10 اپریل 2020
تازہ ترین

اصل تبدیلی کیا ہے؟ اصل تبدیلی کیا ہے؟

وہ جو دعوے اور نعرے تھے… ہم350  ڈیم بنائیں گے، بجلی اور پانی کی کبھی کوئی کمی نہیں ہو گی۔
ایک ارب سے زیادہ درخت لگائیں گے، ہریالی بھی ہو گی ماحول بھی خوشگوار ہو گا، آکسیجن اتنی زیادہ ہو گی کہ برآمد کر کے زرمبادلہ حاصل کریں گے۔ پھر بھی وہ جو دو سو ارب ڈالر پاکستانیوں نے ڈاکہ زنی اور لوٹ مار کر کے بیرونی بینکوں میں رکھا ہوا ہے جس کا فائدہ مملکت خداداد کو نہیں کچھ اور ملکوں کو ہو رہا ہے واپس لائیں گے، عوام کی بہتری اور فلاح کیلئے استعمال ہو گا۔
ایک کروڑ نوکریاں دیں گے۔ وہ جو چار کروڑ بیروزگار ہیں انہیں صبح و شام کام میں مصروف کریں گے۔ ترقی اور خوشحالی دروازوں پر دستک دے گی۔ ظاہر ہے جب گھر ہی نہیں تو دروازوں پر دستک کیسی؟ لہٰذا پچاس لاکھ گھر بھی بنا کر دیں گے تاکہ بے گھروں کو گھر ملیں۔ ان گھروں کیلئے شائع شدہ اشتہارات میں جو قیمت لکھی گئی ہے اس سے کم قیمت پر مارکیٹ میں گھر قابل فروخت موجود ہیں۔
وی آئی پی کلچر ختم کر دیں گے، مہنگائی تو بالکل ہی نہیں رہے گی۔ ڈالر کی قیمت ساٹھ روپے تک لائیں گے۔ یہ جو ایک سو ساٹھ کا ہو گیا ہے نا، یہ سب ماضی کے حکمرانوں کی کرپشن اور لوٹ مار کا نتیجہ ہے۔ اسی لیے تو ہم نے قرضہ کمیشن بنانے کا فیصلہ کیا ہے جو پچھلے دس سال میں ملکی اور بیرون بینکوں سے ملنے والے قرضوں کی جانچ پڑتال کر کے ملزموں کو مجرم بھی بنائے گا اور ان کیلئے سزاؤں کا اہتمام بھی کرے گا۔ جنرل مشرف کا دور اور کولیشن فنڈز شامل نہیں۔ بات وی آئی پی کلچر اور پروٹوکول کے خاتمہ کی ہوئی تو یقیناً ایسا ہی ہوا۔ وزیراعظم ہاؤس کی بھینسیں فروخت کر دی گئیں، پرانی کاریں بھی فروخت کر دی گئی ہیں۔ تو ’’مشیر خزانہ‘‘ کی خواہش اور اس کا احترام ہے کہ وزیراعظم ہاؤس کے اخراجات 98 کروڑ سے 197 کروڑ کر دیے ہیں۔ یہ مہنگائی کی وجہ سے ہوا ہے ورنہ ہماری کوئی خواہش نہیں تھی۔ آپ کو تو پتا ہے پوری دنیا معاشی بحران کی زد میں ہے۔ بدقسمتی سے جنگی ماحول نے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھائی ہے جس کی وجہ سے ڈالر کی قیمت بھی بڑھی اور پٹرول بھی مہنگا کرنا پڑا۔ گھبرانے کی کوئی بات نہیں بہت جلد پاکستان ترقی کی شاہراہ پر کھڑا ہو گا۔ لوگ پاکستان میں نوکریاں تلاش کرنے آیا کریں گے، حفیظ شیخ کی طرح۔ بات صرف نوکریوں کی ہی نہیں لوگ پاکستان سے قرضہ مانگنے آیا کریں گے ہم ان کے سامنے سود خور بنئے اور پٹھان نہیں بنیںگے بلکہ انہیں آسان شرائط پر یہ قرضہ دیں گے البتہ برادر اسلامی ملکوں کیلئے تو ہم ’’قرضہ حسنہ‘‘ رکھیں گے اس کیلئے ہم علیحدہ ادارہ ’’اسد عمر‘‘ کی سربراہی میں بنائیں گے۔ اسد عمر خاندانی آدمی ہے اور اس میں بہت ٹیلنٹ ہے۔
ظاہر ہے تعلیم کے بغیر ترقی ممکن نہیں اس لیے ہم ملک بھر میں ایک ہزار سے زائد یونیورسٹیاں بنائیں گے۔ آپ کو معلوم ہے ہم نے وزیراعظم ہاؤس اور گورنر ہاؤسز کو یونیورسٹیوں میں تبدیل کرنے کی بہت کوشش کی مگر انگریزوں کی باقیات نے ایسا نہیں ہونے دیا۔ کہا کہ ’’یادگاریں‘‘ محفوظ رہنی چاہئیں اسی لیے تو ہم نے تعلیم کی ترقی کیلئے پرائیویٹ شعبے کو مزید ساتھ ملانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ علم کی دولت ہر اس گھر تک پہنچے جس کے پاس طاقت اور استطاعت ہو، کوئی بھی محروم نہ رہے۔ رہی غریبوں کی بات تو ہم ان کے بچوں کی حفاظت کیلئے ’’پروٹیکشن‘‘ قانون بنا رہے ہیں وہ جہاں بھی کام کریں انہیں مکمل تحفظ حاصل ہو، کوئی ان پر ہاتھ اٹھا سکے نہ ڈنڈا۔ گالی گلوچ کی بھی سزا ہو گی۔
یہ وہ دعوے اور نعرے تھے جو تبدیلی کیلئے لازم تھے۔ یہ الگ بات کہ جب تبدیلی آ گئی تو سب کچھ الٹ ہوا۔ ہمارے لیے تو یہ کچھ نیا نہیں تھا، ہم نے حکومتیں اور حکمران آتے جاتے دیکھے ہیں۔ دعوے اور نعرے کچھ ہوتے ہیں اور ’’اعمال صالح‘‘ کچھ اور ہوتے ہیں۔ عوام کو مسائل و مشکلات میں ایسا الجھا دیا جاتا ہے کہ ان کا حافظ پیٹ میں قید ہو کر رہ جاتا ہے، حقائق کی تبدیلی کا انہیں کچھ احساس ہی نہیں رہتا۔ لہٰذا ہم پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ انہیں کچھ یاد کرائیں، وہ سمجھ پائیں کہ اس تبدیلی کے مقاصد کیا تھے۔
مشیر تجارت نے کہا تھا کہ ہم سی پیک پر نظرثانی کریں گے۔ یہ سی پیک آج کل کہاں ہے؟ اگر کسی کو معلوم ہو تو ہم کو بھی بتائے، اگر ممکن ہو تو ہمالیہ سے بلند دوستی کے کچھ مناظر بھی دکھائے۔
اور پھر بھارت کی طرف سے جنگ کی دھمکیاں اور خطرات میں ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ کہنا بھی یاد کریں جس میں دعویٰ تھا کہ پاکستان کی طرف سے مثبت جواب آئے ہیں۔ اور اب اگر یہ بھی دیکھیں کہ بھارت نے پاکستان کی سلامتی کونسل میں دو سالہ رکنیت کی مخالفت نہیں بلکہ حمایت کی ہے تو کیا مستقبل میں کچھ اور توقعات عبث نہیں بلکہ مودی اور عمران کی خط و کتابت کو گہرائی میں دیکھیں، مذاکرات کے امکانات کو نظرانداز کرنا ممکن ہے اور نہ ہی دونوں سربراہوں کی ملاقات خارج از امکان ہے۔ رہی مسئلہ کشمیر کی بات تو دوستوں کا ایک مدت سے مشور ہ تھا کہ مذاکرات بھی جاری رکھیں اور ماحول کو بھی خوشگوار بنائیں، ایک دوسرے کیلئے تجارتی راستے ہموار کریں۔ بیس سال سے تیار شدہ موٹروے جو ریاست کیلئے بوجھ بنا ہوا ہے اس کے مثبت نتائج حاصل کریں۔
ابتدائی مرحلہ میں افغانستان کے ’’اشرف غنی‘‘ اب کی بار صرف اسلام آباد ہی نہیں لاہور بھی تشریف لائے ہیں جو واہگہ بارڈر کے نزدیک ہے اور جہاں ’’تجارتی منڈی‘‘ کیلئے جگہ بھی مخصوص ہو چکی ہے۔ اشرف غنی نے ٹرانزٹ ٹریڈ پر بات بھی کی ہے اور اپوزیشن لیڈر شہباز شریف اور بلاول بھٹو سے ملاقات بھی کی ہے۔ یاد رہے کہ دونوں اپوزیشن لیڈر بھارت سے بہتر تعلقات اور تجارت کے حامی ہیں۔
اس سارے پس منظر میں واضح منظر آئی ایم ایف کے مرتب کردہ بجٹ اور اس کی ترجیحات پر عملدرآمد اور ان کی اہمیت ہے۔ ظاہر ہے اب وہی ہو گا جو مالیاتی اداروں کے سرمایہ کار ممالک اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کی خواہش اور ضرورت کے مطابق ہو گا۔ فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے جب معاہدہ لاہور ہوا تو دونوں طرف سے دائیں بازو کے انتہا پسندوں نے ایک دوسرے سے ہاتھ ملایا تھا۔ اب بھی یہ کام ویسے ہی ہو گا۔ دونوں طرف کی سلیکشن عالمی مافیا کی خواہش اور ضرورت کے مطابق ہے۔ البتہ ’’مُرکل ڈاؤن‘‘ پالیسی کے تحت اگر اس خطے کے عوام کو غربت اور جہالت کے خاتمہ کیلئے کچھ حاصل ہو جائے تو وہی غنیمت ہے۔