18 اگست 2019
تازہ ترین

امریکا اورچین کی پاکستان دوستی امریکا اورچین کی پاکستان دوستی

 حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے حکمرانوں سے لے کر عوام تک جب پاک چین دوستی کا ذکر کرتے ہیں توسب پر ایک جذباتی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ یہاں تک کہ شعر وشاعری پر اتر آتے ہیں۔ اس دوستی کو ہمالیہ سے بلند اور سمندر سے گہری قرار دیتے ہیں۔ یہ قصہ سناتے ہوئے بھی بڑا فخر محسوس کرتے ہیں کہ ستر کی دہائی میںپنجاب کے وزیر اعلیٰ ملک معراج خالد کے دورئہ چین کے دوران جب انہوں نے چین کے نظم و نسق‘ سیکیورٹی اور صفائی کے انتہائی اطمینان بخش انتظامات کی وجہ پوچھی تو مائوزے تنگ کا جواب تھا:While you read  the Quran  we follow it.’’آپ قرآن پڑھتے ہیں اور ہم اس کی پیروی کرتے ہیں۔‘‘
اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ پچاس کی دہائی بلکہ 60 کی دہائی کے آغاز تک جب چین کو کوئی پوچھتا نہیں تھا اور کوئی جانتا نہیں تھا،ہم نے دنیا سے چین کا تعارف کرایا۔ چین امریکا تعلقات کے آغاز کا سہرا بھی پاکستان کے سر باندھا جا سکتا ہے۔ چین کی ترقی وہاں کے انتظام و انصرام اور چینیوں کی محنت اور جفاکشی کے قصے ہم نے بڑھ چڑھ کر ایک دوسرے کو سنائے، لیکن کبھی اس سے کوئی سبق حاصل کرنے کی کوشش نہ کی۔ہمارے لیڈروں نے چین کے بہت سے سرکاری دورے کیے اور چینی لیڈروں کی عظمت کے بہت گن گائے ،لیکن کبھی اپنے گریبان میں منہ نہ ڈالا۔ صدر آصف زرداری نے چین کے سب سے زیادہ دورے کرنے کا ریکارڈ قائم کیا لیکن اس کے باوجود انہوں نے جو دوسرے بہت سے ریکارڈ قائم کیے ہم ان کا ذکر کرکے قارئین کا موڈ خراب نہیں کرنا چاہتے۔ دوسرے ممالک سے تعلقات کے حوالے سے چین کا طرزِعمل انتہائی قابل قدر اور قابل تحسین ہے۔ وہ دوست ممالک کو اچھا اور مخلصانہ مشورہ دیتا ہے، لیکن اصرار نہیں کرتا اور دبائو نہیں ڈالتا اور دوست ممالک کے اندرونی معاملات اور حالات میں کسی قسم کی مداخلت نہیں کرتا۔ وہ اصولوں کی بنیاد پر دوستی قائم کرتا ہے۔ کسی کی دوستی کی خاطر کسی دوسرے سے دشمنی نہیں کرتا۔ 
ماضی میں چین نے پاکستان کو بہت سے مشوروں سے نوازا، لیکن ہم نے ان مشوروں کا کیا حشر کیا یہ ایک زوال پذیر قوم کی افسوسناک کہانی ہے۔ ان میں ایک جارحانہ اور باقی مدافعانہ رویہ اختیار کرنے کے مشور ے تھے لیکن ہم نے سب سے ایک جیسا سلوک کیا۔ 1962ء میں جب ہند چین سرحدی جھڑپیں شروع ہوئیں تو ایک رات 2بجے چینی سفیر نے ایوب خان کے پرنسپل سیکریٹری قدرت اللہ شہاب کا دروازہ کھٹکھٹایا ۔ چینی سفیر نے ان سے کہا کہ بھارت کشمیر سے تمام فوجیں نکال کر ہماری سرحد پر لے آیا ہے۔ آپ کے لیے سنہری موقع ہے کہ آپ کوکشمیر میں اس وقت واک اوور مل سکتا ہے، کوئی مزاحمت نہیں ہو گی۔ قدرت اللہ شہاب نے کہا آپ کو یہ مشورہ وزیر خارجہ کے ذریعے ایوب خان تک پہنچانا چاہیے۔ چینی سفیر کی فراست اور پاکستان کے اندرونی حالات سے آگاہی کا اندازہ کریں۔ اس نے کہا، نہیں، ہم جانتے ہیں صدر سے جو قرب آپ کو حاصل ہے وہ وزیر خارجہ کو نہیں ہے۔ قدرت اللہ شہاب رات کے اندھیرے میں ایوب خان کے پاس پہنچے، لیکن انہوں نے جس بے دردی سے اس مشورے کو مسترد کیا یہ ایک دل فگار کہانی ہے ۔ بہرحال ایوب خان نے چین کا مشورہ رد کر دیا۔ اس کی وجہ اس کے سوا کیا ہو سکتی ہے کہ بھارت امریکا کے ذریعے ایوب خان سے پہلے ہی یقین دہانی حاصل کر چکا ہوگا کہ پاکستان ایسا ہرگز نہیں کرے گا۔ شنید یہ ہے کہ امریکا نے پاکستان کو یقین دہانی کرائی تھی کہ بھارت اور چین کی جنگ کے بعد وہ کشمیر پر پاک بھارت مذاکرات کرائے گا اور اس حوالے سے پاکستان کی مدد کرے گا۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکا اور بھارت میں پاکستان کو ڈیل کرنے کے حوالے سے کتنی ذہنی ہم آہنگی اور قرب تھا۔
چین کے اخلاص اور حقیقی دوستی کے مظاہرے کے ساتھ قارئین یہ نوٹ کرتے چلے جائیں کہ امریکا نے کتنی بار ہمارے مفادات اور ہماری سلامتی کو ڈسا۔ 1965ء کی پاک بھارت جنگ میں پاکستان نے چین سے فوجی امداد کی درخواست کی، خاص طور پر لڑاکا طیارے مانگے۔ چین نے یہ درخواست قبول کر لی لیکن ساتھ ہی دریافت کیا کہ آپ کتنی طویل جنگ لڑ سکتے ہیں۔     (جاری ہے)