22 اکتوبر 2019
تازہ ترین

اسمبلی میں آئینی مسئلہ اسمبلی میں آئینی مسئلہ

پچھلی دو دفعہ تو میں نے حکومتِ پاکستان خصوصاً وزیراعظم عمران خان کو کئی ایک تجاویز پیش کیں، اُن تک پہنچی یا نہیں، معلوم نہیں، اتنا ضرور یاد ہے کہ عمران کو حلفِ وفاداری اُٹھانے کے چند روز بعدہی میں نے اُنہیں مبارک باد کا پیغام ارسال کیا تھا، جس کی کاپی اُس وقت کے وزیر اطلاعات فواد چوہدری کو بھی بھیجی تھی، لیکن کوئی جواب موصول نہیں ہوا، ایک دفعہ اور ہمت کرلیتے ہیں شاید شنوائی ہوجائے، مجھے مسرت تو تب ہوگی جب عمران صاحب کو وہ تجویز مل جائے۔ ماضی میں بھی جب دوسری حکومتیں تھیں، ایسا کرنے کا کچھ فائدہ نہ ہوا، ہاں اتنا ضرور قبول کروں گا کہ بے نظیر کی دوسری حکومت کے بعد اُن کی قربت حاصل ہوگئی تھی، لیکن چونکہوہ تیسری بار اقتدار میں نہ آسکیں، اس لیے اس کا کوئی فائدہ نہ تھا۔
ایک لمبی جلاوطنی کے بعد جب بے نظیر بھٹو 2007 میں واپس آئیں تو پہلے جب وہ دبئی میں ہی تھیں ایک پریس کانفرنس میں آمنا سامنا ہوا، اُس سے پہلے مجھ سے آغا خان میں ملاقات ہوئی، وہاں اُن کے شوہر نامدار بیماری کے بہانے زیر علاج تھے، بے نظیر کو معلوم تھا کہ زرداری جیل سے رہائی کے بعد مجھے اور میرے ساتھی مظہر عباس کو ایک دعوت پر بلاچکے تھے، ہم آغا خان ہاسپٹل سے نکل کر سیدھے ایئرپورٹ روانہ ہوگئے، اُن کے مشیر خاص (نام یاد نہیں آرہا) لیکن بے نظیر کی سیکریٹری ناہید صفدر نے مجھے بلاول ہائوس بلاکر بے نظیر سے ملنے کا ایک اور موقع دیا۔ ہم لنچ تناول کررہے تھے تو زرداری کے معالج خاص (جو غالباً پٹارو کیڈٹ کالج کے دوران ہی اُن کے دوست بن چکے تھے) بھی آگئے، بات چیت ہوتی رہی، دبئی میں جلاوطنی کے دوران جب بھی میں دبئی گیا، بے نظیر نے میرا والہانہ استقبال کیا۔ شاید اس وجہ سے کہ میں نے گلف نیوز (جو دبئی کا بہترین اخبار تھا) کا پاکستان میں نمائندہ ہونے کے ناتے اُن کی بہت تشہیر کی تھی، اس لیے وہ مجھے عزت، قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھتی تھیں۔ بے نظیر سے دبئی کے Rotana ہوٹل میں میری سلام دعا ہوئی اور بس، میں دبئی میں ایک رات امریکا جاتے ہوئے رُکا تھا، صبح سویرے اخبار میں پڑھ کر کہ بے نظیر صاحبہ پریس کانفرنس کررہی ہیں، وہاں پہنچ گیا، ایک ازدحام تھا اخبارات اور ٹی وی چینلز کے نمائندوں کا، خیر خدا خدا کرکے کسی طرح اندر پہنچا، دیکھا بے نظیر، آصف زرداری اور دونوں بیٹیاں بختاور اور آصفہ وہاں موجود تھیں، صحافیوں کی خواہش پر بے نظیر نے اپنے بچوں سے بھی سوالات کی اجازت دے دی۔ وہ بلاشبہ ایک انتہائی خوش اخلاق، اعلیٰ تعلیم یافتہ، ذوالفقار علی بھٹو کی صاحبزادی ہونے کی وجہ سے تھوڑی بہت تو بھٹو کی عادتیں اُن میں بھی آگئی تھیں، میں نے 1990 کے انتخابات میں بلاول ہائوس کراچی میں اُن کا انٹرویو کیا، سوالات کے جواب دینے میں تو ماہر تھیں، بلکہ سوال چھوٹا اور جواب لمبا چوڑا، لیکن یہ ایک عادت اکثر و بیشتر سیاست دانوں میں ہوتی ہے۔ میرے آخری سوال کے جواب میں کہ وہ بہترین وزیراعظم بنیں گی، ایک مسکراہٹ اُن کے چہرے پر نمایاں ہوئی اور کسر نفسی سے کام لیتے ہوئے محض ایک جملے ہی پر اکتفا کیا کہ دوسرے بہترین جانتے ہیں۔ خوبصورت جواب تھا، اپنی تعریف خود کرنے والوں کو اچھا نہیں سمجھا جاتا۔
2007 میں پاکستان تشریف لائیں، اُس وقت کے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار چوہدری کے گھر گئیں اور بعد میں لیاقت باغ راولپنڈی میں تقریر کے بعد شہادت پائی، خدا اُنہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ انسانیت کی خدمت سب سے بڑی عبادت ہوتی ہے، وہ اس معاملے میں اپنے والد سے ایک قدم آگے تھیں، ذوالفقار علی بھٹو کبھی بہت رحم دل اور کبھی غصہ اور نفرت سے لبریز نظر آتے تھے، جے اے رحیم پاکستان کے فرانس میں سابق سفیر، جنہوں نے بھٹو کو سیاست کی الف ب سِکھائی، وہ اُنہی کے خلاف ہوگئے، صرف اس لیے کہ ایک دعوت میں اُنہوں نے درخواست کی تھی کہ کھانا جلدی لگوادیا جائے، بس کیا تھا پُرانی دوستی غیظ و غضب میں تبدیل ہونے میں دو منٹ نہیں لگے۔ اُس وقت کے بھٹو صاحب کے ساتھ رہنے والے سپرنٹنڈنٹ پولیس نے پوچھا کہ کیا ہمیشہ کے لیے، بھٹو مسکرائے اور کہا نہیں نہیں، بس تھوڑی خبر لے لوں۔
بے نظیر ایسی نہیں تھیں، وہ شفقت کا مجسمہ تھیں، میں نے کہا نا کہ میں نے اُن کے ساتھ بہت اچھا وقت گزارا ہے۔ ایک  بار دبئی کے ہوٹل میں، میں اور میری اہلیہ ٹھہرے ہوئے تھے، قریباً ظہر کے بعد جب میں ہوٹل آیا تو دیکھا کہ بیگم صاحبہ غائب ہیں، پوچھنے پر پتا چلا کہ بے نظیر اُنہیں اپنے ساتھ کہیں لے گئی ہیں۔ میری اہلیہ جب واپس آئیں تو بتایا کہ سٹی سینٹر (جو دبئی کا بہت بڑا شاپنگ مال ہے) میں مجھے اور بچوں کو آئس کریم کھلانے لے گئی تھیں۔ ایک اور قصّہ بتاتا چلوں کہ میں اور میری اہلیہ اقبال میمن کی بیٹی کی شادی میں مدعو تھے۔ ہم شادی میں شرکت کرنے ہوٹل پہنچے، وہاں بے نظیر بھی آئیں، میں اُس وقت سندھ کا وزیر اطلاعات تھا، میرے ساتھ اُس وقت کے وزیر داخلہ وسیم اختر (جو آج کل میئر کراچی ہیں) معذرت کرکے چلے گئے، میں بیٹھا رہا۔ میری اہلیہ اپنی ٹیبل سے اُٹھیں، بے نظیر سے ملیں، سابق وزیراعظم نے اُنہیں گلے لگایا، پیار کیا اور ساتھ ہی بیٹھے ہوئے بلاول بھٹو سے کہا کہ بیٹا آنٹی کو اُٹھ کر سلام کرو، بلاول نے جھک کر ہاتھ ماتھے تک لے جاکر اُنہیں ادب سے سلام کیا۔ یہ ہوتی ہے ماں کی تربیت، افسوس کہ اتنی بڑی ہستی آج ہم میں نہیں۔ جیسے خدا کی مرضی۔
کالم کی ابتدا میں رولز آف بزنس کی بات ہورہی تھی، تو اُس میں 1973 میں اور پھر 2009 اور 2010 اور حال ہی میں 18 ویں ترمیم ہوئی، آئین کوئی آسمانی صحیفہ نہیں، قوموں کی حفاظت کے لیے بنایا 
جاتا ہے، ترمیم ہر آئین میں ہوتی ہے، عمران کو بھی چاہیے کہ رولز آف بزنس میں ترمیم کرکے پروڈکشن آرڈر کا سلسلہ ختم کردیں، لیکن شاید اُس کے لیے دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہوگی، دیکھیں اُن کی قسمت میں کیا لکھا ہے، اُمید تو یہی ہے کہ وہ آئندہ انتخابات میں یا تو خود سے کرائیں یا 2023 میں ہونے والے الیکشن میں اُنہیں دو تہائی اکثریت حاصل ہوجائے گی جس طرح نواز شریف کو 1993 میں ہوئی تھی۔ اﷲ تعالیٰ بلاشبہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے، وہ کچھ بھی کرسکتا ہے۔
بقیہ: حد نظر