25 مئی 2019
تازہ ترین

بھارت: ایوان تک رسائی کا معیار شدت پسندی! بھارت: ایوان تک رسائی کا معیار شدت پسندی!

بھارت بیس کروڑ مسلمانوں کا ملک ہے، لیکن وہاں اِن مسلمانوں کی حیثیت بس اتنی ہے کہ جس کا دل چاہا جہاں چاہا انہیں نشانہ بنالیا، جُرم کوئی ہو نہ ہو وہ مجرم بن جاتے ہیں اور ان کے خلاف کام کرنے والے ہیرو۔ مودی ہو یا کانگریس کی اندرا گاندھی ان کے عظیم ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ مسلمانوں کے قاتل ہیں، چاہے وہ مسلمان بھارت کے اندر کا ہو یا پاکستان کا۔ ان کو ووٹ ہی اسی بات کا ملتا ہے کہ انہوں نے مسلمانوں کی کتنی تذلیل کی ہے یا ان کا کتنا قتل عام کیا ہے۔ بھارت میں ہندو شدت پسند اس تسلی کے ساتھ ہی الیکشن میں جاتا ہے کہ جیت اُس کی ہوگی۔ یہاں اچھی خاصی بڑی مسلمان آبادی کے حلقوں میں بھی مسلمان امیدوار کو کھڑا کرنے کا رسک کوئی پارٹی نہیں لیتی اور خصوصاً بی جے پی جیسی جماعتیںتو شدید نظریات کے حامل امیدواروں کو ہی موقع دیتی ہیں تاکہ انہیں حکومت کرنے میں آسانی رہے اور کہیں سے کوئی مزاحمت نہ آئے۔ 
اب کے بھی بی جے پی نے مدھیہ پردیش سے ایسی امیدوار کو ٹکٹ دیا جو ثابت شدہ دہشت گرد ہے۔ سادھوی پرگیا ٹھاکر اس پارٹی کے لیے خاص کر قابل احترام ہے کہ اُس کے اوپر مسلمانوں پر حملوں کے ناقابل تردیدالزامات ہیں اور انہیں الزامات میں اُس نے نو سال جیل میں گزارے لیکن 2015 میں اُسے ضمانت پر رہا کیا گیا۔ سادھوی نے29 ستمبر2008 کو مالیگائوں میں دو بم دھماکے کرائے، ان دھماکوں میں سات افراد ہلاک اور سو سے زائد زخمی ہوئے۔ یہ دھماکے مسلمان اکثریت کی ایک مارکیٹ میں اُس وقت ہوئے جب مسلمان روزہ افطار کررہے تھے۔ اس دہشت گردی میں اُس کے ساتھ کئی دوسروں سمیت بھارتی فوج کا کرنل سری کانت پروہت بھی شامل تھا۔ اس واقعے کے تفتیشی افسر ہیمنت کُرکُرے کو بعد میں قتل کردیا گیا اور سادھوی کو ایک طرح سے عدالت سے کلین چٹ دے دی گئی، تاہم اُس پر مقدمہ جاری رکھا گیا۔ یہ کوئی ایک جرم نہیں جو اس کے ذمے ہے، اسی عورت نے 2007 میں اجمیر شریف کے مزار میں ہونے والے دھماکوں میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ بھارت کے تفتیشی ادارے این آئی اے نے ناصرف اسے بلکہ آرایس ایس کے ایک لیڈر اندیش کمار دونوں کو بری کردیا جبکہ آر ایس ایس کے لیڈر سوامی آسیم آنند نے اقرار کیا کہ اس واقعے میں ہندو شدت پسند ملوث تھے، بلکہ یہ تمام تر انہی کی منصوبہ بندی اور کارستاتی تھی، لیکن یہ شدت پسند دہشت گردی کرکے بھی انتخابات میں حصہ لینے کے اہل قرار پاتے ہیں… جیسا کہ میں نے پہلے کہا کہ بھارت میں تو حکومتی ایوانوں تک پہنچنے کا معیار ہی شدت پسندی ہے ورنہ آج ایک شدت پسند اُس کا وزیراعظم نہ ہوتا۔ اگرچہ کچھ لوگوں کی طرف سے سادھوی کی نامزدگی کی مذمت بھی کی گئی، لیکن یہ بھی زیادہ تر مسلمانوں کی طرف سے ہے۔ 
محبوبہ مفتی نے اس نامزدگی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس غصے اور ناراضی کا اندازاہ لگایئے جو اگر میں کسی دہشت گرد کو انتخابات کے لیے نامزد کرتی تو فوراً اسے محبوبہ دہشت گردی کا نام دے دیا جاتا۔ معروف فلمی نغمہ نگار اور سیاستدان جاوید اختر نے اسے شرم ناک قرار دیا۔ اسی سادھوی نے اعلان کیا کہ اُسے فخر ہے کہ اُس نے بابری مسجد کے انہدام میں حصہ لیا، اس سے یقیناً بی جے پی کے نقطۂ نظر کی مزید وضاحت ہوگئی ہے، لیکن پھر بھی بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہے۔ اُس کی ایجنسیاں انتہاپسندوں کے کیے ہوئے جرائم پر پردہ ڈال دیتی ہیں بلکہ اُن کے کیے ہوئے کو مسلمانوں سے جوڑ کر انہیں جیلوں میں بھر دیا جاتا ہے۔ ایسا ہی مالیگائوں کیس میں ہوا جہاں بے گناہ مسلمان نوجوان لڑکوں پر الزام لگادیا گیا۔ آسیم آنند نے اعترافِ جُرم کیا اور پھر اپنے بیان سے پھر گیا اور این آئی اے نے مُجرموں کے لیے سدا بہار جملے ’’ناکافی ثبوتوں‘‘ کی ادائیگی کے ساتھ بَری کردیا۔ بھارت میں عام عدالت ہو یا سپریم کورٹ، مسلمانوں کے لیے اصول الگ ہیں اور ہندوئوں کے لیے الگ۔ بھارت کی انہی عدالتوںنے ایسے کئی مواقع پر جب مسلمان ہی مارے گئے، مسلمانوں کو ہی سزا دی اور پکڑے گئے ہندو چھوڑ دیے۔ ایسا ہی ایک کیس ہاشم پورہ میں ہوا۔ 1987 میں 42 مسلمان نوجوانوں کو اغوا کرکے قتل کیا گیا اور کچھ دن بعد اُن کی لاشیں ایک نہر میں تیرتی سطح آب پر آگئیں۔ 19افراد کو اس الزام میں پکڑا گیا، طویل مقدمہ چلا، تین افراد اسی دوران مر گئے جب کہ باقی سولہ کو ’’ناکافی ثبوتوں‘‘ کی بِنا پر رہا کردیا گیا۔
بھارت میں بسنے والے کروڑوں مسلمان خصوصاً اور دوسری اقلیتیں بھی اسی طرح کے ’’انصاف‘‘ کا شکار رہتی ہیں۔ 1984کا سکھ قتلِ عام بھی سب کی یادداشتوں میں محفوظ ہے۔ وہاں عیسائی محفوظ ہیں نہ نچلی ذاتوں کے ہندو، نہ سکھ لیکن دنیا کی سب سے بڑی اقلیت مسلمان جس مذہبی دہشت گردی سے گزرتے ہیں وہ خاص حکومتی سرپرستی کا شاخسانہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ این آئی اے جسے بظاہر دہشت گردی کی روک تھام کے لیے بنایا گیا، وہ خود مسلمانوں کے لیے ایک دہشت گرد ادارہ بن چکا ہے، جس نے کئی واقعات میں مسلمانوں کو مسلمانوں کے خلاف ہی مُجرم ٹھہرایا اور ہندو شدت پسندوں کے لیے ڈھال بنا۔ اس نے مالیگائوں، اجمیر شریف، سمجھوتا ٹرین اور گجرات قتلِ عام سمیت کئی دوسرے واقعات میں ہندو شدت پسندوں کو کلین چٹ دے کر انہیں اگلی دہشت گردی کی منصوبہ بندی اور اس پر عمل کرنے کے لیے آزاد کردیا اور سادھوی کو تو پارلیمنٹ تک پہنچانے میں معاون ثابت ہوا۔ سادھوی دہشت گرد ہے جس کو اس کا تعاون حاصل ہے اور ایسے دوسرے کئی سادھوی اور سادھو موجود ہیں جو این آئی اے سے بے گناہی کے پروانے لے کر جرائم کررہے ہیں اور مسلمان اُن کے نشانے پر ہیں۔ کشمیر میں حریت پسند رہنما اُس کی نظر میں دہشت گرد ہیں، لیکن آسیم آنندبے گناہ جو مسلمانوں کے خون سے ہاتھ رنگنے کو عین اعزاز سمجھتا ہے اور کھلے عام ’’ہندوتوا‘‘ کے نظریے پر عمل کرکے بھارت کو دوسرے ہر مذہب سے پاک کرنے کی باتیں کرتا ہے، اس سب کچھ میں انہیں مکمل حکومتی تعاون حاصل ہے اور سادھوی کی نامزدگی اسی بات کا ثبوت ہے۔ اس کا انتخاب ہو جانا یا نہ ہونا ایک الگ بات جو بھوپال کے حلقے میں کافی حد تک متوقع ہے لیکن اس نے کم از کم بی جے پی کے متعصب ہونے کا ایک اور ثبوت فراہم کردیا ہے اور بھارت کے سیکولرازم کے پردے میں ہندو جنونیت کا راز بھی فاش کردیا ہے، جس کی اسمبلیوں تک بیس کروڑ مسلمانوں میں سے گنتی کے چند ہی مشکل سے پہنچ پاتے ہیں، لیکن سادھوی جیسے دہشت گرد بڑی آسانی سے یقینی جیت کے حلقوں سے انتخاب لڑسکتے ہیں تو کیا یہ بہتر نہ ہو کہ اگر ایک ملک کا وزیراعظم اور ارکان اسمبلی دہشت گرد ہیں تو اُسے دہشت گرد قرار دے دیا جائے، یا کم از کم ایسا سمجھ ہی لیا جائے۔