25 اگست 2019
تازہ ترین

بیٹی کا کھڑاک بیٹی کا کھڑاک

مملکت خدا داد پاکستان میں اس وقت سپر ہٹ سنیما سکوپ فلم ’’بیٹی کا کھڑاک‘‘ پوری قوم کی توجہ کا باعث ہے۔ اس میں ’’انصاف اور قانون‘‘ کی تکرار بھی موجود ہے، سچ اور جھوٹ کی کہانی سسپنس کے ساتھ آگے بھی چل رہی ہے جبکہ قوم تماشائی بنی اس فلم کا اختتام دیکھنے کے لیے بے چین ہے۔ اسکی حقیقی نمائش کا اہتمام پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر اور سابق وزیراعظم کی صاحبزادی مریم نواز نے ایک بھر پور پریس کانفرنس میں کیا اور پھر میڈیا اسے سپر ہٹ کرانے میں کامیاب ہو گیا۔ فلم میں سسپنس، بلیک میلنگ کے اتار چڑھاؤ خاصے دلچسپ اور قابل توجہ ہیں لیکن کہانی لکھنے والے نے ’’ہیرو اور ہیروئن‘‘ کے بجائے معاشرتی غنڈوں اور مافیا کی مدد سے بات آگے سے آگے بڑھائی ہے۔ اسکے مرکزی کردار راولپنڈی کے دو پرانے آشنا رہائشی ہیں، ایک صاحب منصب اور دوسرا کاروباری۔ فلم کی ابتدا میں صاحب منصب سے ایک ملاقات میں کاروباری آشنا شخص ایک بڑے ڈان کے حوالے سے جزا و سزا کی بات کرتا ہے، اسے مستقبل کے سبز باغ دکھاتا ہے اور پھر جتنی گفتگو کرتا ہے، وہ منصب کے اعتبار سے درست نہیں۔ پھر بھی صاحب منصب اسے اپنی مجبوری اور دباؤ سے بے گناہی کی یقین دہانی کراتا ہے لیکن بات اس سے بھی آگے بڑھتی ہے کیونکہ جونہی اس فلم کا تعارفی شو ختم ہوتا ہے، صاحب منصب اپنی صفائی میں فلم کو جعلی، من گھڑت، جھوٹی اور معروضی قرار دیتے ہوئے انکشاف کرتا ہے کہ مملکت کے ڈان یعنی گارڈ فادر نے اسے مختلف ذرائع سے سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں، پھر بھی میں نے حق پر قائم رہنے کا فیصلہ کرتے ہوئے اپنی جان و مال کو اللہ کے سپرد کیا اور ضمیر کے مطابق اپنی آئینی اور قانونی ذمہ داری ادا کی، جسے متنازع بنانے کے لیے یہ فلم منظر عام پر لائی گئی ہے۔ فلم کی کہانی میں قدم قدم پر تضاد اور ایڈونچر ہوں تو یقیناً سسپنس پیدا ہوتا ہے اور دیکھنے والا جلد از جلد اسکا انجام دیکھنا چاہتا ہے لیکن یہاں معاملہ برعکس رہا۔ اس لیے کہ ’’گارڈ فادر‘‘ پہلے ہی قانونی گرفت کے باعث جیل میں تھا اور فلمی مہم جوئی اسکی رہائی کی کوشش دکھائی دی جبکہ فلم کے ’’تعارفی شو‘‘ کے اختتام پر دوسری فلموں کی نمائش کا وعدہ بھی کیا گیا۔ یوں ابھی تک سسپنس باقی ہے اور شائقین انجام کی تمنا لیے اس بات کی شرطیں لگا رہے ہیں کہ گارڈ فادر جیل سے رہائی پائے گا کہ نہیں۔ زیادہ لوگوں کا خیال ہے کہ کہانی خیر و شر کی روایتی ہے اس لیے اسکا انجام بخیر ہو گا اور شر سزا پائے گا تاہم کچھ لوگوںکا خیال ہے کہ ڈان کے کارندوں نے کہانی کے تانے بانے بھی ایسے بنے ہیں کہ اسکی مہم جوئی کامیاب ہو گی اور وہ سرخرو ہو کر نا صرف رہائی پائے گا بلکہ ایک مرتبہ پھر چھا جائے گا۔ ایسے لوگ خوش ہیں، ان کا دعویٰ ہے کہ ’’رُل تے گئے آں۔ پر چس بڑی آئی اے ‘‘۔
میرے خیال میں اس فلم کے کہانی کار نے گارڈ فادر کی محبت میں جذباتی ہو کر بہت سے فالتو سین لکھ کر ہیرو کو بھی ولن بنا دیا ہے۔ فلم کا ہیرو غائب اور ولن اپنے مفاد میں معاشرتی روایات اور قانونی خلاف ورزیوں سے پورے نظام کو تہس نہس کرتے ہوئے سب کچھ بھسم کریں گے کیونکہ کہانی کا مرکزی کردار ’’صاحب منصب‘‘ ایک حلفیہ بیان کے کاغذ سے خود بے توقیر ہو چکا ہے۔ اس نے ’’بلین یوروز‘‘ کی پیشکش ٹھکرائی لیکن خود یہ بات مان گیا کہ اس نے گارڈ فادر سے بھی ملاقات کی اور جب اپنے ضمیر کی تسکین کے لیے خانہ خدا پہنچا تو ہالی ووڈ اور بالی ووڈ کی فلموں کی طرح ایک بڑا گینگ اسکے مد مقابل تھا، جس نے جان سے مار دینے کی دھمکی کے علاوہ بچوں کے اغوا کا پیغام دیا اور جلا وطنی کی پُرکیف زندگی گزارنے کا مشورہ بھی۔۔۔ فلم کے منطقی انجام اور پوری کہانی سمیٹنے کے لیے اب معاملہ عدالت عظمیٰ میں پہنچ چکا ہے، یقیناً ویڈیو نے ریاست کی سیاست میں نا صرف ہلچل پیدا کی بلکہ اپنے کھڑاک سے عوام الناس کے کان بھی کھڑے کر دیے۔ مضبوط کہانی کے باوجود جا بجا ایسے جھول موجود ہیں جن کا فائدہ شاید گارڈ فادر کو نہ ہو سکے اور تمام تر مہم جوئی کا نتیجہ الٹ نکل سکتا ہے۔ اس کھڑاک نے نظام انصاف، احتساب اور قومی اداروں کی کارکردگی کے حوالے سے ان گنت سوالات جنم دے دیے ہیں، جن کے جوابات ’’ریاست اور عوام‘‘ کے حق میں آئین و قانون کا سہارا لے کر ’’عدالت عظمیٰ‘‘ کو دینا پڑیں گے کیونکہ جہاں قومی اداروں کو تنقید کا نشانہ بنا کر تباہی کے دھانے پر پہنچایا جاتا ہے وہاں انصاف کی شنوائی نہیں ہوتی اور جب انصاف ناپید ہو جائے گا تو معاشرہ تباہ ہو جاتا ہے۔ مافیا اور گارڈ فادر کا دور دورہ پوری قوم کو گمراہی کی دلدل میں دفن کر دیتا ہے۔ میرے خیال میں عدالت کہانی کے تمام کرداروں کا مکمل اور حتمی جائزہ لے کر اسکے سیاق و سباق سے نتیجہ اخذ کرنے کی کوشش کرے گی کیونکہ اگر کہانی کی ویڈیوز ’’بائی چانس‘‘ مافیا یا گارڈ فادر کے ہتھے لگی ہوتیں تو بات شاید بن جاتی۔ کہانی میں مزید ویڈیوز کا تذکرہ فخریہ انداز میں موجود ہے جسکا مطلب ہے کہ گارڈ فادر اور اسکے کارندے اپنی ناجائز خواہشات کی تکمیل کے لیے دوسروںکو اپنے جال میں پھنسانے کے لیے اس قسم کی فلمیں بنانے کے عادی مجرم ہیں جو ریاست کے آئین و قانون کے برعکس ہے۔ آئین تحریر و تقریر کی مکمل آزادی دیتا ہے لیکن اس میں ایسی گنجائش موجود نہیں کہ خواہشات کی تکمیل کے لیے من مانیاں کی جائیں۔
مرکزی کردار صاحب منصب بھی فلم کے ردعمل میں وہ کچھ کر بیٹھے کہ ان کا بری الذمہ ہونے کا اب سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کیونکہ انہوں نے بلیک میلنگ میں نتائج سے خوفزدہ ہو کر خاموشی جیسا جرم کیا، جس سے معاملات ناقابل برداشت حد تک بگڑے۔ وہ ابتدائی مراحل میں انکشافات ازخود کر دیتے تو یقیناً انہیں معاف کیا جا سکتا تھا لیکن انہوں نے چاہتے یا نہ چاہتے ہوئے بھی اپنا پورا کردار نبھایا اور بھانڈا مافیا نے پھوڑا، جس سے وہ اپنے مطلب کے نتائج حاصل کرنا چاہتا تھا۔ ایسی صورتحال میں ’’صاحب منصب‘‘ نا صرف خود بے اعتبار ہو گیا بلکہ اس نے اپنی برادری اور ملک و ملت کی بدنامی کے لیے ان گنت سوال پیدا کر دیے۔ اس لیے فلم کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ اسکا انجام اس انداز میں ہو کہ معاشرے کے ناسور کیفر کردار تک پہنچیں اور مایوسی و بے چینی کی فضا میں امید کی ایسی کرن پیدا ہو کہ قوم میں مایوسی کے بجائے جینے کا جذبہ پیدا ہو۔ اسے احساس رہے کہ کوئی خواہ کتنا ہی ’’صاحب منصب‘‘ اور طاقت ور کیوں نہ ہو، اسے اس کے کیے کی سزا ضرور ملے گی یعنی ’’انصاف اور قانون‘‘ کے کٹہرے میں گارڈ فادر اور مافیا کے ڈان سزا پا گئے تو پھر صاحب منصب بھی اپنی لرزشوں پر بے توقیر ہو کر اپنے جرم کی سزا ضرور پائیں گے۔ فلم ’’بیٹی کا کھڑاک‘‘ اس حوالے سے ہمیشہ موضوع بحث بنے گی۔