10 اپریل 2020
تازہ ترین

بڑی قوم کی نشانیاں بڑی قوم کی نشانیاں

انسان کی ازل سے مجبوری رہی ہے کہ ہم اچھے لگیں اور اسی جستجو میں وہ بہتر ہوتا چلاگیا۔ قوم فرد سے بنتی ہے، جب قوم بن جاتی ہے پھر اس سے اچھے انسان بنتے ہیں۔ پرانے زمانے میں اچھائیوں کا مقابلہ ہوتا تھا، لوگ اچھا بننے کی کوشش کرتے اور بن بھی جاتے تھے۔ آج دنیا میں اچھائی کا مقابلہ ختم اور دولت مند ہونے کا مقابلہ شروع ہوگیا ہے، اب دولت کی دوڑ لگی ہے اور آج کے انسان کا خیال ہے کہ بڑا انسان بڑی قوم صرف دولت سے ہوتی ہے۔ یہ ٹھیک امریکا سپرپاور دولت سے ہی ہے، مگر دولت کے ساتھ اچھے کردار کی بڑی ضرورت ہے اور خود کو احساسِ محرومی سے دور کرنا بھی ضروری ہے۔ ہم خود اپنی کردار کشی کرتے رہتے ہیں۔ ہم نے کبھی اپنی قوم، ملک، پولیس یا عوام کسی کی کبھی تعریف نہیں کی۔ میں ایک زمانے میں گوروں کے ساتھ کام کرتا تھا، وہ یا تو گفتگو ہی نہیں کرتے، اگر کرتے بھی ہیں تو صرف اپنی قوم کی تعریف کرتے ہیں۔ آج ہر امریکی اپنی تعریف کرتا نظر آتا ہے، برائی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ہمیں پتا نہیں کس کی بددعا ہے، ہم سارا وقت اپنی برائی پر صَرف کرتے ہیں، اپنی ذات کی تو تعریف کرتے ہیں، اپنی قوم کی نہیں کرتے اور یہی ہماری ناکامی کی وجہ بنتی جارہی ہے۔ ہر آدمی کہتا ہے یہ پاکستان ہے، یہاں سب اچھا نہیں۔ دراصل ایسی بات نہیں، ہمیں کوئی بیماری لگی ہوئی ہے، اب اس کا علاج بہت ضروری ہوگیا ہے، بعد میں دیر ہوجائے گی۔
ہمارے سیاست دانوں نے تو حد ہی کردی ہے۔ یہ سب بے عقل نظر آتے ہیں جن کی وجہ سے ہمارے عوام بے چارے بھی بے عقل ہوتے جارہے ہیں، جیسا درخت ہوگا ویسا ہی پھل ہوگا۔ ہماری ترقی کی راہ میں ہم خود رکاوٹ ہیں، ہم خود کو بُرا خودکہتے ہیں۔ ہماری سوچ میں احساسِ محرومی ہے، ویسے ہم محروم نہیں، ہم بہت کمال کے انسان ہیں۔ ہم میں ہر آدمی دوسرے سے قابل ہے۔ آپ کسی بھی شعبے میں چلے جائیں، ایک سے ایک اعلیٰ آدمی ملے گا۔ ایک سے ایک نیک آدمی ملے گا، میں نے اس رمضان میں بڑے بڑے کمال لوگ دیکھے، جن کو دوسروں کی بڑی فکر تھی۔ عبادت کرنے والے، سخی، غریبوں پر رحم کرنے والے۔ ہم تنقید کرکے اپنی برائیوں پر پردہ ڈالتے ہیں، چونکہ ہم خود نالائق ہوتے ہیں، اس لیے ہمیں سب نالائق نظر آتے ہیں۔ ہم اگر اپنی سوچ میں کچھ تبدیلی لائیں تو حالات اچھے ہوسکتے ہیں۔ اگر ہم سب سیاست دانوں جیسے بن کر زندہ رہنا چاہتے ہیں تو پھر ملک میں بُرے ہی بُرے لوگ ہیں،۔ 
مجھے ہر روز بہت اچھے لوگ ملتے ہیں، جن میں ہر خوبی ہوتی ہے، اگر میں کہوں کہ یہاں افضل لوگ زیادہ ہیں تو ان میں ہمارا بھی شمار ہوگا۔ انسان اگر یہ سوچ  لے کہ میں لوگوں سے زیادہ عقل مند نہیں تو پھر سیاستدانوں جیسا بننے کی ضرورت نہیں۔ میں ہر سربراہ حکومت کو قابل تصور کرتا ہوں۔ میری نظر میں ہر حکمران اچھا تھا، کیوں؟ جیسی رعایا ویسے حاکم۔ ہماری آدھی قوم عمران خان کی برائیوں میں لگی رہتی ہے، مع (ن) لیگ اور پی پی کے… پی ٹی آئی کے پاس سابق حکمرانوں کی برائی کے سوا کچھ بھی نہیں۔ نامعلوم کیوں سمجھا جاتا ہے کہ ہم نے پچھلوں یا دوسروں کی تعریف کی تو پھر ہم زیرو ہیں، دوسروں کی برائی کرنے والا بھی زیروہی ہوتا ہے۔ ٹی وی اینکرز کسی کی تعریف میں پروگرام کر ہی نہیں سکتے۔ میں بڑی قوموں کی نشانیاں بتانا چاہتا ہوں۔ بڑی قوم کے لوگ کسی کو بُرا نہیں کہتے۔ ایسا نہ ہو کہ حکومت اپنے آخری سال، آخری مہینہ، آخری ہفتہ اور آخری دن بھی یہی کہہ رہی ہو کہ یہ سب سابق حکمرانوں کی وجہ سے ہوا ہے۔ جب کوئی ایس ایچ او کسی تھانے میں آتا ہے،  کہتا ہے پہلے والے افسروں نے بیڑہ غرق کر رکھا تھا۔ جب پاکستان آزاد ہوا تو پاس کچھ نہ تھا، پولیس بنانے اور تنخواہوں کے لیے پیسے نہ تھے، ملک ایک سال میں اپنے پائوں پر کھڑا ہوگیا تھا، اُس وقت ساڑھے تین روپے کا ڈالر تھا، یہاں ایک سال میں دوسروں کی برائی کے سوا کچھ نہیں ہوا۔ آئیں سب بھائی بھائی بن کر جئیں، ایک دوسرے کی برائی بند کرتے ہیں۔ 
آئینے میں اپنی ذات نظر آتی ہے
دوسروں میں اپنی اوقات نظر آتی ہے
ہوتی ہیں جو اپنی فطرت میں باتیں 
اوروں میں وہی تو بات نظر آتی ہے
کبھی کبھی اپنی خوبیوں اور برائیوں کو جمع کرکے دیکھیں، اگر جمع کرنے کی طاقت رکھتے ہوں یا کسی مخالف سے پوچھ لیں کہ میں کیا ہوں، سب پتا چل جائے گا۔ بہت آسان کام ہم مشکل بنادیتے ہیں۔ آئیے اپنی فطرت کو تلا ش کرتے ہیں۔ ہوسکتا ہے اندر سے اچھی قوم نکل آئے۔