09 اپریل 2020
تازہ ترین

اُمید کا دامن اُمید کا دامن

بے یقینیاں اور اندیشے ہمارا احاطہ کیے ہوئے ہیں... ماضی اور حال کی بے یقینیاں اور مستقبل کے اندیشے ہمیں چین نہیں لینے دیتے... نہ ہم ماضی میں خوش تھے... نہ حال میں راضی... نہ مستقبل کے لئے پُر امید.. نہ یاس دم توڑتی ہے نہ آس ختم ہوتی ہے.... آس ... آرزوؤں کی فوری تکمیل کی حسرت! ... ہمارے ماضی کے لبادے میں ناشکری کے کانٹے جَڑے ہوئے ہیں... ہمارے حال میں بے چینیوں کا غُل ہے اور ہمارا مستقبل ہمارے اچھے خیالات سے محروم... چھوٹا بے چین ہے کہ وہ بڑوں کی ماننا نہیں چاہتا... اور بڑا بے چین ہے کہ چھوٹے نہیں مانتے.... بڑے چھوٹوں کی ماننے کے لیے راضی نہیں اور چھوٹے بڑوں کی.! فی زمانہ ہم اعتراف سے دور ہیں۔ کسی کی کوششوں کا اعتراف! کسی کی محبت کا اعتراف! کسی سے پیار کا اعتراف! ہم فطرت کے شاہکار ہیں... ہم اشرف المخلوقات ہیں... ہمارا رویہ اشرف، ہمارا خیال اشرف، ہمارا کلام اشرف ہو تو یہی خوبصورتی ہے... ہمیں شکر ادا کرنا چاہیے بندے کا بھی معبود کا بھی.... معبود کا شکر کہ اس نے پریشانی کے حل کا وسیلہ بنایا، مشکل ماضی سے نکل کر حال میں آنے کا وسیلہ بنایا.... لیکن ہم شکر ادا نہیں کرتے اور حال میں بھی بے چین ہو جاتے ہیں... ہمارے اشرف منصب پہ ہوتے ہوئے ہماری منصبیت کا حسن یہی ہے کہ ہم شکر ادا کریں ان کا بھی جو معبود کے بندے ہیں... خواہ وہ چھوٹا سا بچہ ہی کیوں نہ ہو! مخلوق میں شکر کے لیے عمر کا خیال نہ رکھنے سے آپ کو بڑائی ملتی ہے... اور یہی ہماری منصبیت کا شکر بھی ہے.... ہمارے ماضی کے ناگوار حالات جو حال کے حالات کو پریشان کریں انہیں شکر سے ہی حل کیا جا سکتا ہے.... ہمارا حال ہمارا ہمارے خالق کی رضا میں راضی رہنے میں مضمر ہے.... ہمارے حال کی پریشانیوں کا ایک سبب ہمارے مستقبل کے حوالے سے ہمارے پریشان خیالات بھی ہیں... ہمارے اطراف میں، ہمارے ماحول میں، ہمارے ملک میں ہمارے حالات ہمیں بے یقینی کے سنسان جنگلوں میں گم کر جاتے ہیں... 
وہاں اگر روشنی ہے تو ایک یقین کی روشنی ہے... امید کی کرن ہے... جو ہمیں راہ دیتی ہے... امید..! امید کیا ہے..؟ واصف صاحب فرماتے ہیں کہ: ’’امید کسی واقعے کا نام نہیں یہ مزاج کی ایک حالت کا نام ہے.. فطرت کے مہربان ہونے پر یقین رکھنے کا نام امید ہے‘‘۔ ہمارے خیالات کی اصلاح ہمیں اندیشوں سے بچا سکتی ہے.. ہمارا یقین ہمارے حالات ٹھیک کرے گا واصف صاحب کہتے ہیں کہ پریشانی حالات سے نہیں خیالات سے ہوتی ہے... ہم امید کی چادر اوڑھ لیں تو پتا چلے گا کہ سب معاملات اپنے ہی اندر اپنا حل لیے ہوئے ہیں... حضرت واصف علی واصف رحمتہ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں کہ اس شخص سے دور رہو جس کا حال پریشان ہے.. حال کس کا پریشان ہے جس کا خیال پریشان ہے..؟ ہماری بے یقینی سے توہمات ہمارے لیے ناقابلِ حل مسائل کا سبب بنتے ہیں... اور یہی ہمارا حال بھی پریشان کر دیتے ہیں اور ہمارے حالات بھی.... ہمیں اندیشوں کے اندھیروں میں امید کے چراغ روشن کرنے چاہئیں... بلاشبہ تب ہی ہمیں سکون ملے گا... زمانے کے حالات میں تغیر کا آنا لازمی ہے.... حالات بدلتے رہتے ہیں... ۜمشکلات کے بادل چھٹ جانے کے لیے ہوتے 
ہیں... بیماریاں اور بلائیں ٹل جانے کے لیے ہوتی ہیں... ہماری ناکامی کا تعلق غریبی کے ساتھ نہیں ہے... ہماری ناکامی تب ہے جب ہم پریشانی کے بجائے خندہ پیشانی سے دور ہو جائیں.. ہمارے حال میں امید کے دیے جلتے رہیں گے تو سکون ہو گا اور ہمارا ماحول بھی بے چینی سے دور ہو گا.... حالات کی تبدیلیوں سے گھبرایا نہیں کرتے! ہمارے اخبارات ایک دن خوشیوں کی خبروں کی کلیوں سے ضرور سجا کریں گے.... لیکن اس کے لیے ہمیں بھی اپنی زندگی میں، اپنی حیات میں امید کے چراغ جلانا پڑیں گے یقین کی کیاریاں بن گئیں اور ان پہ حسنِ خیالات سے آبیاری ہوئی تو اس کی خوشبو سے ضرور میرے وطن کی فضا مہک سکے گی.... ہمیں اپنے طور پر کوشش کرتے رہنا چاہیے.... امید کے چراغ مستقبل میں روشنی کریں گے.... ہمارے حالات ہمارے منتظر ہیں... ہم بدل گئے تو ایک نسل بدل جائے گی... کوشش کرتے رہنے سے زمانے بدل جائیں گے... آپ بس یہ یقین رکھیں کہ فطرت مہربان ہو گی... ضرور مہربانی ہو گی... ہمارے خیال بدل گئے ہمارے حالات ضرور بدل جائیں گے... یاد رکھیے وقت بدلنے میں وقت نہیں لگا کرتا... فضل کی بارش برسنے میں دیر نہیں لگا کر تی ... یہ واقعات لمحوں میں ہو جایا کرتے ہیں... آپ بس یقین رکھیے..!!