10 اپریل 2020
تازہ ترین

اُردن کیلئے ریلیف کا سامان اُردن کیلئے ریلیف کا سامان

بحرین اکنامک ورکشاپ بے نتیجہ ختم ہو چکی ہے، جوکہ اُردن کیلئے اطمینان بخش ہے۔ فلسطینیوں کے بعد اُردن بھی ٹرمپ امن منصوبے کے ان چند فریقین میں شامل ہے جوکہ وائٹ ہاؤس کے پروگرام سے مطمئن نہیں۔ اُردن نے منامہ کانفرنس میں شرکت کا اعلان بھی کافی تاخیر سے کیا تھا۔ اس اعلان سے قبل شاہ عبداللہ کئی مرتبہ اس بات پر زور دیا کہ مشرق وسطیٰ میں دائمی امن کا واحد راستہ دو ریاستی حل ہے۔ دوسری جانب فلسطینیوں نے امریکی منصوبے پر اعتراضات پہلے سے واضح کر دیئے تھے، اُردن کیلئے ٹرمپ کے یکطرفہ منصوبے کی مزاحمت کرنے کی اپنی وجوہات ہیں۔ مشرقی یروشلم کو خودمختار فلسطینی ریاست کا دارالحکومت بنانے پر زور دے کر اُردن نے مقدس شہر کے مستقبل میں منفرد اور خصوصی دلچسپی کی نشاندہی کر دی ہے۔ 
جون 1967ء میں اسرائیل کے قبضے سے قبل اُردن کا ہاشمی خانوادہ بیت المقدس کے مسلم اور مسیحی مقدس مقامات کا متولی تھا۔ اسرائیل کے ساتھ 1994ء میں امن معاہدے، بعدازاں فلسطینی اتھارٹی نے بھی اردن کے اس کردار کو تسلیم کیا۔ عرب اور دیگر مسلم ممالک کے مکہ میں ہونیوالے حالیہ اجلاس کے علاوہ دیگر اہم تقریبات میں بھی اردن کے اس خصوصی کردار کو ہمیشہ تسلیم کیا گیا۔یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کے ٹرمپ کے یکطرفہ فیصلے سے اردن کا یہ کردار خطرے میں پڑ گیا تھا، کیونکہ اس فیصلے بعد سے نیتن یاہو حکومت اور یہودی انتہا پسندوں کی الحرم الشریف میں مداخلت بہت بڑھ گئی ، جوکہ امن معاہدے کے واضح خلاف ورزی ہے۔ نیتن یاہو کابینہ کے بنیاد پرست وزیر یہودیوں کو مسجداقصیٰ کے احاطے میں اگر یہودیوں کو عبادت کرنے کی اجازت دینے کی باتیں کر رہے ہیں، دوسری جانب یہودی انتہاپسند مسجد کو گرانے اور وہاں یہودی مندر تعمیر کرنے کی باتیں کر رہے ہیں۔ 
جولائی 2017ء میں اسرائیلی حکام نے مسجد کے احاطے میں الیکٹرونک گیٹ نصب کرنے کے اردن کی فیصلے کو چیلنج کیا تھا جوکہ اردن کیساتھ سفارتی بحران کا باعث بنا۔ بعدازاں ، وہ گیٹ ہٹا دیئے گئے۔ ٹرمپ کی ٹیم کے تیار کردہ امن منصوبے میں مقدس شہر میں اردن کے خصوصی کردار کا کوئی ذکر نہیں ہے؛ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ اتوار اسرائیل میں امریکی سفیر ڈیوڈ فریڈ مین اورصدر ٹرمپ کے خطے کیلئے خصوصی نمائندے جاسن گرین بالٹ مشرقی یروشلم میں ایک نئی سرنگ کے افتتاح کی تقریب میں شرکت کی جوکہ ایک فلسطینی گاؤں سلوان سے مسجد اقصیٰ تک جاتی ہے۔ اسرائیل کے اس شرانگیز منصوبے کو مشرقی یروشلم پر اسرائیلی حاکمیت تسلیم کرنے کے ٹرمپ کے فیصلے کی ایک اور کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔مشرقی یروشلم اور مقدس مقامات کے حساس معاملے کے علاوہ اردن نے صدر ٹرمپ کے فلسطینی پناہ گزینوں کو میزبان ملکوں میں بسانے کے منصوبے کو بھی مسترد کر دیا تھا۔ اردن جہاں 20لاکھ سے زائد رجسٹرڈ فلسطینی پناہ گزین ہیں، ان سے متعلق شاہ عبداللہ نے واضح کر دیا تھا کہ 
انہیں اردن میں بسانے کے منصوبے کو کسی صورت قبول نہیں کیا جائیگا۔یہ اعلان کرکے شاہ اردن نے دراصل لیکوڈ تجویز بھی مسترد کر دی تھی جوکہ اس بات پر زور دیتی ہے کہ اردن ایک ’’ڈی فیکٹو فلسطینی ریاست ‘‘ ہے۔ نام نہاد ’’اردن آپشن‘‘ یا متبادل وطن کو پروان چڑھانے میں نیتن یاہو کابینہ کے بعض وزیر پیش پیش ہیں جن میں نفتالی بینٹ سرفہرست ہیں۔ متبادل وطن کی تجویز صرف اہل اردن ہی نہیں، فلسطینیوں کیلئے بھی ناقابل قبول ہے۔ جہاں تک ٹرمپ کی امن ٹیم کا تعلق  ہے جس میں جیرڈ کشنر، گرین بالٹ اور فریڈ مین شامل ہیں، وہ مغربی کنارے اور فلسطینیوں کے مستقبل سے متعلق انتہاپسند اسرائیلی سوچ پر عمل درآمد کر رہے ہیں۔ کچھ روز قبل گر ین بالٹ نے اعلان کیا کہ مغربی کنارہ مقبوضہ نہیں بلکہ متنازع علاقہ ہے، اورغیر قانونی یہودی بستیوں کو نواحی علاقے اور شہر قرار دیا ۔اپنی ساکھ مکمل طور پر کھونے کے بعد ٹرمپ کی ٹیم بحرین میں اپنا آخری پتا پھینک چکی ہے ، جس سے اردن کو کافی چین ملا ہے۔ ارد ن میں یہ تاثر عام ہے کہ اسرائیل نے معاشی تجاویز کے بعض حصوں سرد مہری کا مظاہرہ کیا ۔ ٹرمپ کی امن ٹیم سے اسرائیل کو جو امیدیں تھیں،کوئی رعایتیں دیئے بغیر اس سے کہیں زیادہ اسرائیل کو مل گیا ہے۔ادھر اسرائیل میں ستمبر انتخابات ہو رہے ہیں جبکہ سال کے آخر تک امریکا میں صدارتی دوڑ کا عمل شروع ہو جائیگا۔ 
یوں ، اردن کیلئے یہ بات اطمینان کا باعث بن سکتی ہے کہ ٹرمپ ’’ ڈیل آف دی سنچری‘‘ کچھ عرصہ ساکت رہے گی۔ دوسری جانب اردن کی نظر میں ٹرمپ کی ٹیم مشرق وسطیٰ بحران کے بنیادی امور نظر انداز کرکے خطے کو بڑے نقصان سے دوچار کر رہی ہیں۔دو ریاستی حل کا معاملہ کوڑے دان کی نظر کر دیا گیا ہے، اور جیسے ہی اسرائیل نے توسیع پسندی سے کام لیتے ہوئے مزید یہودی بستیاں قائم کی، دو ریاستی حل پر عمل درآمد ناممکن ہو جائیگا، کیونکہ امریکی پشت پناہی سے مغربی کنارے کے مزید علاقوں کیساتھ اسرائیل الحاق کر سکتا ہے۔ اس امریکی ناعاقبت اندیشی کے اثرات آنے والے وقت میں محسوس کئے جائیں گے۔ اردن اور دیگر فریقین فی الوقت یہی کر سکتے ہیں کہ اس نقصان کو خاص حد تک محدود کرنے کی کوشش اور یہ امید کریں کہ مستقبل قریب میں تل ابیب اور واشنگٹن میں سیاسی تبدیلی آئے گی۔
(ترجمہ: ایم سعید۔۔۔ بشکریہ: عرب نیوز)