15 ستمبر 2019
تازہ ترین

بدترین فضائی آلودگی کا شکار بھارت! بدترین فضائی آلودگی کا شکار بھارت!

اس وقت ماحولیاتی آلودگی پوری دنیا کے لیے خطرہ ہے۔ گزشتہ دس برسوں میں فضائی آلودگی کی شرح میں حد درجہ اضافہ ہوا ہے۔ 2001 میں فضائی آلودگی جو 120 اور 125PM Level(particulate matter) ہوا کرتی تھی۔ یہی فضائی آلودگی 2010 میں 250PM levelتک پہنچ چکی تھی۔ اس کے باوجود بھارتی حکومت کو جس تندہی کے ساتھ اس مسئلے سے نمٹنے کی ضرورت تھی، وہ نہیں ہوا۔ نتیجتاً آج فضائی آلودگی حد درجہ خطرناک حد تک پہنچ چکی ہے۔ فی الحال صورت حال یہ ہے کہ فضائی آلودگی کی شرح 400,438 اور 448تک پہنچ چکی ہے۔ فضائی آلودگی کے ماہرین کے سروے کی روشنی میں کرۂ ارض پر بسنے والی 90 فیصد آبادی اس مسئلے سے دوچار ہے۔ اس کی روک تھام کی کوششیں بھی کسی نہ کسی حد تک حکومتوں کی جانب سے جاری ہیں، اس کے باوجود ہر سال 70 لاکھ افراد فضائی آلودگی سے متاثر ہوکر جاں بحق ہوتے ہیں۔ 
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیوایچ او) کی حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہوا میں موجود زہریلے کیمیائی اجزا فالج، دل کے دورے اور پھیپھڑوں کے کینسر کی بڑی وجہ بن رہے ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ دنیا میں ہر دس میں سے نو افراد خطرناک کیمیائی اجزا کی بلند ترین سطح رکھنے والے ماحول میں سانس لے رہے ہیں۔ فضائی آلودگی سے ہونے والی 90 فیصد اموات ایشیا اور افریقا کے ان ممالک میں ریکارڈ کی جاتی ہیں، جہاں عوام کی آمدنی کم یا درمیانے درجے کی ہے۔ عالمی اداروں کی جانب سے چار ہزار سے زائد قصبوں اور 108 ممالک سے اعداد و شمار جمع کیے گئے، جس میں اندرونی اور بیرونی دونوں طرح کے ہوائی معیار کو چیک کیا گیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2016 میں بیرونی ہوا میں شامل آلودہ اجزا کے باعث 42 لاکھ اموات ہوئی تھیں جب کہ اسی سال 38 لاکھ افراد اندرونی ہوا (گھر میں استعمال ہونے والے فیول یا غیر معیاری تیل) میں موجود کیمیائی اجزا کے باعث ہلاک ہوئے تھے۔ اقوام متحدہ کی ایجنسی کے مطابق دنیا کی 40 فیصد آبادی کو گھریلو استعمال کے لیے معیاری تیل تک رسائی نہیں۔ یہ ناقابل قبول بات ہے کہ اس جدید دور میں بھی خواتین اور بچوں سمیت 30 لاکھ افراد اپنے گھروں میں غیر معیاری تیل کے استعمال کے باعث آلودگی سے بھرپور فضا میں سانس لے رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فوری اس جانب توجہ نہ دی گئی تو ان اموات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
عالمی ادارۂ صحت کی نئی رپورٹ کے مطابق دنیا کے 108 ممالک کے 4 ہزار 3 سو شہروں اور قصبوں کی فضائی آلودگی کا جائزہ لیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں بھارتی گروگرام پہلے نمبر پر ہے۔ اس کے بعد دوسرے نمبر غازی آباد اور پاکستان کا صنعتی شہر فیصل آباد تیسرے نمبر پر ہے۔ دیگر آلودہ بھارتی شہروں میں فرید آباد (چوتھے)، بھیوادی (پانچویں)، نویدا (چھٹے)، پٹنا (ساتویں)، لکھنؤ (نویں) اور دہلی (گیارہویں) نمبر پر ہیں۔ ادارے کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروس ایڈہانوم غبریسس کا کہنا ہے کہ فضائی آلودگی سے متاثر ہونے والے تین ارب لوگوں میں زیادہ تر خواتین اور بچّے شامل ہیں۔ ترقی کرنے کے لیے اس پر فوری قابو پانا ہو گا۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق 42 لاکھ افراد گھر کے باہر کی فضا آلودہ ہونے سے ہلاک ہوئے، گھر کے اندر پیدا ہونے والی فضائی آلودگی سے 38 لاکھ افراد کی موت ہوئی۔ فضائی آلودگی کی وجہ بننے والے عوامل میں آٹوموبائل، کوڑا کرکٹ کو لگائے جانے والی آگ اور الیکٹرونک مشینوں کا بے تحاشا استعمال شامل ہے۔ فضا میں موجود زہریلے مادے سے دل اور پھیپھڑے شدید متاثر ہوتے ہیں، جس سے فالج، کینسر اور نمونیا سمیت دیگر بیماریاں انسان پر حملہ کردیتی ہیں۔
موجودہ حالات میں فضائی آلودگی سے ہر شخص متاثر ہے اور اس کی صحت کے لیے یہ خطرہ ہے، اس کے باوجود اس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے لوگ زیادہ تر غریب ہیں۔ اور یہی وجہ ہے کہ سب سے زیادہ بیماریوں اور صحت کے مسائل سے یہی لوگ دوچار ہیں۔ لیکن اس کے معنی یہ ہرگز نہیں کہ متوسط لوگ اس پریشانی سے بچے ہوئے ہیں، وہاں بھی یہ مسئلہ بڑی تیزی سے جڑ پکڑتا جارہا ہے۔ دنیا کے تین ارب لوگ (جن میں زیادہ تر خواتین اور بچّے شامل ہیں) کا روزانہ مہلک ہوا میں سانس لینا ناقابل قبول ہوتا جارہا ہے۔ ادارے نے 2016 میں آلودگی کی سطح پی ایم 2.5 سے زیادہ والے جن سب سے زیادہ آلودہ شہروں کا ذکر کیا، ان میں بھارتی دارالحکومت دہلی کے ساتھ ہندوئوں کا مقدس شہر وارانسی یعنی بنارس بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ آلودہ شہروں میں کانپور، فریدہ آباد، گیا، پٹنہ، لکھنؤ، آگرہ، مظفرپور، گڑگاؤں، جے پور، پٹیالہ اور جودھپور شامل ہیں جب کہ چین اور منگولیا کے بعض شہر بھی اس میں شامل ہیں۔
آخر اس فہرست میں اتنے سارے بھارتی شہروں کے آنے کے اسباب کیا ہیں؟ دراصل یہ سارے شہر شمالی ہند کے ہیں جو ’لینڈ لاک‘ کہلاتے ہیں۔ ان کے پاس کوئی سمندر نہیں، اس لیے فضائی آلودگی میں کمی کا قدرتی طریقہ نہیں ہے۔ فضائی آلودگی کے اسباب میں آٹوموبائل، کاربن مینجمنٹ، کھیتوں کے کوڑے کرکٹ کو نذرآتش کرنے سے مسلسل نکلنے والے دھویں، جھاڑو لگانے کے بعد کوڑے میں آگ لگا دینا، جنریٹر کو رات دن چلانا اور پرانی ڈیزل کاریں شامل ہیں۔ صنعتی کارخانے کے علاوہ سڑک پر گاڑیوں کی تعداد بھی فضائی آلودگی میں اضافے کا سبب رہی ہیں۔
پی ایم 2.5 میں سلفیٹ، نائٹریٹ اور کالے کاربن جیسے آلودہ کرنے والے مادے شامل ہوتے ہیں جن سے انسانی صحت کو خطرہ لاحق رہتا ہے۔ ڈبلیو ایچ او نے کہا کہ یہ مادے پھیپھڑوں میں جاتے ہیں اور دل کے نظام پر اثرانداز ہوتے ہیں جس سے فالج، دل کی بیماری، پھیپھڑوں کاکینسر، سانس کی بیماری اور نمونیا سمیت دوسرے انفیکشن ہوتے ہیں۔ ادارے نے بتایا کہ گھر کے باہر کی فضائی آلودگی سے صرف 2016 میں 42 لاکھ لوگوں کی موت ہوئی جبکہ گھر کے اندر پیدا ہونے والی فضائی آلودگی سے
 38 لاکھ افراد کی اموات ہوئیں۔ بظاہر بھارت کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ اس مسئلہ سے متفکر نظر آتی ہے۔ جس کے نتیجہ میں وہ سخت اقدامات کے لیے مشورے دیتی ہے۔ اسی کی روشنی میں حکومت سے منسلک مرکزی فضائی آلودگی مانیٹرنگ کمیٹی کے جاری کردہ بیان کے مطابق دارالحکومت میں فضائی آلودگی کی سطح کو انتہائی درجے پر قرار دیا گیا ہے اور حفاظتی تدبیر کے تحت شہر میں تعمیراتی کاموں کو 2 دن کے لیے روکا گیا ہے۔ آج بھارتی عوام حددرجہ خطرناک آب و ہوا کا شکار ہیں۔