23 جولائی 2019
تازہ ترین

بے نظیر کے بعد مریم نواز بے نظیر کے بعد مریم نواز

مریم نواز نے ٹھہرے ہوئے پانی میں پتھر پھینک کر جو ارتعاش پیدا کیا ہے، لہریں جس طرح کناروں سے آ کر ٹکرائی ہیں اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ بالآخر اس ارتعاش پر سکوت نے غالب آنا ہے۔ پھر بھی یہ ایک تلخ سچائی ہے کہ سطح آب پر پھیلے ہوئے حالات اس بات کی واضح نشاندہی کر رہے ہیں اگر کوئی دوسرا پتھر پھینکا گیا، جس کے واضح امکانات موجود ہیں کیونکہ معاملات کو تنگ آمد بجنگ آمد کی طرف دھکیل دیا گیا ہے، تو پھر یہ لہریں کناروں پر کھڑے لوگوں کو بھی اپنی توجہ کا رُخ تبدیل کرنے پر مجبور کر سکتی ہیں۔ ابھی تو یہی دعویٰ اور نعرہ ہے کہ اس ’’ویڈیو آڈیو‘‘ کی فرانزک رپورٹ تیار کی جائے گی، مجرموں کو ہی نہیں ان اداروں کو بھی کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا، جنہوں نے یہ حرکت کر کے انصاف اور حکومت کی صداقت کو مجروح کرنے کی کوشش کی ہے۔ ہمارے تجربہ میں تو یہی کچھ ہے کہ اگر نیب کے چیئرمین کے تقدس پر انگلی اٹھانے والی آڈیو کی فرانزک رپورٹ اتنا عرصہ گزرنے کے باوجود عوام کے سامنے پیش کر کے مجرموں کو کٹہرے میں کھڑا نہیں کیا جا سکا تو اس ’’آڈیو ویڈیو‘‘ کی رپورٹ بہت جلد سامنے آنے کی کوئی امید نہیں۔ یہ شور شرابا جو اپوزیشن سے کم اور حکومتی میڈیا کی طرف سے زیادہ برپا ہوا ہے، خصوصاً محکمہ اطلاعات کے وزیروں، مشیروں اور افسران ’’بکار خاص‘‘ نے ’’آ بیل مجھے مار‘‘ کی حکمت عملی اپنائی ہے، اس نے بے چارے معصوم وزیراعظم کے مسائل میں کمی کے بجائے اضافہ کر دیا ہے۔ مزید بدقسمتی کہ پریس ریلیز میں آدھا سچ اور آدھا اعتراف جس طرح شامل کیا گیا ہے، اس پر ہمارے جیسے قلم بدوشوں کو بھی خراج پیش کرنا لازم ہو گیا ہے۔
بہرحال یہ ہمارے جیسے عام لوگوں کا مسئلہ نہیں، ریاست و حکومت، اقتدار و اختیار کے سٹیک ہولڈرز کا ہے۔ داخلی تضادات نے اب باقاعدہ تصادم کی راہ چلنا 
شروع کر دیا ہے، طبل جنگ بج گیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ طاقت کو روایت کے مطابق فتح حاصل ہوتی ہے یا پھر معصوم اور مظلوم اپنے لیے کچھ تحفظ حاصل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں یا پھر اس ملک کے آٹھ بار وزیر رہنے والے کامیاب ترین سیاستدان کے بقول یہ ’’مریم نواز‘‘ کی چخ چخ ثابت ہوتی ہے۔ لیکن ہمارے دوست علامہ فکر گنگولوی کا خیال ہے کہ انا پرست بلکہ خود پرست حکمرانوں نے اپنے لیے تو گڑھے کھودے تھے مخالفین کیلئے بھی واپسی کا کوئی رستہ باقی نہیں چھوڑا۔ یہ وفاداری نہیں بیوقوفی ہے۔ اسی لیے تو کہتے ہیں بیوقوف دوست سے عقل مند دشمن اچھا ہوتا ہے۔ یہ بیوقوفی نہیں تو اور کیا ہے کہ وہ جو ریاست اور اداروں کے سیاسی محافظ بن کر قلعہ کے باہر کھڑے کیے گئے تھے انہوں نے مخالفین کو حملہ کیلئے دروازے تک آ جانے پر مجبور کر دیا ہے۔ اگر سینیٹ کا چیئرمین تبدیل ہو گیا تو سارے بھید کھل جائیں گے اور وہ جو وزیر داخلہ نے دیرینہ تعلقات اور ذاتی کوششوں سے اراکین اسمبلی کی ملاقاتیں کرائی ہیں وہ بھی مثبت نتائج کا باعث نہیں ہوں گی۔ پھر یہ جنگ کئی اور محاذوں پر بھی بارودی اسلحہ کی نشاندہی کرے گی، پھر سرپرستوں کو بھی حکمت عملی پر نظرثانی کرنا پڑے گی کیونکہ سیاست میں کوئی ذاتی دوست نہیں ہوتا صرف ذاتی مفاد ہوتا ہے اسی مفاد کو بالادستی حاصل ہوتی ہے۔
بہرحال معروضی صورتحال میںہم ایسے طالب علموں کیلئے یہ سمجھنا کوئی مشکل نہیں رہا کہ مریم نواز نے صرف شریف خاندان ہی نہیں پاکستان کی مستقبل کی پاور پالیٹکس کو بھی اپنی گرفت میں کر لیا ہے۔ شہباز شریف نے بھی مفاہمتوں کی خواہشوں اور کوششوں پر شکست تسلیم کر لی ہے اب وہ بھی بہ امر مجبوری نواز شریف کے بیانیہ سے ہم آہنگ ہو گئے ہیں۔ انہیں بھی مریم نواز کی قیادت میں ’’انکل‘‘ بن کر ساتھ چلنا پڑے گا۔ اندیشہ صرف اس بات کا ہے کہ کہیں وہ بھی ’’بینظیر بھٹو‘‘ کے ’’انکلز‘‘ میں سے کوئی ایک ثابت نہ ہوں۔ پھر بھی اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ معروضی صورتحال 86ء سے بہت مشابہ ہے۔
بینظیر بھٹو قید و بند کی صعوبتوں اور جلاوطنی، باپ اور بھائی کی شہادت کے بعد واپس آئی تھیں۔ ان کے سیاسی عمل اور جدوجہد میں وقت اور حالات کے جبر نے ’’عملیت پسندی‘‘ کو شامل کر دیا تھا۔ وہ مصالحت اور مفاہمت کے ساتھ آگے بڑھی تھیں جس پر پیپلز پارٹی کے بہت سارے نظریاتی کارکنوں نے اعتراض بھی کیے اور یہ سوال بھی اٹھائے کہ جیلیں بھگتنے، کوڑے کھانے  اور سولیوں پر چڑھنے کا کیا فائدہ ہوا؟ یہ الگ بات کہ وہ دو بار وزارت عظمیٰ کے عہدہ پر فائز ہونے کے باوجود اقتدار کے ایوانوں میں اپنے لیے نرم گوشہ نہیں بنا سکیں۔ حتیٰ کہ انہیں ’’سٹیٹس کو‘‘ میں ہی ’’جمہوریت بہترین انتقام‘‘ کا نعرہ بلند کرتے ہوئے باپ اور بھائیوں کی طرح شہادت کے مرتبے پر فائز ہونا پڑا۔ پس ثابت ہوا کہ غیر سیاسی روایات اور غیر جمہوری اقدار میں مصلحت اور مصالحت کی خواہشیں اور کوششیں کبھی مثبت نتائج کا باعث نہیں ہوتیں۔ جدوجہد لازم ہوتی ہے اور نظریاتی وابستگی کا ہم قدم ہونا بھی ضروری ہوتا ہے۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ کے طالب علم کی حیثیت سے یقینی بات ہے کہ مریم نواز نے محترمہ شہید کی سیاسی زندگی کا گہرائی سے مطالعہ کیا ہو گا، غلطیوں اور کوتاہیوں کے ادراک میں اپنے باپ کی سرپرستی میں اس مشکل ترین سفر کا آغاز کیا ہو گا۔ انہیں معلوم ہو گا کہ پاکستان کی سیاست میں ایک عورت کیلئے آگے بڑھنا کتنا مشکل ہے اگرچہ بینظیر بھٹو نے بہت سی 
راہیں ہموار کر دی ہیں لیکن پھر بھی کانٹے ہی کانٹے ہیں بلکہ ابھی تو فردوس عاشق اعوان کے سوتیانہ پن جیسا ایک ہی کانٹا ہے بلکہ اس طرح کے اور بھی درجنوں کانٹے سامنے آئیں گے۔ شیخ رشید، فواد چودھری، مراد سعید، فیصل جاوید، فیصل واوڈا وغیرہ۔ بلکہ اب تو فیاض چوہان کو بھی واپس بلا لیا گیا ہے۔
بقیہ: پس حرف