23 جولائی 2019
تازہ ترین

امریکا اور امت مسلمہ… امریکا اور امت مسلمہ…

ہم امریکا کو کتنا ہی بُرا بھلا کیوں نہ کہیں، اس سے انکار نہیں کرسکتے کہ وہ اس وقت دنیا کی عظیم ترین قوت ہے اور عسکری قوت اور سائنس و ٹیکنالوجی میں بے مہار ترقی نے اسے ناقابل تسخیر بنادیا ہے۔ وہ اکثر معاملات میں دنیا کو ڈکٹیٹ کرتا اور اپنی مرضی مسلط کرتا ہے۔ ہماری امریکا سے نفرت معقول جواز رکھتی ہے۔ برطانیہ کا زوال پذیر ہونا اور امریکا کا عروج تاریخ میں ساتھ ساتھ نظر آتا ہے۔ امریکا ہر اُس قوت کو برباد کرتا آیا ہے، جس سے اُسے خطرہ ہو۔
امریکا کو چین کی ابھرتی ہوئی قوت اور زوال پذیر امت مسلمہ کو ٹھکانے لگانا تھا۔ ظاہری اور عقلی سطح پر امریکا کو اپنی عالمی بادشاہت کو دوام دینے کے لیے پہلے ترقی پذیر قوت کو کچلنا چاہیے تھا جب کہ زوال پذیر امت مسلمہ کاخاص نوٹس نہیں لینا چاہیے تھا، لیکن امریکا نے جو اسٹرٹیجی اختیار کی، وہ صاف ظاہر کررہی ہے کہ وہ پہلے امت مسلمہ سے نمٹنا چاہتا ہے۔ ہماری رائے میں دشمنی کے حوالے سے امت مسلمہ کو امریکا کا چین پر ترجیح دینا سمجھ آنے والی بات ہے۔ اگرچہ امت مسلمہ اس وقت عملاً بدترین صورت حال سے دوچار ہے لیکن اس کے پاس ایک ایسا عادلانہ نظام ہے کہ جوں ہی مسلمانوں نے ہوش سنبھالا اور صحیح، حقیقی اور عملی مسلمان بن کر اپنے اس نظام کو اپنالیا تو وہ دشمن کو نیست و نابود کرنے کی صلاحیت حیرت انگیز حد تک جلد حاصل کرلیں گے جب کہ چین کی قوت محض اس قوم کے خلوص اور بے پایاں محنت کی وجہ سے ہے۔ 
امریکا کو چین کی بڑھتی قوت سے یقیناً خطرہ ہے، اسی لیے وہ اس کا گھیرائو کرنے کی پالیسیاں ترتیب دیتا رہتا ہے، لیکن اسے اپنے سرمایہ پرستانہ نظام کو چین کے نظام سے کوئی خطرہ محسوس نہیں ہوتا، اسی لیے طاقت ور دشمن ہونے کے باوجود امریکا نے اسے اپنی دشمنی میں دوسری ترجیح میں رکھا ہے اور زوال پذیر امت مسلمہ کو نمبرون دشمن کے طور پر ڈیل کررہا ہے۔ مسلمان ممالک کے خلاف اس نے ایک خاص سٹرٹیجی اپنائی ہے۔ وہ divide and ruleکے انگریزی اصول کو اپنائے ہوئے ہے۔ وہ مسلمانوں کو گروہوں میں تقسیم کر کے ایک دوسرے سے لڑاتا ہے۔ کبھی ایک کا مددگار بن کر سامنے آتا اور کبھی دوسرے کی حمایت کرتا نظر آتا ہے۔
افغانستان، عراق اور لیبیا پر حملہ آور ہونے اور انہیں تباہ کرنے کے لیے اس نے مختلف عذرات گھڑے اور وہاں ایسی صور ت حال پیدا کردی کہ وہاں مسلمان مسلمان کوقتل کررہا ہے۔ پھر وہ کسی ایک مسلمان گروہ کی اتنی زوردار اور مکمل حمایت نہیں کرتا کہ وہ دوسرے گروہ کو ختم کرکے اپنے ملک کے لیے کچھ کرسکے۔ شام میں وہ ظاہراً بشارالاسد کی شدید مخالفت کررہا ہے لیکن اس کی حکومت فوری ختم نہیں کرنا چاہتا، تاکہ فریقین جنگ جاری رکھیں اور دونوںکمزور ہوں اور جو گروہ بالآخر کامیاب ہو، وہ اس قدر کمزور ہوچکا ہو کہ امریکا کے احکامات کی نفی کرنا اس کے لیے ممکن نہ رہے۔ مصر میں بھی پہلے وہ اخوان کے راستے میں حائل نہیں ہوا اور انہیں حکومت بنانے دی، پھر جلد مصر کے سیکولر عناصر کے ساتھ سازباز کرکے اخوان کی حکومت کو گرادیا۔ اب وہاں باہمی انتشار اور جھگڑے کو ہوا دے رہا ہے۔  ہماری رائے میں دنیا کے کسی خطے کے مسلمانوں کا کوئی ملک یا گروہ یہ سمجھتا ہے کہ امریکا اس کا دوست ہے تو آسمان کے نیچے اور زمین کے اوپر اس سے بڑی احمقانہ سوچ کوئی نہ ہوگی۔ اگر کوئی مسلمان ملک یا گروہ یہ سمجھتا ہے کہ امریکا نے فلاں فلاں مسلمان ملک یا گروہ کو تو تباہ و برباد کردیا، ہمارا وہ کچھ نہیں بگاڑے گا، کیونکہ ہم اس کے احکامات کی تعمیل کرتے ہیں اور اس کی عالمی بادشاہت کو قبول کرچکے ہیں تو یہ بھی بڑی غلط فہمی ہے جو جلد دُور ہوجائے گی۔ 
خدارا مسلمان ممالک ایک جسد واحد بنیں اور اس عادلانہ نظام کو اپنائیں جو انہیں قوت بننے اور ترقی دینے کا واحد ذریعہ ہے۔ غور کریں، مسلمان پہلے سے کہیں زیادہ حج کرتے ہیں۔ مسجدیں بھی خوبصورت ہوگئی ہیں اور ان کی رونقیں بھی بڑھ گئی ہیں۔ اربوں اور کھربوں روپوں کی زکوٰۃ بھی دی جارہی ہے ۔ رمضان کا کتنا جوشیلا اور جذباتی استقبال ہوتا ہے، لیکن اس کے باوجود رسوائی آخری حدوں کو چھورہی ہے۔ اللہ اور اس کے رسولﷺ حق ہیں اور صرف وہی حق ہیں، پھر ہم میں کہیں نہ کہیں ایسی کمی یقیناً ہے کہ اللہ کی مدد حاصل نہیں ہورہی۔ یقین کیجیے کہ وہ کمی صرف یہ ہے ہم نے اللہ کے دیے اور رسولﷺ کے لائے ہوئے نظام عدل اجتماعی کو قائم نہیں کیا۔ لہٰذا دنیا ہم پر اس طرح ٹوٹ پڑی جیسے بھوکے کھانے پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ ہم یہ نکتہ سمجھنے کو تیار نہیں، اگرچہ اللہ کے رسولﷺ ہمیں قبل ازوقت حتمی انداز میں سمجھا چکے ہیں۔ اﷲ تعالیٰ ہمیں دین کی روح اور دین کے حقیقی تقاضوں کو سمجھنے کی توفیق دے۔ (آمین)۔