16 جون 2019

 آپ ٹیچربننا چاہتے ہیں؟ آپ ٹیچربننا چاہتے ہیں؟

آپ CSS کرنا چاہتے تھے نہ کر پائے اس کے بعد بار بار کوشش کر کے بھی سرکاری نوکری حاصل نہیں کر پائے تو آپ نے کہا چلو ٹیچر بن جاتے ہیں۔ اس طرح سے اب آپ چاہتے نہ چاہتے ہوئے بھی ٹیچر بن گئے۔ یہ بات تو طے ہے جو آپ کا لیول ہے اس لیول کے سٹوڈنٹ مارکیٹ میں آنا بند ہو گئے ہیں۔ اب آپ کا فرض اولین ہے کہ اٹھتے بیٹھتے پوری دنیا کو یہ بتائیں کہ آج کل کے بچے بالکل نہیں پڑھنا چاہتے۔ خود چاہے آپ کلاس میں آدھا گھنٹہ لیٹ جائیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ بچے اگر واقعی پڑھنا چاہتے ہیں تو استاد جب مرضی کلاس میں آئے، شاگرد کو کلاس شروع ہونے سے پہلے موجود ہونا چاہیے۔ چونکہ آپ استاد ہیں اور آپ کا کلاس میں رعب قائم ہونا بہت ضروری ہے تو اس کے لیے بڑی آسان سی ترکیب ہے۔ آپ کا سبجیکٹ چاہے کچھ بھی ہو پہلی چند کلاسوں میں بچوں سے ایسے سوال پوچھیں جو ان کو لاجواب کر دیں جیسے ’’پاکستان میں صدارتی نظام کیوں نافذ نہیں ہو پا رہا اس کی پانچ وجوہات بتائیں‘‘، پاکستان کے تیسرے صدر کون تھے‘‘، ’’پاکستان کے تین افسانہ نگاروں کے نام بتائیں‘‘، ’’پاکستان کے شمال مشرق میں کون سا ملک واقع ہے‘‘، ’’دنیا کی تیسری بڑی چوٹی کون سی ہے‘‘۔ سٹوڈنٹس کا تعلق چاہے میڈیکل سے ہو، انجینئرنگ سے، یا آرٹس سے لگ بھگ سوالوں کی نوعیت یہی ہونی چاہیے۔ غلطی سے کوئی سر پھرا ایک آدھے سوال کا جواب دے بھی دے تو اس سے اسی نوعیت کے مزید 15 سوال پوچھ لیں۔ اب یہ بات تو پتھر پر لکھی جا چکی ہے کہ اس سیشن کے بعد طلبا پر آپ کے علم کی دھاک بیٹھ چکی ہے۔ اب آپ کلاس میں لیٹ آئیں یا دوران لیکچر کوئی بھی بات بغیر ریفرنس کے کہہ دیں یقین مانیں کوئی مائی کا لال سوال نہیں اٹھائے گا۔ پہلی کلاس میں ہی قانون اور ضابطے کی پوری فہرست کلاس کو لکھوا ڈالیں۔ اس کا آغاز کچھ یوں کیجیے میں سیکھنے اور سکھانے کے عمل پر یقین رکھتا ہوں۔ بنیادی طور پر خوش اخلاق ہوں مگر کلاس میں لیکچر کے دوران ڈسپلن کا پابند ہوں۔ میری زندگی کے کچھ اصول ہیں یہ نوٹ کر لیں تاکہ آسانی رہے۔ اس کے بعد ہر اس بات کو اصول کا نام دے دیں جو کل کلاں کو آپ کے لیے مسئلے کا باعث بن سکتی ہے۔
جیسے آپ لوگ کلاس میں وقت پر آیا کریں گے ورنہ حاضری نہیں لگے گی۔
لڑکیوں سے صرف ضرورت کے وقت بات کرنی ہے۔
لیکچر کے دوران کوئی سوال نہیں پوچھنا جو بھی پوچھنا ہے لیکچر کے بعد (یہ اصول لکھواتے وقت چہرے پر شدید سنجیدگی طاری کریں، دیکھا گیا ہے اکثر شریر بچے اس بات کا بعد میں فائدہ اٹھاتے ہیں)۔
کوئی آپس میں بات نہ کرے مجھے شور بالکل پسند نہیں۔
کلاس میں فون کی گھنٹی بجی تو موبائل ضبط کر لیا جائے گا۔
کچھ بھی ہو جائے چھٹی نہیں کرنی۔
مجھے اسائنمنٹ وقت پر چاہیے وغیرہ وغیرہ۔
ہاں یاد آیا آپ یہ ضابطے بتاتے وقت ان کو ذہن نشین کرا دیں کہ ان تمام باتوں کی پاسداری کرنا صرف ان پر لاگو ہے آپ پر نہیں۔ اس طرح کے دو درجن اصول لکھوا کر آپ اپنے آنے والے دنوں کو پُرسکون بنا سکتے ہیں۔ پورے سمسٹر کے نوٹس کی ایک کاپی بنا لیں یہ انٹرنیٹ پر مل جاتے ہیں۔ کہیں سے بھی کاپی پیسٹ کر لیں۔ یہ نوٹس وقفے وقفے سے طلبا کو تھماتے جائیں۔ اب آپ کی بے فکری کے دن شروع ہو چکے ہیں۔ کلاس میں جائیں تو کوشش کریں روز اپنی عظمت کے حوالے سے کوئی نہ کوئی واقعہ ضرور سنائیں، اس سے بچوں پر خوامخواہ تاثر بنا رہتا ہے۔ کلاس میں ہر دوسرے دن اس طرح کی بات ضرور کریں جس سے طلبا کو لگے کہ آپ کو تو یونیورسٹی آف پنسلوانیہ سے بھی آفر تھی مگر آپ نے ٹھکرا دی۔ کچھ دن کے وقفے کے ساتھ جغرافیہ، سیاست، معیشت سے متعلقہ ٹرمز پوچھتے رہیں، اس سے آپ کا احساس برتری اور ان کا احساس کمتری 
قائم رہے گا۔ جس کی وجہ سے آپ مشکل سوالوں سے بچ جائیں گے۔ اسی طرح دن گزارتے جائیں سمسٹر کب پورا ہوا، پتا ہی نہیں چلے گا۔ رزلٹ آنے سے پہلے ہی کلاس کو دبے دبے الفاظ میں سمجھا دیں وہ بہت نکمے ہیں اور آپ نے خصوصی شفقت فرما کر ان کا سال ضائع ہونے سے بچایا ہے۔ اس کے دو فائدے ہیں ایک آپ رتبہ مزید بلند ہو جائے گا، دوسرا آپ نے مارکنگ جیسی بھی کی ہو کوئی ری چیکنگ کرانے کا سوچے گا بھی نہیں۔ ایسے ہی وقت گزارتے جائیں اور مستقبل کے معمار تیار کرتے جائیں۔ کیونکہ آپ کو کوئی پوچھنے والا نہیں۔
بقیہ: فرخ شہباز