24 اگست 2019
تازہ ترین

بحران کا حل کہاں ہے؟ بحران کا حل کہاں ہے؟

ٹیپو سلطان ہندوستان میں مسلمانوں کا وہ حکمران ہے جس کی شہادت کے ساتھ ہی انگریزوں نے یہ اعلان کیا تھا کہ آج کے بعد ہندوستان ہمارا ہے۔ ٹیپو سلطان کو اپنی ریاست پر اقتدار برقرار رکھنے کے لیے کئی محاذوں پر جنگ لڑنا پڑی۔ اگر ایک طرف اسے انگریز اور فرانسیسی غیر ملکیوں کی سازشوں کا سامنا تھا تو ہندوستان میں مرہٹوں اور نظام کی طرف سے ہونے والی مسلسل سازشیں اور ریشہ دوانیاں اس کے لیے مشکلات پیدا کر رہی تھیں۔ اگرچہ سلطان انگریزوں کی نسبت فرانسیسیوں پر زیادہ اعتماد کرتا تھا لیکن پھر بھی دوسری اینگلو میسور جنگ کے دوران فرانسیسیوں نے جس طرح کے طرز عمل کا مظاہرہ کیا اس سے ٹیپو سلطان کے دل میں ان کے بارے میں تلخی پیدا ہوئی اور وہ انہیں جھوٹا اور دغاباز کہنے لگا۔ کیونکہ انگریزوں کے ساتھ اس جنگ کے دوران وعدوں کے باوجود فرانسیسیوں نے سلطان کی مدد نہ کی۔ بلکہ آخر میں فرانسیسیوں نے اطلاع دیے بغیر انگریزوں سے ایک علیحدہ صلح نامہ کر کے اس سے دھوکا بھی کیا۔ اس کے باوجود ٹیپو سلطان انگریزوں کی نسبت فرانسیسیوں کے لیے نرم گوشہ رکھتا تھا اور ان کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے رضامند رہا۔ جبکہ فرانسیسی نمائندے جب بھی سلطان سے رابطے کرتے تو اس کا مقصد ٹیپو سلطان کی حمایت یا تقویت اور اس کے مخالفین یعنی نظام اور مرہٹوں کو کمزور کرنا نہیں ہوتا تھا بلکہ وہ تمام ہندوستانی حکمرانوں سے تعلقات قائم کر کے یہ کوشش کرتے تھے ہندوستان کی مختلف ریاستوں کے حکمران آپس میں لڑنے کے بجائے ان کی قیادت میں متحد ہو کر انگریزوں کے خلاف ایک متحدہ محاذ قائم کریں تاکہ انگریزوں کے بجائے ہندوستان پر فرانسیسیوں کا اقتدار قائم ہو سکے۔
تاریخ گواہ ہے کہ ہر دور میں دنیا کے مختلف ممالک اپنے مفادات کے مطابق ہی اپنے عالمی تعلقات کی نوعیت طے کرتے رہے ہیں جبکہ اس تاریخی حقیقت کے بالکل برعکس کمزور ممالک اپنی معاشی سماجی و معاشرتی یا سیاسی و عسکری کمزوری کے تحت زمینی حقائق پر سمجھوتا کر کے جب بھی بیرونی طاقتوں سے کوئی معاملہ طے کرتے رہے ہیں تو اس کا نتیجہ ان کے ملکی مفاد کے حق میں کم ہی نکلا ہے۔ اس کی بڑی واضح اور نمایاں مثال ٹیپو سلطان کی شخصیت اور جدوجہد ہے۔ ٹیپو سلطان نے ہندوستان میں اپنے مخالفین کا مقابلہ کرنے کے لیے غیر ملکی طاقتوں میں سے فرانسیسیوں کا انتخاب کیا اور انہیں کی طرح کی سہولتیں دیں۔ جب بیرونی دنیا سے رابطہ کرنے کے لیے سلطان نے اپنے سفیر بیرونی ممالک بھیجے تو خلافت عثمانیہ کے بعد جس حکمران سے رابطہ کرنے کے لیے سلطان نے اپنے سفارتی مشن کو ہدایت کی وہ فرانس کا شاہ لوئی شانز دہم تھا۔ لیکن اگر ہم اسی دور میں فرانسیسیوں کے نقطہ نظر اور حکمت عملی کو دیکھیں تو ایک مختلف تصویر سامنے آتی ہے۔ فرانس کے نمائندے دی سوئی لیک کی دستاویزات سے پتا چلتا ہے کہ اس 
نے اپنے ایک خط میں لکھا تھا کہ مرہٹے اور نظام ٹیپو کو نیست و نابود کرنے کے لیے متحد ہو گئے ہیں مگر یہ منصوبہ انگریزوں کے لیے فائدہ مند ہے۔ میں نے اس سازش کو توڑنے کے لیے کوشش کی ہے اور اب بھی کر رہا ہوں۔ اس کے ساتھ یہ کوشش بھی کر رہا ہوں کہ یہ تینوں ہندوستانی حکمران انگریزوں کے خلاف متحد ہو جائیں۔ یہ کام میں اس طرح کر رہا ہوں کہ اس سے ہمارے مفاد کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔
ٹیپو سلطان نے جو سفیر فرانس بھیجے تھے انہیں یہ ذمہ داری سونپی گئی تھی کہ وہ شاہ فرانس لوئی شانز دہم کو اطلاع دیں کہ انگریزوں نے کس طرح ہندوستان میں مستقل طور پر اپنی حکومت قائم کر لی ہے اور وہ مقامی آبادیوں پر کتنے مظالم ڈھا رہے ہیں۔ سفیروں کو یہ بھی ہدایت کی گئی تھی کہ وہ دوسری اینگلو میسور جنگ کی روداد بھی شاہ فرانس کو سنائیں اس میں فرانسیسیوں نے وعدوں کے برخلاف قابل اعتراض کردار ادا کیا تھا۔ اگر وہ ٹیپو سلطان کا ساتھ نہ چھوڑتے تو ریاست میسور کو انگریزوں پر مکمل فتح حاصل ہو جاتی اور وہ ملک بدر کر دیے جاتے۔ یہ بھی شاہ فرانس کو بتانا مقصود تھا کہ ٹیپو سلطان اور اس کے باپ حیدر علی نے فرانسیسیوں کے لیے بہت قربانیاں دی ہیں لیکن فرانسیسیوں نے انتہائی نازک موقع پر اس کے ساتھ غداری کی۔
جب ٹیپو سلطان کے سفیر شاہ فرانس کے دربار میں آئے تو دربار اعیان مملکت سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ اگرچہ ولی عہد علالت کی وجہ سے دربار میں شریک نہیں ہوا تھا لیکن ملکہ تخت شاہی کے ساتھ اپنی مخصوص نشست گاہ پر موجود تھی۔ ٹیپو سلطان کے سفیروں کو ملکہ کی طرف دیکھنے کی اجازت تھی اور نہ ہی اسے سلام کرنے کی۔ جب تینوں سفیر پُروقار انداز سے بادشاہ کے سامنے حاضر ہوئے تو ان کے قائد درویش خان نے بادشاہ کی خدمت میں ٹیپو سلطان کے دیے تحائف پیش کیے۔ درویش خان نے سپاسنامہ پیش کیا جس کا انگریزی زبان میں ترجمہ کیا گیا۔ سپاس نامے میں انگریزوں کی ظلم و ستم کا تذکرہ اور فرانسیسی حکام کی غلطیوں اور بدعہدیوں کی تفصیل بھی تھی۔ یہ شکایت بھی تھی کہ فرانسیسی حکام نے ٹیپو سلطان کو اطلاع دیے بغیر انگریزوں سے صلح کی اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ٹیپو سلطان کو تنہا جنگ جاری رکھنا پڑی۔ لیکن اس ساری سفارت کا نتیجہ یہ نکلا کہ اس وقت ہندوستان میں شاہ فرانس کے نمائندوں نے اسے یہ مشورہ دیا کہ چونکہ انگریزوں کے وسائل زیادہ ہیں اور ہندوستان میں انہیں فوجی برتری حاصل ہو چکی ہے، لہٰذا اب وہاں فرانسیسی اثر و رسوخ دوبارہ قائم نہیں ہو سکتا اور نہ ہی انگریزوں کے خلاف ہندوستانی حکمرانوں کو متحد کیا جا سکتا ہے۔ لہٰذا فرانسیسی فوجوں کو ہندوستان سے واپس بلا لیا جائے اور صرف جزیرہ فرانس میں رکھا جائے کیونکہ اس فیصلے سے فرانس مشرق میں اپنا اثر و رسوخ قائم رکھ سکتا تھا۔ اس فرانسیسی پالیسی کے تحت فرانسیسی حکومت نے ٹیپو کے سفیروں سے انگریزوں کے مفادات کے خلاف کوئی گفتگو نہیں کی اور سوائے زبانی جمع خرچ کے کسی نوعیت کی کوئی امداد سلطان کو فراہم نہیں کی۔ داخلی سطح پر ہندوستان میں سلطان کے حلیف پہلے ہی کم تھے جو نتیجہ ہوا وہ تاریخ کا حصہ ہے۔
دور جدید میں جنگ کا انداز بدل چکا ہے۔ آج عالمی طاقتیں نظام تعلیم، اطلاعات اور معیشت کے ذریعے سے دوسرے ممالک پر اپنی گرفت مضبوط کرتی ہیں۔ پاکستان اپنی تاریخ کے بدترین معاشی بحران سے گزر رہا ہے۔ عالمی معاشی اداروں کے ساتھ پاکستان اپنے معاملات جس طرح طے کر رہا 
ہے باشعور اور محب وطن حلقے اس پر سخت پریشان اور تشویش میں ہیں۔ کیونکہ عالمی اداروں سے ہونے والے یہ معاملے اور معاہدے عوام کو کوئی ریلیف، ملکی معیشت کو استحکام یا جاری معاشی بحران سے نکلنے کی کوئی ضمانت نہیں دے رہے۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ان معاہدوں سے مہنگائی بڑھے گی، ٹیکسوں اور عام آدمی کی پریشانیوں میں مزید اضافہ ہو گا۔ خدشہ ہے کہ اس پیدا ہونے والے بحران سے عام آدمی کا ملکی نظام اور جمہوری روایت پر اعتماد متزلزل نہ ہو جائے۔ ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہے کہ ہم قومی دانش کو دعوت فکر دیں۔ اس بدترین معاشی بحران کے دور میں ہمیں یہ طے کرنا ہے کہ اس بحران کا حل پاکستان کے اندر ہے یا پاکستان سے باہر عالمی معاشی اداروں اور سیاسی طاقتوں کے پاس۔
بقیہ: سوز سخن