30 ستمبر 2020
تازہ ترین

’’اسلامی جمہوریہ پاکستان‘‘ ’’اسلامی جمہوریہ پاکستان‘‘

وزیر اعظم عمران خان کو اب تک لگ پتا گیا ہو گا کہ اس ملک سے کرپشن ختم کرنا پاکستان کے تاجروں سے ٹیکس وصول کرنے کے مترادف ہے۔ اس کے باوجود اگر عمران خان اگر اپنی ضد پہ اڑے رہیں کہ وہ یہ کام پایۂ تکمیل تک پہنچا کر دم لیں گے تو انکو سلام کرنے کو جی کرتا ہے۔ انکل سرگم کو یقین ہے کہ تین حروف پہ مشتمل ہمارا ملک جو ’’اسلامی جمہوریۂ پاکستان‘‘ کہلاتا ہے، اور جو 1947ء کو آزاد ہوا، اب ان شاء اﷲ جمہوریہ بھی بن جائے گا البتہ اس کے اسلامی بننے میں اتنا ہی وقت لگے گا جتنا اس ملک سے رشوت، نا انصافی اور کرپشن کو دور کرنے میں لگے گا۔ ہم ’’ماشا اﷲ اسلامی‘‘ اور ’’ان شاء اﷲ جمہوری‘‘ ملک کے جذباتی لوگ دنیا بھر کے اسلامی ملکوںکے لیے اتنا اندھا دھند پیار رکھتے ہیں کہ فلسطین ہو یا بوسنیا، افغانستان ہو یا کشمیر ہم ان پہ مصیبت آنے پہ ان کی حمایت میں سڑکوں پہ نکل آتے ہیں، جلسے جلوسوں کی شکل میں اکٹھے ہو کر ان سے اپنی محبت اور عقیدت کا اظہار بلند بانگ نعروں سے کرتے ہیں، حتیٰ کہ کسی مسلمان ملک میں اُس کے دشمنوں سے لڑنے کے لیے اپنی فوج بھیجنے اور اپنے فوجی جوان تک قربان کرنے سے دریغ نہیں کرتے۔ مگر جواب میں ان اسلامی ممالک کی ہم سے نسبت کا یہ عالم ہے کہ اگر پاکستان کی سرحدوں پہ بھارتی فوج اٹیک کرنے کیلئے تیار کھڑی ہو تو مجال ہے جو سوائے ہمارے ایک غیر مسلم پڑوسی ملک چین کے، کوئی بھی اسلامی ملک ہمیں حمایت کا یقین دلائے یا کم از کم ہماری حوصلہ افزائی کے لیے ہی کوئی رسمی سا بیان بھی دے دے۔
 مسلمان ملکوں پہ ہمارے اندھا دھند اعتماد کے ساتھ ساتھ اپنے ملک میں ہماری اپنی بڑی بڑی برگذیدہ ہستیوں پہ اعتقاد کا یہ عالم ہے کہ ان بزرگان دین کے مزاروں پہ قرآن خوانی کرنے کے بجائے ان مقدس مقامات پہ مجرے کراتے ہیں، عرس کے بہانے چرس اور بھنگ کے نشے کے جشن مناتے ہیں۔ دھمال کی آڑ میں سرعام ناچتی عورتوںکی تماش بینی کرتے ہیں۔ بہت عرصہ پہلے ایک خبر کے مطابق ایک تھانے میں بند طوائفوں سے تھانیدار صاحب نے مجرا کرایا تو اس وقت کے گورنر پنجاب نے سخت ایکشن لیتے ہوئے انکوائری کمیٹی بٹھا دی۔ اس سے پہلے اُن دلیر گورنر نے لاہور کے تھیٹروں میں نام نہاد ڈراموں کی آڑ میں مجروں پہ پابندی کے احکامات صادر کر کے حقیقی سٹیج ڈراموں کو بے موت مرنے سے بچانے کا بھی کارنامہ سرانجام دیا۔ مگر ہم نے گورنر صاحب سے سوال پوچھا کہ کیا اُن کے اس ایکشن سے مجرے ختم ہو جائیں گے؟ پھر اپنے سوال کا خود ہی جواب دیا کہ ہمارے خیال میں مجرے ختم نہیں ہوں گے صرف جگہ تبدیل کر لیں گے، بازار حسن سے شفٹ ہو کر کسی جمعہ یا اتوار بازار میں جا بسیں گے۔
 اسلامی نکتہ نظر سے تو ایک اسلامی مملکت میں ایسا ’’آرٹ‘‘ ممنوع ہو جانا چاہیے مگر پھر خیال آیا کہ ہم پہلے کونسا ایسا اسلامی کام کر رہے ہیں؟ بقول انکل سرگم، ہمیں بازار حسن بند کرنے کے بجائے ایسے بازاروں کو اپنی مخصوص جگہ پہ قائم رکھتے ہوئے انہیں لائسنس جاری کر دینے چاہئیں تاکہ جنسی فرسٹریشن کی ماری قوم کی توجہ گلی محلوں سے ہٹ کر ایک خاص علاقے تک ہی مرکوز رہے۔ مجروں کی تماش بین یہ قوم جب اﷲ کے احکامات پہ عمل نہیں کرتی تو ایک سرکاری اہلکار کے آفس آرڈر کو کیا لفٹ کرائیگی؟ گورنر صاحب کو ایک تھانے میں مجرا ہونے کی اطلاع تو مل گئی مگر انہیں شاید اس بات کا علم نہیں کہ امریکا اور یورپ میں ’’پاکستان کا یوم آزادی‘‘ منانے کے لیے بلوائے جانے والے طائفوں میں کتنی طوائفیں شامل ہوتی ہیں۔ امریکا اور یورپ میں قانونی اور غیر قانونی طور پہ بسنے والے پاکستانی اور نام نہاد ثقافتی انجمنوں کے پروموٹرز اپنے اور اپنے ساتھیوں کی عیاشی کے لیے سارا سال جمع کی ہوئی رقم سے ثقافتی طائفے اس لیے نہیں بلواتے کہ انہیں پاکستان کی عزت یا ثقافت دیار غیر میں اجاگر کرنا ہوتی ہے بلکہ انہیں طائفوں سے زیادہ طوائفوں سے اپنی حاجت پوری کرنا ہوتی ہے۔ کیا گورنر صاحب ان غیر سرکاری طائفوں کے خلاف بھی ایکشن لے سکتے ہیں؟ نہیں، کبھی نہیں۔ اس لیے کہ جب کسی قوم کا کردار صرف اور صرف جنسی بے راہ روی کا شکار ہو جائے تو اسے کوئی صدر یا کوئی وزیر اعظم اپنے آفس آرڈر یا صدارتی حکم سے نہیں روک سکتا۔ 
بقول انکل سرگم پاکستان میں چھپنے والا کوئی میگزین اُٹھا کر دیکھ لیں، کوئی ہے ایسا رسالہ کہ جس کے ٹائٹل پہ خوبرو عورت کی تصویر نہ چھپی ہو؟ ہم گھریلو عورت سے بلا معاوضہ گدھوں جیسا کام کاج کرانے اور بازاری عورت سے پیسہ کمانے اور پیسہ لٹانے والی قوم بن چکے ہیں۔ ہم دفتروں میں کام کرنے نہیں بلکہ چھٹی ہونے کا انتظار کرنے جاتے ہیں۔ ذرا سوچیے گورنر صاحب کہ جس ملک میں روزانہ لاکھوں اور جمعہ کے روز کروڑوںکی تعداد میں لوگ نماز پڑھتے ہوں، جس ملک میں ہر سال ایک لاکھ حاجیوںکا اضافہ ہوتا ہو، لاکھوں کی تعداد میں لوگ زکوٰۃ ادا کرتے ہوں، اُس ملک کی حالت دن بدن کیوں خراب ہوتی جا رہی ہے؟ ہم سے اﷲ ناراض ہو چکا ہے یا وہ بزرگان دین؟ کہ جن کے مزاروں پہ ہم کلام پاک کا ورد کرنے جاتے ہیں اور وہاں چرسیوں، بھنگیوں اور مجرے کے تماش بینوں کو عرس مناتا پاتے ہیں۔ اس ملک کے نام کے ساتھ اسلامی 
جمہوریہ لگانے کے بجائے اسے ’’اسلامی ضروریہ‘‘ لگانے کا سوچیں اس لیے کہ ہم نے اسلام کو اپنی آسانی اور ضرورت کیلئے اپنا رکھا ہے۔ ہم آسیہ بی بی کو سنگسار ہوتا تو دیکھنا چاہتے ہیں مگر تھانوں اور تھیٹروں میں ایسی کئی مسلمان بیبیوں کو نچانا غیر اسلامی نہیں سمجھتے۔ ہم فلسطینی اور کشمیری مسلمان عورتوں کی بے حرمتی پہ آنسو بہاتے ہیں مگر اپنے ملک کی مسجدوں، تھانوں اور ہسپتالوں میں کسی مظلوم عورت سے زیادتی کر کے نو مولود بچہ فٹ پاتھ یا غسل خانے میں پھینکنا غیر اسلامی نہیں سمجھتے۔
میں آج کل چند دنوں کیلئے امریکا میں ہوں اور سوچ رہا ہوں کہ اگر مجھے زیادہ دیر امریکا میں رہنا پڑا تو میں زندہ کیسے رہوں گا؟ مجھے تو رہ رہ کر اپنے ملک کی آلودگی یاد آئے گی۔ فیصل آباد، گوجرانوالہ، سیالکوٹ، ملتان اور ساہیوال کی گرد آلودہ فضا نہیں ہو گی تو میں تو بیمار پڑ جاؤں گا۔ سرگم نے مشورہ دیا کہ آئندہ جب بھی ملک سے باہر جاؤ تو یاد سے اپنے دیس کی ایسی چیزیں ساتھ لے جانا، جن کی یاد اسے وہاں جا کر ستائے تو انہیں دیکھ کر اپنے دیس یاد تازہ کر لیا کرنا۔ جاتے وقت اپنے ساتھ پینے کا آ لودہ پانی، پانی میں ملا دودھ، مرچوں کی شکل میں اینٹوں کا برادہ، سوکھی روٹیاں پیس کر بنایا جانے والا خالص آٹا، جعلی دواؤں کے کیپسول، نقلی اسپرین، بے ہنگم ٹریفک، دھواںدیتی گاڑیاں، سڑکوںکے دونوں اطرف پھیلا ہوا کوڑا کرکٹ، دہشت گردی اور اخبارات میں چھپنے والی سابق حکمرانوں کی لوٹ مار کی خبروں کی کٹنگ لے جانا تا کہ تم جہاں رہو تمہیں وہاں اپنے دیس کا ماحول ملتا رہے۔ میں نے پوچھا، کھانے پینے والی دیسی چیزیں اور پلوشن کے نمونے تو میں ساتھ لے جاؤں گا مگر دہشت گردی اور ڈاکے قتل غارت والا ماحول کیسے لے کے جاؤں گا؟ سرگم بولا، تو پھر یوں کرو کہ اپنے ساتھ ایک پُرانی پنجابی فلم کی ویڈیو کیسٹ ساتھ لے جانا، اس میں تمہیں سب کچھ مل جائے گا۔
بقیہ: پتلی تماشا