18 اکتوبر 2019
تازہ ترین

انگلستان کی حکومت میں انقلاب،مزدور کی حکمرانی انگلستان کی حکومت میں انقلاب،مزدور کی حکمرانی

(28 جنوری 1924ء کی تحریر)
 ایسی حالت میں یہ امر بالکل واضح ہے کہ دنیا نے جو توقعات حزب العمال کی حکومت سے وابستہ کر رکھی ہیں ان کی تکمیل کی صورتیں بہت کم ہیں علاوہ ازیں اس قدر حزم و احتیاط سے حزب العمال کو اپنے بعض مسلمات و عقاید پر عملدرآمد بھی معرض التوا میں ڈالنا پڑے گا۔ اس سے عام مزدوروں میں مسٹر میکڈانلڈ کی حکومت کے متعلق اختلاف رائے پیدا ہونا لازم و لابد ہے۔ غرض حزب العمال کی حکومت کا راستہ بہت پرخار نظر آ رہا ہے۔ اگر ایک جدید انتخاب اور ہو جاتا تو ممکن تھا کہ حزب العمال پارلیمنٹ میں ذی اقتدار اکثریت حاصل کر لیتا ایسی حالت میں بہت سی آسانیاں ہوتیں۔ حالت موجودہ میں تو حزب العمال کی حکومت نہ سمجھنی چاہئے بلکہ آج کل لبرل اور عمال دونوں کی متحدہ طاقت برسراقتدار ہے۔
لیکن ہمارا خیال ہے کہ خارجہ حکمت عملی کے متعلق لبرل جماعت اور حزب العمال میں بہت کم اختلاف ہوگا اور اگر مسٹر رامزے میکڈانلڈ نے فی الحال محصولِ سرمایہ داری اور دوسری اشتراکی تدابیر کو معرض التوا میں ڈال کر اپنی ساری توجہ خارجہ حکمت عملی کی ترمیم و اصلاح میں لگا دی تو ممکن ہے حکومت برطانیہ کا اعتماد ازسر نو قایم ہو جائے اور تجارت و صنعت کی نئی نئی راہیں نکل آئیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ انگلستان میں مزدوروں اور کاریگروں کی قدر و وقعت بہت بڑھ جائے گی اور مسٹر میکڈانلڈ کی حیثیت پہلے سے بہت زیادہ مستحکم و استوار ہو جائے گی۔ اس کے بعد اگر حزب العمال نے بعض اشتراکی اصول رایج کرنے کی کوشش کی تو سہولت رہے گی لیکن اگر آغاز کار ہی میں سرمایہ داری کیخلاف کوئی تدبیر اختیار کی گئی تو لبرل اور قدامت پسند دونوں جماعتیں بدک اٹھیں گی اور حزب العمال نے جو مقاصدِ حالت سوچ رکھے ہیں ان کی تکمیل محال ہو جائے گی۔ مسٹر رامزے میکڈانلڈ کی قابلیت، متانت، دانش مندی اور اعتدال پسندی سے ہمیں امید ہے کہ وہ نہایت ثبات و استقلال سے لبرلوں کو اپنے ساتھ ملا کر سب سے پہلے خارجہ معاملات پرتوجہ مبذول فرمائیں گے۔
بہرحال انگلستان کی پارلیمنٹ میں جماعتوں کی ترتیب اور ان کا اشتراک عمل حالت موجودہ میں نہایت عجیب و غریب ہے اور جن لوگوں کو سیاسیات میں شغف ہے ان کیلئے اس پارلیمنٹ کی آیندہ کارروائی بہت قیمتی مطالعہ کی چیز ہوگی۔ ہم اہل ہند کو پھر ایک دفعہ متنبہ کر دینا چاہتے ہیںکہ انہیں حزب العمال کی حکومت سے کسی قسم کی امید نہ رکھنی چاہئے۔ ہندوستان صرف اپنے فرزندوں کی جدوجہد اور ایثار و قربانی ہی سے آزاد ہو سکتا ہے۔ انگلستان میں حزب العمال تو درکنار اگر کمیونسٹ حکومت بھی ہو جائے تو وہ بھی خود بخود ہندوستان کو کبھی آزاد کرنے کی نہیں تاوقتیکہ ہندوستان اپنی خواہش آزادی کا پورا پورا ثبوت مہیا نہ کر دے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مہاتما جی کا پیغام
رئیس الاحرار مولانا محمد علی، رئیس جمعیۃ وطنیہ ہند نے دہلی کے اجلاس خاص میں کونسلوں کے داخلے کے متعلق مفاہمت کی قرارداد پیش کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ مجھے مہاتما جی کی طرف سے خاص لاسلکی بلکہ روحانی ذریعہ سے یہ پیغام موصول ہوا ہے کہ اگر حالات میں تغیر ہو گیا ہے تو نظام کار میں ضروری اور مناسب تغیر کر لیا جائے۔ اب مسٹر شاستری نے سیسون ہسپتال میں مہاتما جی سے ملاقات کرنے کے بعد جو بیان جراید میں اشاعت کیلئے بھیجا تھا اس میں درج تھا کہ مسٹر شاستری نے مہاتما جی سے عرض کیا کہ اہل وطن کے نام کوئی پیغام دے دیجئے۔ مہاتما جی نے فرمایا کہ میں اسیر ہوں اس لئے قواعد و ضوابط اسیری کی پابندی ضروری ہے اور میں کوئی پیغام نہیں دے سکتا۔ مسٹر شاستری نے عرض کیا کہ آپ نے پہلے مولانا محمد علی کو ایک پیغام دیا تھا۔ مہاتما جی نے اس پر حیرت ظاہر فرمائی اور کہا کہ میں نے کوئی پیغام نہیں دیا۔ مسٹر شاستری کے اس بیان کے بعد رئیس الاحرار مولانا محمد علی کی اجلاس خاص والی تقریر کے اس حصے پر رد و کد شروع ہو گئی جو مہاتما جی کے پیغام سے متعلق تھا۔ بعض ہندو معاصرین نے جن کا شیوہ ہی کسی نہ کسی مسلمان رہنما پر الزام عاید کرنے کے مواقع تلاش کرتے رہنا ہے نہایت افسوسناک انداز میں اس معاملہ پر بحث کی۔ اب حضرت رئیس الاحرار نے تمام واقعات کا صاف صاف انکشاف فرما دیا ہے۔ ان کے طویل بیان کا ملخص یہ ہے کہ قید سے رہائی کے بعد اور دہلی کے اجلاس خاص سے بہت قلیل عرصہ پہلے میری ملاقات مہاتما جی کے صاحبزادے شری دیو داس گاندھی سے ہوئی تھی۔ اس ملاقات کے دوران میں نے کونسلوں کے داخلے کی حامی جماعت کے خلاف غم و غصہ کا اظہار کیا تھا۔ منجملہ دوسرے دلائل کے میری ایک دلیل مخالفت یہ بھی تھی کہ ہمارا سردار قید ہے اور مقاطعہ سہ گانہ کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار نہیں کر سکتا۔شری یت دیو داس جی اس ملاقات کے بعد مہاتما جی سے ملاقات کرنے کیلئے سیدھے یرودہ چلے گئے۔ یرودہ سے واپسی پر شری یت دیو داس جی سے مہاتما جی کی صحت و مشاغل کے متعلق میری باتیں ہوئیں۔ مجھے یہ بھی معلوم ہوا کہ شری یت دیو داس جی نے میری پہلی ملاقات کا مفاد بھی مہاتما جی کی خدمت میں پیش کر دیا تھا۔     (جاری ہے)