25 جون 2019

ایٹمی تباہی کا خوف، معاشی ہتھیار ایٹمی تباہی کا خوف، معاشی ہتھیار

تاریخ سے ظالم اور سفاک کوئی بھی مضمون نہیں، اس کو پڑھنے اور جاننے کو بہت کم طالب علم میدان میں آتے ہیں۔ یہ انسانی ذہن کو متاثر بھی کرتا ہے، حال کو ماضی کی بازگشت میں دیکھتا، سنتا ہوا مستقبل کی راہیں استوار کرتا ہے۔ اسی لیے وہ تجزیہ کار حیرت اور خوف بلکہ ماضی کی حیرت اور مستقبل کے خوف میں مبتلا رہتا ہے۔ ہماری حالت بھی ایسے ہی طالب علم جیسی ہے۔
ماضی کیا تھا، حال کیا ہے؟ مستقبل کیا ہو گا، ذہن اسی گرفت میں ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد کرہ ارض کے نقشے پر کئی لکیریں معدوم ہوئیں تو کئی نئی لکیروں نے جنم لیا۔ برصغیر کی تقسیم بھی دوسری جنگ عظیم کے مابعد اثرات کا نتیجہ تھا جس کو سیاست، حکومت اور ریاست نے اپنی ترجیحات کا نام دے لیا اور پھر اس خطے کے دو ممالک کو بین الاقوامی تقاضوں کے مطابق ایک دوسرے کے بالمقابل کھڑا کیا گیا تو اس میں سے ایک نیا ملک دریافت ہوا، دونوں کی علیحدہ علیحدہ ترجیحات مرتب ہوئیں۔
ویسے تاریخ کی صداقت تو یہ بھی ہے کہ ہر جنگ کا مقصد وسائل پر قبضہ اور تسلط ہوتا ہے۔ چنانچہ جنگی طاقتوں کا اگلا محاذ افغانستان اور وسطی ایشیائی ریاستیں ٹھہریں۔ چنانچہ فریقین طے ہوئے، دھڑے بندی ہوئی، پاکستان کا مرکزی کردار طے ہوا، فرنٹ لائن اسٹیٹ بنائی گئی۔ حکمران طبقات کو طاقت اور دولت فراہم کی گئی۔ پالیسی سازی میں ریاست اور مذہب کے اشتراک عمل کو سیاست کا حصہ بنایا گیا۔ عالمی جنگی مافیا تو کامیاب ہوا لیکن جنرل ضیاء الحق یہ کہتے ہوئے سنائی دیے کہ کوئلوں کی دلالی میں ہمیں کچھ حاصل نہیں ہوا اور پھر ان کا انجام وہی ہوا جو اس طرح کے کاموں میں ہوتا ہے۔ ماضی کی اس بازگشت میں ہمیں تو آج کے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا مستقبل بھی کچھ ایسا ہی نظر آتا ہے۔ بلاشبہ آج اس کی حالت:
’’بنا ہے شاہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا‘‘
والی ہے۔ لیکن یقیناً کہیں نہ کہیں ان کے ذہن میں یہ بھی ہو گا کہ ان کی صف بندی کیلئے ’’نہرو فیملی‘‘ اور اس کی سیاست کا خاتمہ ضروری تھا۔ اسی طرح پاکستان میں ’’تبدیلی‘‘ کیلئے پہلے مرحلے میں بھٹوز اور اب شریف فیملی کو پس منظر میں دھکیلنا اشد ضرورت تھا۔ معروض تبدیل بھی ہو سکتا ہے بلکہ جس تیزی سے علاقائی، معاشی اور سیاسی تبدیلی میں پیش رفت ہو رہی ہے اس میں اب کہیں بھی کوئی رکاوٹ برداشت نہیں ہو گی، وقت کم اور مقابلہ سخت ہے۔ ویسے بھی عالمی بساط پر مہرے صرف استعمال کرنے کو ہوتے ہیں، وہ اس وقت تک آنکھوں کا تارا ہوتے ہیں جب تک ان کا کردار لازم ہوتا ہے۔ پھر:
وہی ہوتا ہے جو منظور خدا ہوتا ہے
ماضی، ماضی ہو جاتا ہے اور مستقبل کی پیشرفت پہلے سے بھی تیز ہو جاتی ہے۔
بہرحال دوستو! برصغیر گزشتہ سال بدترین جنگ کی لپیٹ میں رہا ہے، بھارت اور پاکستان دونوں ہتھیار پکڑ کر ایک دوسرے کے بالمقابل کھڑے رہے، جو محض پیادوں کی اچھل کود تھی ورنہ کیسی جنگ اور کیسی اس کی برداشت۔ تباہی سے سب خوفزدہ تھے، ہزاروں، اربوں، کھربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے پلک جھپکنے میں غرق ہونے کا خدشہ تھا۔
انسان تو ہوتے ہی مرنے کیلئے ہیں۔ جنگوںمیں جتنے زیادہ انسان مرتے ہیں، کامیابی اتنی ہی زیادہ قریب ہوتی ہے۔ اس کے باوجود انسانی ہلاکتوں کا واویلا ہوتا ہے، سب فریب نظر ہے۔ بہرحال یہ حقیقت ہے کہ بھارت اس وقت برصغیر میں معیشت کا ’’محبوب نظر‘‘ ہے، اس کی حفاظت لازم ہے۔ جنگ کے انتہائی خوفزدہ ماحول میں عالمی مافیا کے سرخیل ’’صدر ٹرمپ‘‘ نے کہا تھا مثبت خبریں آ رہی ہیں اور پھر بھارتی پائلٹ بھی جذبہ خیر سگالی کے تحت رہا ہو گیا اور مذاکرات مذاکرات کا شور بھی برپا ہوا۔ بھارت میں انتخابی عمل شروع ہوا تو ہمارے وزیراعظم نے نریندر مودی کی کامیابی کو ’’علاقائی امن‘‘ کیلئے ناگزیر قرار دے دیا۔ دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات کی اہمیت کو بھی نمایاں کیا۔ پھر فوری اندازوں کے عین مطابق  بھرپور اکثریت سے کامیاب ٹھہرے۔ تو اس کے ساتھ ہی دونوں ملکوں کے رہنماؤں کے درمیان ٹیلی فونک رابطے بھی ہوئے اور ملاقاتوںکا سلسلہ بھی شروع ہوا جس میں بہت جلد نئے نئے منظر دیکھنے کو ملیں گے اور ہم ایسے لوگ محض اپنا اپنا کردار ادا کریں گے۔ بہرحال جنگ کے خطرات ٹلنے اور اس کے امکانات روکنے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ برصغیر کی نئی تقسیم یا نقشہ بندی عالمی مافیا کیلئے سود مند نہیں۔ اگرچہ جنگ کی تباہی کے بعد نئی جنگ کی تیاری کیلئے ہتھیاروں کی خرید و فروخت تحفظ کیلئے بڑھ جاتی ہے لیکن دونوں بڑے ممالک تباہ کن ہتھیاروں کے معاملے میں ’’خود کفیل‘‘ ہیں بلکہ خود بھی عالمی مارکیٹ کا حصہ بن چکے ہیں۔ اسی لیے موجودہ نقشہ بندی کو ہی لے کر چلنے پر صاد ہے
 جسے یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ لکیروں میں تبدیلی یا پھر سرحدوں کی نئے سرے سے ترتیب عالمی اور علاقائی مافیا کیلئے موزوں نہیں۔ ان کی اپنی سیاسی اور معاشی، تہذیبی اور معاشرتی سلامتی خطرے میں ہے کیونکہ بدقسمتی ماضی کا حوالہ ہے۔ تقسیم ہوئی تو جغرافیہ کے ساتھ ہی تہذیبوں کو بھی تقسیم کر دیا گیا۔ یہ صرف برصغیر میں ہی نہیں مشرق وسطیٰ میں بھی ہوا جو وبال جان بنا ہوا ہے۔ چنانچہ اگر کوئی نئی نقشہ بندی ہوتی ہے تو پھر ردعمل میں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ وہ موجود بالادستوں کیلئے قابل قبول ہے اور نہ ہی قابل برداشت۔ یہ جو مزاحمتی تحریکیں ہیں جنہیں ’’آزادی‘‘ کا نام بھی دیا جاتا ہے وہ کہیں بھی ہوں محض ایک دوسرے کو دبانے اور اپنے مفادات کے تابع بنانے کیلئے ہیں۔ یہ بھی ایک ’’جنگی محاذ‘‘ ہے اور اس کا مقصد ایک دوسرے کی کمزوری کو مذاکرات کی میز پر لانا ہوتا ہے۔ مذاکرات میں صرف معاہدے ہوتے ہیں جن سے وقت کے مطابق انحراف کیا جاتا ہے پھر ان کی صدائیں فضاؤں میں یادگار کے طور پر سنائی دیتی ہیں۔ اور یہ جو آج کل فضاؤں میں آوازیں گردش کر رہی ہیں ان کا مقصد جغرافیائی نہیں معاشی نقشہ بندی ہے۔ اس میں جنگ اور اس کی تباہی کا خوف بھی ایک ہتھیار ہے۔