15 ستمبر 2019
تازہ ترین

بھارت: ای وی ایم ٹیمپرنگ بمقابلہ برین ٹیمپرنگ! بھارت: ای وی ایم ٹیمپرنگ بمقابلہ برین ٹیمپرنگ!

جمہوریت کی بقا شہریوں کے اعتماد کی بحالی میں ہے، لیکن اگر عوام الناس جمہوری نظام پر سوال اٹھانے لگیں تو پھر عین ممکن ہے کہ جمہوری نظام میں بھی شک و شبہ کی گنجائش پیدا ہوجائے اور یہ اس حد تک بڑھ بھی سکتے ہیں کہ عوام اس نظام ہی سے متنفر ہوجائیں۔ دراصل جمہوریت نام ہے جمہور کی حکمرانی کا، جہاں عوام کے ذریعے اُن کے نمائندے منتخب کرانے کا عمل طے شدہ وقفہ کے بعد دہرایا جاتا ہے۔ لوگ اپنے نمائندے اپنی پسند سے ووٹ کے حق کے ساتھ منتخب کرتے ہیں اور حکومتیں تشکیل پاتی ہیں، لیکن گزشتہ دَہائی سے ووٹ کا حق ادا کرنے کا جو طریقہ بھارت میں اختیار کیا گیا، وہ ووٹنگ مشین ای وی ایم ہے جس پر گزشتہ یو پی اے حکومت کے خلاف بھی باتیں سامنے آئی تھیں، سوالات اٹھائے گئے تھے، کتابیں لکھی گئی تھیں اور اسے ختم کرنے کے مطالبات کیے گئے تھے، وہیں موجودہ این ڈی اے حکومت پر بھی مستقل سوالات اٹھ رہے ہیں، احتجاجات کیے جارہے ہیں۔ اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ ای وی ایم مشین میں گڑبڑ کی جاسکتی ہے۔ اس کو دہلی اسمبلی میں راست نشر کیا گیا، ساتھ ہی بھارت بھر میں ایک سے زائد واقعات رونما ہوئے، جہاں عوام نے اپنے پسند کے نمائندے کو منتخب کرتے وقت جس بٹن کو دبایا، ای وی ایم مشین میں نتیجہ کچھ اور ظاہر ہوا۔ نتیجتاً لوگوں نے شکایتیں درج کرائیں اور الزام بھی لگا کہ برسراقتدار حکومت جس پارٹی سے وابستہ ہے، ای وی ایم کا بٹن کوئی بھی دبائے نتیجہ اُسی جماعت کے نمائندے کے حق میں آرہا ہے۔ 
اس پس منظر میں مختلف پلیٹ فارمز کے ذریعے بڑے پیمانے پر یہ بات سامنے آئی کہ ای وی ایم کے ذریعے ووٹ کا حق استعمال کرنے کا طریقہ ختم کیا جائے، بیلٹ پیپر کے ذریعے ہی ووٹ دینے کا دوبارہ سلسلہ شروع ہو، تاکہ جو مسائل پیش آئے ہیں اور مستقل آرہے ہیں، ان کو کنٹرول کیا جاسکے، انہیں ختم کیا جانا ممکن ہو۔ عوام کا اعتماد بحال ہو، ہر شخص کو محسوس ہو کہ اس نے جس نمائندے کو اپنا ووٹ دیا تھا، واقعی اسے وہ ووٹ حاصل ہوا اور جمہوریت کی بقا ممکن ہو، جمہوری نظام برقرار رہے۔ آپ دیکھیں گے کہ یہ اشکال اس لیے بھی سامنے آئی ہیں کیونکہ ای وی ایم مشین اگرچہ کسی قدر بھی بہتر انداز میں اپنی کارکردگی کو اداکرنے کے لائق کیوں نہ ہوجائے، اس کے باوجود یہ ایک مشین ہی ہے جو سافٹ ویئر پر منحصر ہے۔ اور مشینوں کو ہیک کرنا، ٹیمپرنگ کرنا، ان کے سافٹ ویئر کو اپنی مرضی کے مطابق استعمال کرنا، کچھ اس قدر بھی ناممکن نہیں جتنا اس کے حق میں اظہار کرتے ہوئے سمجھایا جاتا ہے۔ برخلاف اس کے اگر جمہوری نظام میں جمہوریت سے ہی اعتماد اٹھ جائے تو پھر اس جمہوری نظام اور اس کو رائج رکھنے والوں پر، اس کی بقا اور تحفظ کرنے والی حکومتوں اور اداروں پر سوالات اٹھنے لگیں گے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ جمہوری نظام کا دعویٰ کرنے والے، اس نظام کو برقرار رکھنے کی ہر ممکن کوشش کریں اور یہ بھی کوشش کی جائے کہ جمہوریت پر اعتماد رکھنے والے عوام اور ملک کے شہری ہر دو سطح پر متنفر نہ ہوں اوران کا اعتماد ختم نہ ہونے پائے، برقرار رہے۔
دوسری جانب یہ بات بھی ہمیں اپنے سامنے رکھنی چاہیے کہ کوئی بھی نظام نظریے کے بغیر وجود میں نہیں آسکتا۔ انسانی تاریخ سے ثابت ہے کہ دنیا کے مختلف زماں و مکاں میں قائم نظام ہائے زندگی کسی نہ کسی نظریے سے منسلک رہے ہیں۔ اس کے باوجود مخصوص نظام کو نافذ کرنے والے، ہر زمانے میں عوام پر یہی ثابت کرتے آئے ہیں کہ برسراقتدار نظریاتی حکومت میں نظریے کا غلبہ نہیں ہے۔ لہٰذا عوام الناس بے خوف و خطر حکومت سے تعاون کریں اور ترقی کی منازل طے کرتے چلے جائیں، لیکن چونکہ نظریاتی اقتدار عموماً ملک کے تمام عوام کو ایک چشمے سے نہیں دیکھتا، یہی وجہ ہے کہ وہ ایک طرف نظریاتی نظام کہلاتا ہے تو دوسری جانب وہ سب کے ساتھ ایک جیسا سلوک بھی نہیں کرتا۔ دوسری طرف یہ بات بھی عیاں ہے کہ ہر زمانے میں ایک ہی حکومت کے زیر سایہ عوام مختلف گروہ، نظریات اور طبقات میں منقسم ہوتے ہیں۔ اس صورت میں یہ ممکن نہیں کہ ایک نظریہ کسی بھی صورت سب کو مغلوب کرتا ہوا دوسروں کا خاتمہ کردے۔ یہ وہ مرحلہ ہے جہاں سے نظریات کی کشمکش شروع ہوتی ہے۔ اس کشمکش میں عموماً برسراقتدار افراد و حکومتیں اُس وقت تک غالب رہتی ہیں جب تک کوئی دوسرا نظریہ یا مختلف نظریات سے وابستہ طبقات مخصوص نظریے کو مغلوب کرنے میں متحد ہوتے ہوئے کامیاب نہ ہوجائیں۔
ایسے حالات میں مخصوص نظریے سے وابستہ افراد اپنی بقا و دوام کے لیے عموماًدو طریقے اختیار کرتے ہیں۔ ایک: وہ کوشش کرتے ہیں کہ عوام الناس کا ایک بڑا گروہ کسی نہ کسی طرح ان سے قریب ہو جائے، ان کی فکر پروان چڑھے، جن مقاصد اور نصب العین کے لیے وہ سعی و جہد کررہے ہیں، اس میں جم غفیر ضم ہوجائے اور دوسرے نظریات کے حاملین و قائدین اگرچہ ان کا خاتمہ نہ ہو، اس کے باوجود وہ اس قابل بھی نہ رہیں کہ وہ ان کا مقابلہ کرتے ہوئے کامیابی سے دوچار ہوں۔ اس پوری جدوجہد میں وہ کسی بھی اخلاقی اصول کو پامال کرتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں اور انہیں ظاہری کامیابی جس کی مدت عام طور پر واضح نہیں ہوتی، حاصل ہوتی رہتی ہے۔ دوسرا طریقہ جو عموماً استعمال کیا جاتا ہے، وہ راست یا بلاواسطہ طور پر تشدد کا طریقہ ہے۔ یہ تشدد کبھی راست ہوتا ہے تو کبھی بلاواسطہ ذیلی تنظیموں اور گروہوں کے ذریعہ بھڑکایا جاتا ہے۔ جس کا بنیادی نکتہ نفرت اور تعصب پر منحصر ہوتا ہے۔ لہٰذا ان کی کامیابی کا راز اسی میں پنہاں ہے کہ جس قدر اور جس بڑے پیمانے پر وہ نفرت کا بازار گرم کرنے میں 
کامیاب ہوں گے، ان کی فکر اور نظریے کی بقا کے لیے جدوجہد کا دائرہ بھی اسی قدر وسیع سے وسیع تر ہوتا جائے گا۔ اسی کے ذریعے وہ خوف و ہراس کا ماحول بھی پیدا کرتے ہیں، جہاں لوگوں کی زبانوں پر قفل چڑھائے جاتے ہیں، انہیں ہراساں کیا جاتا ہے۔ اور یہی وہ برین ٹیمپرنگ ہے جسے عموماً نظرانداز کرتے ہوئے ہم اور ہمارا سماج آگے بڑھتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ اندرون خانہ سماج منتشر ہونے لگتا ہے اور معاشرتی تانے بانے بکھر جاتے ہیں۔ ان حالات میں ممکن ہے مخصوص نظریے سے وابستہ حکومتوں، افراد و گروہوں کو ایک وقتِ خاص میں عروج حاصل ہوجائے اور وہ جس نصب العین کے لیے سرگرداں تھے، اسے وہ اپنی آنکھوں سے پھلتا پھولتا اور کامیاب ہوتا دیکھ بھی لیں۔ 
اس کے باوجود یہ بھی زندہ حقیقت ہے کہ ہر عروج کو زوال بھی آتا ہے، کیونکہ یہی انسانی تاریخ ہے اور یہی انسانی تاریخ پر منحصر حکومت و اقتدار کو کنٹرول کرنے والے کا اصول ہے۔ زوال کے بعد عروج کسے حاصل ہوتا ہے؟ اس کے مختلف پیرایوں میں جوابات موجود ہیں۔ اس بات کی بھی نشان دہی کی گئی ہے کہ زوال کے اسباب کیا ہوتے ہیں اور زوال کے بعد جنہیں عروج حاصل ہوتا ہے، ان کے معاملات کیا ہوتے ہیں، لیکن یہ بات طے ہے کہ ہر عروج کو زوال دیکھنا ہے۔
اس موقع پر بھارتی عوام سے جو بات کہنی ہے، وہ بس یہی کہ ہمیں اپنے اندر وہ صفات پیدا کرنی چاہئیں جو ابدی زوال سے بھی ہمیں محفوظ رکھنے میں معاون ہوں اور جس کے اختیار کے نتیجے میں ہم وقتی زوال سے بھی بچے رہیں۔ اِس کے ایک معنی یہ ہوسکتے ہیں کہ ہماری حیثیت درمیانہ روی کی ہونی چاہیے۔ نہ ہم عروج کے اُس پیمانے کو حاصل کرنے کی کوشش کریں، جہاں تعصب اور نفرت کا سہارا لیتے ہوئے اسے برقرار رکھنے یا اس کا دائرہ وسیع کرنے کی ناکام کوشش کی جاتی ہے اور نہ ہی اس ذلت و رسوائی کا شکار ہوں، جہاں انسان دنیا اور آخرت ہر دومقام پر ناکامی سے دوچار ہوگا۔ سوال یہ ہے کہ پھر ہم کریں کیا؟ اس کا آسان سا جواب یہی ہے کہ آپ جو ہیں اسے قول و عمل اور ظاہر و باطن ہر سطح پر مکمل انداز میں واضح کردیں کہ آخر آپ ہیں کون؟ وہیں نفرت و تعصب پر مبنی حالات میں خوف کا شکار ہوتے ہوئے اپنی شناخت کو چھپانے کی ذرّہ برابر بھی کوشش نہ کریں، کیونکہ آپ کی شناخت چھپانے کی کوشش آپ کو عظیم ہلاکت سے دوچار کردے گی۔ اور آخری بات یہ کہ انسانی بنیادوں پر انسانوں سے محبت و ہمدردی کے ساتھ پیش آئیں اُن کی ہر ممکن مدد کریں، کیونکہ آپ ہی ہیں جو مسائل کا ادراک بھی رکھتے ہیں اور مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت سے بھی مالامال ہیں!
بقیہ: لمحہ فکریہ