23 جولائی 2019
تازہ ترین

بھارت کبھی ایک سر والا نہیں رہا! بھارت کبھی ایک سر والا نہیں رہا!

یہ حقیقت ہے کہ آزاد ہندوستان اپنی آئینی شناخت کے اعتبار سے کسی خاص مذہب کے ماننے والوں کا ملک نہیں رہا۔ یہی وجہ ہے کہ دستور ہند کی تمہید کو We the people of Indiaیعنی جملہ ’ہم بھارت کے لوگ‘ سے شروع کیا گیا ہے۔ گویا بھارت کسی خاص نظریے سے وابستہ افراد کے لیے نہیں بلکہ ہر اس شخص اورگروہ کے لیے ہے جو اس کا شہری ہے، جو یہاں پیدا ہوا اور جس نے اس ملک کی بقا و ترقی میں راست یا بلاوسطہ کردار ادا کیا، یا آئندہ مستقبل میں کرے گا۔ بھارتی آئین کی دوسری خصوصیت یہ بھی ہے کہ یہاں ریاست کی سطح پر مختلف گروہ، افراد اور مذاہب کے ماننے والوں کو بنیادی حقوق فراہم کیے گئے ہیں، جس کے تحت وہ اپنی شناخت کو برقرار اور اپنے مذہب سے وابستہ رہتے ہوئے بغیر  کسی دبائو کے زندگی بسر کرسکتے ہیں، ساتھ ہی بھارتی معاشرے کی فلاح و بہبود اور آزادی کی اقدارکو آزاد ہندوستان کے مقاصد میں شامل کیا گیا ہے۔ بھارتی آئین کی اسی تمہید کے سلسلے میں ارنیسٹ بیکر نے کہا تھا کہ تمہید آئین، دراصل بھارت کے دستور کا نچوڑ ہے جب کہ بھارگو نے کہا تھا کہ تمہید آئین کی روح ہے۔ اسی ضمن میں سپریم کورٹ نے 1973 کے پیشوا نند بھارتی کیس میں کہاتھا کہ یہ تمہید دستور کا جزولاینفک ہے اور اسی تمہید میں سارے آئین کو بہ مصداق سمندر کو کوزے میں بند کردیا گیا ہے، جس کی بنیاد پر ہم بھارت کے شہری حقیقی آزادی کا تصور کرسکتے ہیں۔
بھارتی آئین کی تشکیل کی تاریخ پر اگر نظر ڈالیں تو محسوس ہوگا کہ یہ مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے محنت کے ساتھ تیار کیا گیا ہے۔ پہلی جنگ عظیم کے تجربات، 1919 کے غیر اطمینان بخش مونٹیگ چیمسفورڈ اصلاحات (پہلی جنگ عظیم میں کامیابی کے بعد تاج برطانیہ نے اپنی ہندوستانی رعایا کے لیے جنگ میں ان کی شاندار خدمات کے اعتراف کے طور پر اصلاحات اور مراعات کا ایک نیا پیکیج دیا تھا، جو اُس وقت کے وزیر ہند مانٹیگو اور برطانوی ہند کے گورنر جنرل چیمسفورڈ نے مل کر مرتب کیا تھا، برطانوی پارلیمنٹ نے ان اصلاحات کے بل کو گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1919 کے نام سے منظور کیا تھا، لیکن یہ عام طور پر مانٹیگو۔ چمسفورڈ اصلاحات کے نام سے یاد کیا جاتا ہے) اور ہندوستان کی تحریک آزادی میں گاندھی کے بڑھتے ہوئے اثرات کی وجہ سے شہری حقوق کے مطالبات کے متعلق تحریک آزادی کے رہنماؤں کے نقطۂ نظر میں قابل ذکر تبدیلی آئی تھی، جس کے نتیجے میں شاید ان کی توجہ ہندوستانیوں اور انگریزوں کے درمیان مساوات کا حق مانگنے کے بجائے تمام ہندوستانیوں کی آزادی کو یقینی بنانے پر مرکوز ہوگئی تھی۔ 1925 میں اینی بیسنٹ کی جانب سے تیار کردہ ہندوستان کے دولت مشترکہ بل میں سات بنیادی حقوق کا خصوصی مطالبہ کیا گیا تھا۔i)انفرادی آزادی، ii)ضمیر کی آزادی، iii)اظہار رائے کی آزادی، iv)اجتماع کی آزادی، v)جنسی بنیاد پر عدم تفریق، vi)بنیادی تعلیم اورvii)عوامی مقامات کے استعمال کی آزادی۔ 1927 میں کانگریس نے ظلم و ستم پر نگرانی رکھنے والے حقوق کے اعلامیے کی بنیاد پر ہندوستان کے ’’آئین سوراج‘‘ کا مسودہ تیار کرنے کے لیے ایک کمیٹی کی تشکیل کی سفارش کی تھی، جسے 1928 میں موتی لال نہرو کی قیادت میں 11 رکنی کمیٹی کی شکل میں قائم کیا گیا۔ کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں تمام ہندوستانیوں کے بنیادی حقوق کی ضمانت سمیت متعدد سفارشات پیش کی تھیں۔ یہ سفارش کردہ بنیادی حقوق امریکی آئین اور جنگ عظیم کے بعد یورپی ممالک کے اختیار کردہ حقوق سے مشابہہ تھے، چنانچہ ان میں سے بہت سے حقوق 1925 کے بل کے ذریعے اختیار کرلیے گئے۔ بعدازاں ان میں سے متعدد دفعات کو بنیادی حقوق اور رہنما اصولوں سمیت آئین ہند کے مختلف حصوں میں جوں کا توں شامل کرلیا گیا۔
1931 میں کانگریس نے اپنے کراچی اجلاس میں استحصال کے خاتمے، سماجی تحفظ کی فراہمی اور اصلاحات زمین کے نفاذ جیسے مقاصد پر مشتمل اعلان کے ساتھ خود کو شہری حقوق اور اقتصادی آزادی کی حفاظت کے تئیں وقف کرنے کی ایک قرارداد منظور کی۔ اس قرارداد میں دیگر نئے مجوزہ حقوق میں ریاستی ملکیت کی ممانعت، حق رائے دہی، سزائے موت کے خاتمے اور آمدورفت کی آزادی جیسے حقوق شامل تھے۔ جواہر لال نہرو کی جانب سے تیار کردہ قرارداد کے اس مسودے میں جو بعد میں بہت سے رہنما اصولوں کی بنیاد بنا، سماجی اصلاح کے نفاذ کی بنیادی ذمے داری ریاست پر ڈالی گئی اور اسی کے ساتھ تحریک آزادی پر اشتراکیت اور گاندھی فلسفے کے اثرات بڑھنے لگے۔ تحریک آزادی کے آخری مرحلے میں 1930کی دہائی کے اشتراکی اصولوں کی تکرار نظر آتی ہے اور اس کے ساتھ ہی توجہ کا اصل مرکز اقلیتی حقوق (جو اس وقت تک ایک بڑا سیاسی مسئلہ تھا) بن گئے، جنہیں 1945 میں سپرو رپورٹ میں پیش کیا گیا۔ اس رپورٹ میں اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ پر زور دینے سمیت ’’قانون ساز ادارہ، حکومت اور عدالتوں کے لیے معیار اخلاق‘‘ کا تعین کرنے کی بھی کوشش کی گئی تھی۔
برطانوی راج کے آخری مرحلے کے دوران ہندوستان کے کابینہ مشن، 1946 نے اقتدار کی منتقلی کے سلسلے میں آئین ہند کی تشکیل کے لیے ایک قانون ساز کمیٹی کی تجویز پیش کی۔ برطانوی صوبوں اور نوابی ریاستوں سے براہ راست منتخب کردہ نمائندوں پر مشتمل ہندوستان کی آئین ساز اسمبلی نے دسمبر 1946 میں اپنی کارروائی کا آغاز کیا اور نومبر 1949 میں بھارت کے آئین کا مسودہ مکمل کیا۔ کابینہ مشن کے منصوبے کے مطابق اقلیتوں کے تحفظ، قبائلی علاقوں کے انتظام اور بنیادی حقوق کی نوعیت اور حد پر مشورہ دینے کے لیے ایک مجلس مشاورت کا قیام ہونا تھا۔ چنانچہ جنوری 1947 میں 64 رکنی مجلس مشاورت بنائی گئی، بعدازاں ان ہی میں سے فروری 1947 میں بنیادی حقوق کی تشکیل کے لیے جے بی کرپلانی کی صدارت میں 12 رکنی ذیلی کمیٹی تشکیل دی گئی۔ ذیلی کمیٹی نے بنیادی حقوق کا مسودہ تیار کیا اور کمیٹی کو اپریل 1947 تک اپنی رپورٹ پیش کردی، جسے بعد میں اُسی مہینہ کمیٹی نے اس کو اسمبلی کے سامنے پیش کیا، جس پر ایک سال 
تک بحث اور گفت و شنید ہوتی رہی اور دسمبر 1948میں مسودے کے بیشتر حصوں کو منظوری دے دی گئی۔ بھارتی آئین میں بنیادی حقوق کو تمام شہریوں کے بنیادی انسانی حق کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ آئین کے حصہ سوم میں وضاحت کے ساتھ درج ہے کہ یہ حقوق نسل، جائے پیدائش، ذات، عقیدہ یا جنسی امتیاز سے قطع نظر ہر شہری پر نافذ اور مخصوص پابندیوں کی تابع عدالتوں کی طرف سے قابل نفاذ ہیں۔ ریاستی پالیسی کے رہنما اصول حکومت کی جانب سے قانون سازی کی ہدایات پر مشتمل ہیں۔ بھارتی آئین کے حصہ چہارم میں مذکور اصول عدالتوں کی جانب سے قابل نفاذ نہیں، لیکن جن اصولوں پر یہ مبنی ہیں، وہ حکومت کے لیے بنیادی ہدایات کا درجہ رکھتے ہیں اور ان کے متعلق امید ظاہر کی گئی ہے کہ ریاستی قانون سازی اور منظوری میں ان پر عمل کیا جائے گا۔ اس پس منظر میں آئین کی شناخت اور حیثیت کو برقرار رکھنے کی جدوجہد، ہم سب بھارتیوں کا کامن پروگرام ہونا چاہیے، اس کے باوجود کہ ہم اپنی منفرد حیثیت کو بھی نہیں کھونا چاہتے اور اس کا حق بھی ہمیں بھارتی آئین ہی فراہم کرتا ہے۔ اور غالباً یہی پیغام راہول گاندھی کے اس خط میں بھی جھلکتا ہے جب وہ اپنا استعفیٰ دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ’’بھارت کبھی ایک سر والا نہیں رہا، یہاں کئی سروں کی شمولیت رہی ہے اور یہی بھارت کی شناخت ہے!‘‘
بقیہ: لمحہ فکریہ