بجٹ دھماکہ بجٹ دھماکہ

’’بجٹ دھماکہ ‘‘ہونے کو ہے۔ مہنگائی،بے روزگاری اور معاشی بحران میں مبتلا قوم گھبراہٹ اور پریشانی کا شکار ہے کہ ’’چڑی ‘‘رپورٹ میں جو کچھ کانوں تک پہنچا ہے، اس میں کچھ اچھا نہیں عام آدمی کے لیے،پریشانی کی بات یہ ہے کہ دھماکے کی پیشگی اطلاع کے باوجود کوئی بھی کسی بھی محفوظ مقام تک نہیں پہنچ سکتا۔پاکستان اور اس میں بسنے والے مختلف نوعیت کے دھماکوں میں مالی و جانی قربانیاں دینے کے عادی ہیں، اس لیے کہ انہیں اس دھرتی سے پیار ہے، یوں ہر سال اچھائی اور روشن مستقبل کے خواب دیکھتے ہوئے بجٹ دھماکے کو بھی برداشت کر لیتے ہیں، لیکن ہمیشہ خواب ادھورے ہی رہ جاتے ہیں اور ذہن میں یہ سوال ابھرتا ہے، کیوں ؟یہ کیوں ہر اپوزیشن حکومت سے پوچھتی ہے اور حکومت ہر سال اپنی اور اتحادیوں کی اکثریت رائے سے اپوزیشن کے کیوں کو نہیں سنتی، حالانکہ یہ کیوں خالصتاً پاکستانیوں کا حقیقی سوال ہوتا ہے۔
 ہر سال ایوان میں بجٹ تماشا حکومتی منصوبہ بندی میں پیش کیا جاتا ہے، ہر وزیر خزانہ کو حکومتی ہدایت کے مطابق ایک سانس میں لکھی لکھائی بجٹ تحریر پڑھنی پڑتی ہے جس کا اسے کچھ پتا نہیں ہوتا ۔اس موقع پر اپوزیشن کا فرض اولین ہے کہ وہ اختلاف کرتے ہوئے تنقید کرے اور جب اس کی کسی بات کا جواب نہیں ملتا تو وہ ہنگامہ آرائی اپنا حق جانتی ہے۔ اس صورت حال میں ایوان ’’مچھلی منڈی ‘‘بن جاتا ہے، کسی کو کسی کی سمجھ نہیں آتی لیکن وزیر خزانہ اگر کم ہمت ہو تو دوران تقریر ورنہ اپنی تقریر کے بعد فتح یابی پر ایک گلاس نہیں ،کئی گلاس پانی پی کر حکومتی ارکان سے مبارک باد وصول کرتا ہے جبکہ اپوزیشن بسا اوقات بجٹ کی کاپیاں پھاڑ کر اپنا غصہ ٹھنڈا کرتی ہے۔ بجٹ بحث کا آغاز روایتی انداز میں قائد حزب اختلاف کرتا ہے، لہٰذا وہ بجٹ کا پوسٹ مارٹم کرتے ہوئے اپنی تقریر میں ہر لحاظ اور پہلو سے بات کرکے وسائل اور مسائل کی طرف توجہ مرکوز کرانے کی کوشش کرتا ہے۔ اس مرتبہ یہ ذمے داری شہباز شریف نبھائیں گے او رحکومتی ارکان شور مچائیں گے۔
 ایسی صورت حال میں اپوزیشن واک آؤٹ، احتجاج اور دھرنے کی راہ اپناتی ہے اور حکومتی کام آسان ہوجاتاہے یعنی اپوزیشن کی غیر موجودگی میں ’’بجٹ‘‘باآسانی منظور ہوجاتا ہے۔ اپوزیشن کئی ماہ بجٹ کو خسارے،غریب دشمن اور الفاظ کا گورکھ دھندا قرار دے کر تنقید کے پہاڑ کھڑے کرنے کی کوشش کرتی ہے لیکن حاصل کچھ نہیں ہوتا کہ جمہوریت کی حقیقی طاقت اکثریت ہے، لہٰذا اکثریت اقلیت پر غالب آجاتی ہے۔ ہر حکومت اپنی سوچ وعمل اور حالات کار کو مد نظر رکھتے ہوئے خسارے کا بجٹ پیش کرتی ہے اور اس کا دعویٰ بھی عوام دوستی کا ہوتا ہے۔ اس لیے عوام بھی روتے دھوتے خاموش ہو جاتے ہیں، ان کا دکھ کچھ اور ہے، حکومت کی ترجیح کچھ اور ۔مہنگائی ،بے روزگاری اور وسائل کی کمی سے نمٹنے کے لیے ہر حکومت مزدور کی بنیادی تنخواہ بھی مقرر کرتی ہے لیکن جب سے یہ سلسلہ شروع ہوا تب سے اس کی لازمی ادائیگی کے احکامات صرف کاغذات میں ہی دفن ہو جاتے ہیں اور مالکان اپنی من مانی کے لیے مختلف طریقے ڈھونڈ لیتے ہیں جس میں ڈائریکٹ بھرتی کے بجائے ٹھیکیداری نظام اور وقتی کنٹریکٹ سسٹم سے کام چلایا جا تا ہے۔ ہر حکومت اپنے احکامات کی موجودگی میں بھی بنیادی تنخواہ کی ادائیگی کے سلسلے میںکچھ نہیں کرتی ،بس کیوں کا حقیقی جواب یہی ہے کہ صاحب اقتدار کہتے کچھ اور، کرتے کچھ اورہیں لہٰذا خواب ادھورے نہیں رہیں گے تو اور کیا ہوگا ؟
عمرانی حکومت نے’’ معیشت دوست‘‘ کے نام پر بجٹ بنوایا ہے جس کے لیے عالمی شہرت یافتہ ماہرین اقتصادیات کی خدمات بھی حاصل کی گئی ہیں۔ حکومت نے حکومتی اور غیر حکومتی حلقوں میں تنقید کے باوجود منتخب اور پارٹی وفاداروں کے مقابلے میں غیر منتخب لوگوں کو ترجیح دے کر اہم عہدوں پر فائز بھی کر دیا لیکن معاملہ اس لیے سنگین ہوتا محسوس ہو رہا ہے کہ درآمد شدہ ماہرین نے اپنے اہداف کے لیے ایسے فیصلے کیے جن سے پریشانیاں مزید بڑھ گئیں۔ ’’ان ڈائریکٹ ‘‘ ٹیکسوں میں مزید اضافہ کیا جائے گا جبکہ پوری قوم گندم ،چینی چاول کے دانے دانے سے لے کر روٹی، کپڑا اور مکان تک کسی نہ کسی صورت میں ٹیکس دے رہی ہے پھر بھی نئے ٹیکسوں کی دھمکی اور صرف پانچ لاکھ روپے بینک میں رکھنے والوں کی ’’تلاشی ‘‘مالی سال 2019-20کا ایک بڑا دھماکہ ہے۔ پاکستان ایک قابل فخر زرعی ملک تھا، اس کا گندم، چاول، کپاس اور گنے کے میدانوں میں بڑے بڑے ممالک مقابلہ نہیں کر سکتے تھے لیکن اب معاملات یکسر بدل چکے ہیں، حکومتی پالیسوں نے ماضی ،حال اور 
مستقبل کے لیے آسانیاں پیدا کرنے کے بجائے مشکلات پیدا کیں ۔موجودہ ماہرین اقتصادیات چونکہ درآمد شدہ ہیں، اس لیے انہیں نہیں پتا کہ گنے کی فصل اور شوگر ملز کی پیداوار کتنی ہے۔ انہوں نے چینی درآمدی پر سبسڈی نہ دینے کا حکم صادر فرما دیا ہے، جو اب میں شوگر ملز مالکان نے چینی درآمد نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ کون بتائے، نقصان کس کا ہوگا ؟
حقیقت یہ ہے کہ گذشتہ دو برس میں قریباً آٹھ ارب روپے کی سبسڈی ادا کی گئی ہے جو کوئی معمولی رقم نہیں، اسی طرح گندم خریداری پر گذشتہ 9برسوں میں صرف ’’مارک اپ ‘‘کھربوں روپے تک پہنچ چکا ہے۔ حکومتوں نے گندم بیج پر سبسڈی دی مگر مارک اپ کا ایک پیسہ ادا نہیں کیا، 2018ء میں گندم خریداری پر واجب الاد ا مارک اپ چار کھرب 44ارب ہو چکا ہے۔دلچسپ بات یہ کہ ماضی میں جب پیپلز پارٹی کی حکومت نے اپنے اقتدار کو بچانے کے لیے نوازشات کیں تو آل شریف اور دیگر سرمایہ داروں نے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے شوگر ملز لگائیں اور کپاس کی جگہ گنے کی فصل کھڑی کردی، یعنی مفادات ایک مرتبہ پھر غالب رہے۔کسانوں کے لیے ہر حکومت نے منصوبہ بندی کی، موجودہ حکومت بھی اس میں شامل ہے لیکن وہ سہولتیں اور مراعات نہیں مل سکیں جن کی ضرورت تھی۔ اب گنے کی کاشت سے زمین اس قابل نہیں رہی کہ اس پر دوبارہ کپاس اُگائی جاسکے اور یہ راز یقیناً درآمد شدہ ماہرین اقتصادیات کو پتا نہیں ہوگا ۔
وطن عزیز کا ہر فرددھرتی کی حفاظت کے لیے جان و مال کی قربانی دینے کو تیار ہے لیکن وہ ضروریات زندگی 
میں ایسی رعایت چاہتا ہے کہ اس کی گزر بسر ہوسکے۔ سگریٹ پر خصوصی ٹیکس لگایا گیا تو کوئی نہیں بولا لیکن عام آدمی کو جینے کا حق صرف اسی صورت میں ملے گا جب بنیادی تنخواہ 25سے 30ہزار اور لازمی ادائیگی پر عمل کرایا جائے ۔روزمرہ کی ضروریات آٹا ،دال ،گھی ،چینی سستی ہوگی، جب سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں مہنگائی کے تناسب سے اضافہ ہوگا،احتساب کے دور میں اربوں اور کھربوں کا نقصان کرنے والوں کا یوم حساب ایسا ہو کہ قومی خزانے کی دولت واپس آئے۔پانچ لاکھ کا اکاؤنٹ رکھنے والوں کی تلاشی سے کچھ نہیں بنے گا، البتہ حکومت سے نفرت ضرور پیدا ہو گی کیونکہ بڑے مگرمچھ تمام وارداتوںکے باوجود دندناتے پھر رہے ہیں۔ کون جانے پچاس لاکھ گھر کب بنیں گے، کس کو نصیب ہوںگے قوم کا آشیانہ ہی لٹ چکا ہے۔معاشی بحران سے نکلتے دکھائی نہیں دے رہے تو ایک کروڑ ملازمتیںکہاں سے ملیں گی؟قربانی قوم سے مانگی جا رہی ہے جبکہ اس کی کمر تو مہنگائی اور بے روزگاری نے توڑ دی ہے۔ ’’اشرافیہ ‘‘لوٹ مار کرکے بھی اپنا مال و زر محفوظ مقام تک پہنچانے میں کامیاب ہو چکا ہے قومی لٹیرے ہضم کرکے بھی ایک روپے کی کرپشن تسلیم کرنے کو تیار نہیںجبکہ موجودہ بجٹ میں بھی عام آدمی کی پریشانی کم ہوتی دکھائی نہیں دے رہی جبکہ صاحب ثروت ٹیکس کی پیچیدگی میں پھنسنے کے بجائے مک مکا کا رائج الوقت فارمولا اپنالیتے ہیں،لہٰذا شبر زیدی کے اہداف کے اہداف کیسے پورے ہوں گے جسے معاملات کی سنجیدگی پر شک ہے وہ اقتصادی سروے ملاحظہ کرے ۔
 پی ٹی آئی حکومت کی پہلے سال کی کارکردگی۔کوئی معاشی ہدف بھی حاصل نہ ہو سکا۔۔۔ فی کس آمدن، سرمایہ کاری، بچتوں اور مہنگائی سمیت کوئی ہدف بھی حاصل نہ ہو سکا۔ڈالر کی قدر میں غیر معمولی اضافے سے فی کس آمدنی میں 136ڈالر کی کمی ہوئی۔۔بجٹ 2018-19  کے اقتصادی سروے کے مطابق موجودہ حکومت پہلے سال کوئی معاشی ہدف حاصل نہ کرسکی۔۔  فی کس آمدن 1652 ڈالر سے کم ہو کر 1516 تک پہنچ گئی۔۔۔۔ روپے میں فی کس آمدن ایک لاکھ 81 ہزار روپے سے بڑھ کر دو لاکھ چھ ہزار روپے تک پہنچ گئی۔اقتصادی سروے کے مطابق ملکی معیشت کا حجم 313 ارب ڈالر سے کم ہو کر 291 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔۔۔ جی ڈی پی میں سرمایہ کاری کا تناسب 17.2فیصد کے برعکس  15.4 فیصد۔۔ نجی شعبے میں سرمایہ کاری کا تناسب 10.8فیصد ہدف کیبرعکس 9.8 فیصد۔۔۔۔ سرکاری شعبے میں سرمایہ کاری 4.8فیصد ہدف کے برعکس 4 فیصد۔۔ اور  فکس انویسٹمنٹ 15.6فیصد ہدف کے برعکس 13.8فیصد رہا، اس سروے کے مطابق جی ڈی پی میں بچتوں کا تناسب 13.1 فیصد ہدف کے برعکس 11.1 فیصد رہا۔۔۔ رواں مالی سال کے دوران مہنگائی6فیصد ہدف کے برعکس 7.5 فیصد رہی۔ رواں مالی سال کے دوران نو ماہ میں ترسیلات زر میں 8.7 فیصد ہی اضافہ ہو سکا۔۔ جی ڈی پی میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا تناسب نو ماہ5.7 فیصد سے کم ہو کر  4.4 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ رواں مالی سال کے نو ماہ میں تجارتی خسارہ 21.3ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔اس دوران برآمدات 18 ارب ڈالر اور درآمدات 39.3 ارب ڈالر رہیں پھر بھی وزیر اعظم فرماتے ہیں گھبرائیںنہیں،روشن مستقبل کے لیے قربانیاںدینی پڑتی ہیں۔