والے تیس روپے تمہارا باپ دیگا؟‘‘ یہ سن کر بچی  بغیر سودا لئے الٹے قدموں گھر واپسی کا رخ اختیار کرے گی۔ دریں اثناء آپ کے پہلو میں اگر بائی پاس والا دل بھی ہے تو وہ ہمارے ملک کی نظر نہ آنے والی غربت پر ضرور آنسو گرائے گا …اللہ ہمیں غرباء کا دکھ کا دارو بننے کی توفیق دے۔
بقیہ: باریکیاں