امریکا ، بھارت ، افغانستان تعلقات اورمضمرات امریکا ، بھارت ، افغانستان تعلقات اورمضمرات

تاریخ گواہ ہے کہ امریکا نے مسلمانوں کی کبھی مدد نہیں کی بلکہ اپنے مفادات کی خاطر مسلم ممالک کے ساتھ تعلقات کو فروغ دیا۔ جب 1965کی جنگ ہوئی تو بھارت نے پاکستان پر حملہ کردیا تو امریکا نے ہتھیاروں پر پابندیاں عائد کر دیں۔ 1971 کی جنگ میں پاکستانی امریکا کے چھٹے بحری بیڑے کا انتظار ہی کرتے رہے۔
جب 1979 میںروس نے افغانستان پر جارحیت کی تو امریکا نے اپنے مفاد کی خاطر لاکھوں افغان مہاجرین کو پاکستان کے حوالے کر دیا۔ جس کے بعد پاکستان کی معیشت پر پڑنے والے برے اثرات کے نتائج آج تک قوم بھگت رہی ہے۔
جب پاکستان نے بھارت کے مقابلے میں ایٹمی دھماکوں کا پروگرام بنایا تو امریکا نے ڈالروں کا لالچ دے کر حکومت کو دھماکوں سے باز رکھنے کی سر توڑ کوشش کی لیکن پاکستانی قوم اور ہماری بہادر افواج کے جوش و جذبے کے سامنے امریکا کو سرنگوں ہونا پڑا۔ جس کے بعد پاکستان نے ایٹمی دھماکے کرکے دنیا کو باور کر ا دیا کہ پاکستانی قوم کسی سے پیچھے نہیں۔
ایٹمی دھماکوں اور نائن الیون کے بعد تو امریکا نے پاکستان پر طرح طرح کی پابندیاں لگا کر ہمیں کمزور کرنے کی سرتوڑ کوشش کی لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے وہ ہمیں تنہا کرنے میں ناکام رہا۔ جہاں تک امریکا کے دہرے معیار کا تعلق ہے کہ بھارت ایران سے سستے داموں پٹرول درآمد کر رہاہے جس کے لیے امریکا نے پابندیوں میں نرمی کر رکھی ہے لیکن جب پاک ایران گیس پائپ لائن کا معاملہ آتا ہے تو امریکا کو پابندیاں یاد آجاتی ہیں۔ 
تازہ ترین خبروں کے مطابق امریکا نے بھارت کو لڑاکا جہاز اور ڈرونز میزائل دینے کا فیصلہ کیا جن میں جدید ترین لڑاکا ایف  18اور ایف 21شامل ہیںجس سے امریکا کی دوغلی پالیسی کھل کر سامنے آجاتی ہے۔ 
پاکستان ایک آزاد ملک ہے ۔ہمارے حکمرانوں کو بھی ہوش کے ناخن لینے چاہئیں۔ہمیں بہرصورت امریکا کی غلامی سے آزاد ہونا ہے، ہمیں یاد ہے، مرحوم بھٹو نے کہا تھا کہ ہم گھاس کھا لیں گے لیکن ایٹمی پروگرام جاری رکھیں گے۔ پھر ایک وقت آیا جب ہمارا ملک ایٹمی پاور بن گیا ۔ 
بادی النظر میں اگر بھارت کے مقابلے میں پاکستان پر پابندیوں کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ امریکا بھارت گٹھ جوڑ نے ہمیں کمزور کرنے کی  ہر موڑ پر کوشش کی لیکن بہادر فوج کے سامنے وہ ہمیشہ بے بس دکھائی دیے۔ اس وقت بھارت ، امریکا اور افغانستان کا آپس میں مضبوط تعلق ہے جس کی وجہ سے بھارت افغان حکومت کی مدد سے ہمارے ہاں دہشت گردی کرا رہا ہے۔ جس کا ثبوت وزیرستان کے حالیہ دو واقعات ، اسی سلسلے کی کڑی ہیں جس میں فوج کے سپاہیوں سے لے کر اعلیٰ افسران نے بھی سرحدوں کی حفاظت کرتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔ اسی طرح جب سے پاک افغان بارڈر پر باڑ لگانے کا کام شروع ہوا ہے، اس سے بھارت افغانستان کے علاوہ امریکا کو بھی خاصی تکلیف ہے کیونکہ باڑ لگنے کے بعد ان تینوں ممالک کے خواب چکنا چور ہو جائیں گے۔ 
پاک افغان بارڈر پر باڑ لگانے کے لیے افواج پاکستان کے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ کی کاوشیں قابل تعریف ہیں۔ پاکستان آرمی کی چوکی پر حملہ کرنے پرفاٹا کے دو ارکان اسمبلی کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے جو اس بات کا بین ثبوت ہے کہ ان ارکان اسمبلی کا بھی دشمن ملکوں کے ساتھ خاصا تعلق تھا۔ 
جب قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ان کے خلاف مقدمات درج کر لیے ہیں تو پیپلز پارٹی کے بلاول بھٹو زرداری انہیں قومی اسمبلی کے اجلاس میں بلانے کے لیے ان کے پروڈکشن آرڈر جاری کرانے پر مصر ہیں۔
  حیرت اس بات کی ہے کہ جب ایک رکن اسمبلی کھل کر ملکی اداروں کے خلاف میدان میں اتر آئے ہیں تو کیا ایسے میں اس طرح کے ملک دشمن لوگوں کو اسمبلی اجلاس میں بلایا جا سکتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے بعض سیاست دانوں نے ہمیشہ ملکی مفاد کو پس پشت ڈالتے ہوئے سیاست چمکانے کی کوشش کی ہے۔ 
ایک وقت تھا جب دہشت گرد سوات اور دوسرے علاقوں میں دندناتے پھرتے تھے لیکن افواج نے ملک دشمن عناصر کو مار بھگایا اور عوام کو سکون کی زندگی دی۔ اس لیے دفاع پاکستان میں افواج پاکستان کی جتنی بھی توصیف کی جائے کم ہے۔ جہاں تک افغان مہاجرین کی وطن واپسی کا تعلق ہے، اس کی میعاد30جون کو ختم ہو رہی ہے۔ خبروں کے مطابق کے پی کے حکومت نے مہاجرین کی مزید میزبانی کی ذمے داری سے معذرت کر لی ہے اور فاقی حکومت سے کہا ہے کہ افغان مہاجرین کی ان کے وطن واپسی کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ 
ان حالات میں پاکستان میں ہونے والی اسلامی سربراہی کانفرنس کی قراردادوں پر من و عن عمل درآمد ہو جاتا تو آج ایک مضبوط اسلامی بلاک ہوتا جس کے ہوتے ہوئے کوئی بھی ملک کسی اسلامی ملک پر نہ تو جارحیت کر سکتا اور نہ ہی پابندیاں لگا سکتا ۔تاہم اب وقت آگیا ہے کہ تمام اسلامی ملک باہم مل کر مشترکہ فوج بنائیں اور مسلمان ملک آپس میں ایک کرنسی میں تجارت کو یقینی بنائیں تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم اغیار کے نرغے سے نہ نکل سکیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ مسلمان ایک مرتبہ پھر دنیا میں حکمرانی کر سکیں (آمین)